سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَألَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الخَلاَءَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الخُبُثِ وَالخَبَائِثِ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہوتے، تو یہ دعا پڑھتے : "اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اس جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے، جہاں قضائے حاجت کرنی ہوتی، تو اللہ کی پناہ مانگتے اور دعا کرتے کہ آپ کو خبیث جنوں اور خبیث جنیوں کی برائی سے بچائے۔ اس دعا میں آئے ہوئے الفاظ "الخبث" اور "الخبائث" کی تفسیر برائی اور نجاستوں سے بھی کی گئی ہے۔

فوائد
  1. قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔
  2. ساری مخلوق تمام حالتوں میں اذیت ناک یا نقصان دہ چیزوں سے حفاظت کے لیے اپنے رب کے محتاج ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 40) (142). صحيح مسلم (1/ 283) (375). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 23). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص36).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضائے حاجت کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com