جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع ہو گیا۔
عن بريدة بن الحصيب رضي الله عنه أنه قال: بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ».
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "عصر کی نماز جلدی پڑھا کرو۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع ہو گیا۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر عصر کی نماز کو وقت سے مؤخر کرنے سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس نے ایسا کیا، اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔
فوائد
اول وقت میں عصر کی نماز پڑھنے کی ترغیب۔
عصر کی نماز چھوڑنے والے کے لیے بڑی سخت وعید آئی ہے۔ اس نماز کو وقت پر نہ بڑھنا دیگر نمازوں کو وقت پر نہ پڑھنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ وہی درمیانی نماز ہے، جس کے بارے میں خصوصی حکم اللہ تعالی کے اس قول میں دیا گیا ہے : "نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی۔" [سورہ بقرہ : 238]
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 115) (553).
مسند أحمد (38/ 152) (23045).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 56).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 777).
فيض القدير شرح الجامع الصغير (3/ 206).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 260).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص614).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com