سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قضائے حاجت کے آداب

13 احادیث

میں ایک دن حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر چڑھا، تو دیکھا کہ نبیﷺ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کرکے قضاے حاجت کر رہے ہیں۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: ((رَقيت يومًا على بيت حفصة، فرَأَيتُ النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم-يَقضِي حاجته مُسْتَقبِل الشام، مُسْتَدبِر الكعبة)). وفي رواية: ((مُسْتَقبِلا بَيتَ المَقدِس)) .
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک دن حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر چڑھا، تو دیکھا کہ نبیﷺ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کر کے قضاے حاجت کر رہے ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”بیت المقدس کی طرف منہ کر کے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن اپنی بہن اور نبی ﷺ کی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر آئے۔ جب گھر کی چھت پرچڑھے، تو نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ شام کی طرف رخ اور قبلے کی طرف پیٹھ کرکے قضاے حاجت کر رہے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے رد میں یہ حدیث سنائی، جن کا کہنا تھا کہ قضاے حاجت کے دوران بیت المقدس کی طرف رخ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لیے مولف نے دوسری روایت بھی ذکر کی جس میں "بیت المقدس کی طرف منہ کیے ہوئے" کے الفاظ ہیں۔ چنانچہ اگر انسان عمارت کے اندر قبلہ کی طرف منہ کرکے قضاے حاجت کر لے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، دار الميمان، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988. مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، عبيد الله بن محمد عبد السلام المباركفوري، إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الجامعة السلفية، بنارس الهند، الطبعة: الثالثة 1404هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ چنانچہ آپ ﷺ پانی سے استنجا کرتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کے خادم انس بن مالک بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ جایا کرتے، تو وہ اور ان کے ساتھ ایک اور لڑکا آپ ﷺ کی طہارت کے لیے پانی لایا کرتے، جس سے آپ ﷺ نجاست صاف کیا کرتے تھے۔ یہ پانی چمڑے سے بنے ایک چھوٹے سے برتن میں ہواکرتا تھا۔ اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپنے کے لیے ایک چھوٹی سی لاٹھی بھی لایا کرتے، جس کے ایک کنارے پر لوہے کا پھل لگا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ اسے زمین میں گاڑ کر اس پر کوئی چیز جیسے چادر وغیرہ ڈال دیاکرتے، جس سے آپ راہ گیروں کی نظروں سے محفوظ رہتے اور جب نماز کا ارادہ ہوتا، تو اسے بطور سترہ استعمال کرلیتے۔

حوالہ

صحيح البخاري (1/ 42) (152). صحيح مسلم (1/ 227) (271). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص40). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 43). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص84).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ». ولفظ مسلم: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے۔ اور جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھوں کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، کیوں کہ تم میں سے کسی کو نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے؟" صحیح مسلم کے الفاظ ہيں : "جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھ کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے، جب تک اسے تین بار نہ دھو لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طہارت کے بعض احکام بیان کیے ہیں۔ جیسے : 1- وضو کرنے والا اپنی ناک میں سانس کے ساتھ پانی اندر داخل کرے اور پھر سانس کے ساتھ ہی اسے باہر نکال دے۔ 2- جو شخص پیشاب پاخانے کے بعد پانی کی بجائے کسی اور چیز، جیسے پتھر اور ڈھیلوں وغیرہ کے ذریعے گندگی کو صاف کرنا چاہے، وہ پتھر اور ڈھیلوں کا استعمال طاق عدد میں کرے۔ کم سے کم تعداد تین ہو اور زیادہ سے زیادہ اتنی، جس سے پیشاب پاخانہ وغیرہ نکلنا بند ہو جائے اور نکلنے کی جگہ صاف ہو جائے۔ 3- جو شخص رات کے وقت سوکر اٹھے، وہ وضو کے لیے اپنا ہاتھ برتن کے اندر اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک اسے برتن سے باہر تین بار دھو نہ لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں گیا ہوگا۔ ایسے میں اس کے گندہ ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ کے ساتھ شیطان نے کھیلا ہو اور اس میں کوئی ایسی چیز لگا دی ہو، جو انسان کے لیے نقصان دہ اور پانی کو گندہ کرنے والی ہو۔

فوائد
  1. وضو کرتے وقت سانس کے ذریعے ناک میں پانی داخل کرنا اور سانس ہی کے ذریعے ناک سے پانی باہر نکالنا واجب ہے۔
  2. استنجا کے لیے پتھر طاق عدد میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
  3. رات میں سونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا مشروع ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 43) (162). صحيح مسلم (1/ 233) (278). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص19). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 11).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا القِبْلَةَ، وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ القِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى.
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ عز و جل سے استغفار کرتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قضائے حاجت یعنی پیشاب اور پاخانہ کا ارادہ کرنے والے کو قبلہ اور کعبہ کی جانب منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ اسے مشرق یا مغرب کی جانب رخ کر کے بیٹھنا چاہیے، اگر اس کا قبلہ اہل مدینہ کا قبلہ ہو۔ پھر ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ جب وہ شام پہنچے تو دیکھا کہ وہاں قضائے حاجت کے لیے بنے ہوئے بیت الخلا کعبہ رخ بنے ہوئے ہيں۔ اس لیے وہ اپنے جسم کو کعبہ کے رخ سے موڑ کر بیٹھتے اور قضائے حاجت کے بعد اللہ سے مغفرت طلب کر لیا کرتے۔

فوائد
  1. اس میں پنہاں حکمت کعبہ کی تعظیم اور اس كا احترام ہے۔
  2. قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد استغفار کرنا چاہیے۔
  3. اس حدیث سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم کا خوب صورت طریقہ سامنے آتا ہے کہ جب حرام کا ذکر کیا، تو مباح کی جانب بھی رہنمائی کر دی۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 88) (394). صحيح مسلم (1/ 224) (264). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص37). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 39).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ، وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَاءِ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ».
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کجھ آداب بیان کیے ہيں۔ پیشاب کرتے وقت دائيں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنے اور دائيں ہاتھ سے قبل یا دبر کی نجاست کو صاف کرنے سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے عطا ہوا ہے۔ اسی طرح جس برتن سے کچھ پیا جا رہا ہو، اس میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے۔

فوائد
  1. آداب اور نظافت میں اسلام کو سبقت حاصل ہے۔
  2. گندی چيزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر ہاتھ لگانا ضروری ہو جائے، تو بایاں ہاتھ لگایا جائے۔
  3. دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر شرف اور فضیلت حاصل ہے۔
  4. اسلامی شريعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کی تعلیمات شمولیت کی حامل ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 42) (154). صحيح مسلم (1/ 225) (267). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص41). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 45).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَألَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الخَلاَءَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الخُبُثِ وَالخَبَائِثِ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اس جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے، جہاں قضائے حاجت کرنی ہوتی، تو اللہ کی پناہ مانگتے اور دعا کرتے کہ آپ کو خبیث جنوں اور خبیث جنیوں کی برائی سے بچائے۔ اس دعا میں آئے ہوئے الفاظ "الخبث" اور "الخبائث" کی تفسیر برائی اور نجاستوں سے بھی کی گئی ہے۔

فوائد
  1. قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔
  2. ساری مخلوق تمام حالتوں میں اذیت ناک یا نقصان دہ چیزوں سے حفاظت کے لیے اپنے رب کے محتاج ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 40) (142). صحيح مسلم (1/ 283) (375). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 23). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص36).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک بنایا ہے ،اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور تھکاتے ہو۔

عن أبي جعفر عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما ، قال: أرْدَفَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم خلفه، وأَسَرَّ إليَّ حديثا لا أُحَدِّث به أحدًا من الناس، وكان أَحَبَّ ما اسْتَتَرَ به رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته هَدَفٌ أو حائشُ نَخْل. يعني: حائط نخل. فدخل حائطا لرجل من الأنصار، فإذا فيه جَمَل، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم جَرْجَر وذَرَفَتْ عيناه، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسَح سَرَاته -أي: سنامه- وذِفْرَاه فسَكَن، فقال: «مَن رَبُّ هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟». فجاء فَتًى من الأنصار، فقال: هذا لي يا رسول الله. قال: «أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي مَلَّكَك الله إياها؟ فإنه يَشْكُو إلي أنك تُجِيعه وتُدْئِبه».
ابو جعفر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر مجھ سے چپکے سے ایک راز کی بات کہی، جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو قضاے حاجت کے لیے چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں؛ یا تو کوئی اونچا مقام (ٹیلہ) یا کھجور کے درختوں کا جھنڈ یعنی کھجور کا باغ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا۔ جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے اوراس کے کوہان اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا مارتے اور تھکاتے ہو“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک رات اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے انھیں ایک بات کہی، جس کا یہ صحابی رسول ﷺ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں وہ بات رازداری سے بتائی تھی۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ یا تو کسی اونچی و بلند چیز کی آڑ میں یا کسی ایسے باغ میں چھپ جائیں، جہاں کھجور کے گھنے درخت ہوں؛ تاکہ آپ پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اور یہ باغ ایسی جگہ ہے، جہاں اونچی اونچی فصلیں ہوتی ہیں؛ لیکن لوگوں کے بیٹھنے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں تشریف لے گئے، تو وہاں ایک اونٹ کو دیکھا، جب رسول اللہ ﷺ پر اونٹ کی نظر پڑی تو وہ رونے لگا۔ آپ نے اس کی کوہان اور کانوں کے پیچھے سہلایا۔ اس کے بعد اونٹ کے مالک کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ ایک انصاری نوجوان نے آکر بتایا کہ وہ اس کا مالک ہے۔ تب آپ ﷺ نے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمھیں اس اللہ عز وجل کا کوئی ڈر و خوف نہیں، جس نے تمھیں اس اونٹ کا مالک بنایا ہے؟ کیوں کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکے رکھنے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے کی حد تک کام لیتے ہو۔

حوالہ

سنن أبي داود، تحقيق/ محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا- بيروت. صحيح مسلم، تحقيق/ محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي- بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. نزهة المتقين، لمصطفى البُغا ومجموعة، مؤسسة الرسالة. بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي. دليل الفالحين، لمحمد بن علان الصديقي، الجمعية الأزهرية. كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا. شرح رياض الصالحين، لمحمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن- الرياض. معجم اللغة العربية المعاصرة، لأحمد مختار عمر بمساعدة فريق عمل، عالم الكتب.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عموما قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «اسْتَنْزِهوا من البول؛ فإنَّ عامَّة عذاب القبر منه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عمومم قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے“۔
اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ عذاب قبر کے اسباب میں سے ایک سبب کو ہمارے لیے بیان فرما رہے ہیں، جو کہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یعنی پیشاب سے نہ بچنا اور اس سے پاک صاف نہ رہنا۔

فوائد
  1. پیشاب سے بچنے اور دوری اختیارکرنے کا خیال رکھنا ،اس طور سے کہ وہ کپڑے اور جسم پر نہ لگے۔
  2. بہتر ہے کہ اس کے لگنے کے بعد جلد دھو لیا جائے اور اس سے پاکی حاصل کر لی جائے، تاکہ انسان کے نجاست کے ساتھ گھومتا نہ پھرے۔ البتہ نماز کے وقت اسے زائل کرنا واجب ہے۔
  3. پیشاب نجس ہے۔ جب کسی کے جسم، کپڑا یا کسی جگہ کو لگ جاتا ہے، تو اسے ناپاک کر دیتا ہے۔ لہذا اس کے ہوتے ہوئے نماز درست نہیں ہوتی، کیوں کہ نجاست سے پاک ہونا نماز کے صحیح ہونے کی ایک شرط ہے۔
  4. پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
  5. عذاب قبر کا ثبوت۔ یہ کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
  6. آخرت میں جزا کا اثبات۔ آخرت کے مراحل میں سے سب سے پہلا مرحلہ قبر کا مرحلہ ہے۔ قبر یا توجنت کی کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔
حوالہ

سنن الدارقطني،أبو الحسن علي بن عمر الدارقطني، تحقيق: شعيب الارنؤوط وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى، 1424هـ، 2004م. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ، 1985م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
13 میں سے 8
13 احادیث
  1. میں ایک دن حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر چڑھا، تو دیکھا کہ نبیﷺ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پشت کرکے قضاے حاجت کر رہے ہیں۔
  2. رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔
  3. جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے
  4. ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔
  5. تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔
  6. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
  7. کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں مالک بنایا ہے ،اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور تھکاتے ہو۔
  8. پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو؛ کیوں کہ عموما قبر کا عذاب اسی وجہ سے ہوتا ہے۔
  9. نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔
  10. اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
  11. ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے۔ اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔
  12. دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔
  13. آپ ﷺ نے فرمایا میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ، میں ان سے استنجا کروں گا، اور ہڈی و گوبر نہ لانا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com