اس حدیث میں نبی ﷺ عذاب قبر کے اسباب میں سے ایک سبب کو ہمارے لیے بیان فرما رہے ہیں، جو کہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یعنی پیشاب سے نہ بچنا اور اس سے پاک صاف نہ رہنا۔
- پیشاب سے بچنے اور دوری اختیارکرنے کا خیال رکھنا ،اس طور سے کہ وہ کپڑے اور جسم پر نہ لگے۔
- بہتر ہے کہ اس کے لگنے کے بعد جلد دھو لیا جائے اور اس سے پاکی حاصل کر لی جائے، تاکہ انسان کے نجاست کے ساتھ گھومتا نہ پھرے۔ البتہ نماز کے وقت اسے زائل کرنا واجب ہے۔
- پیشاب نجس ہے۔ جب کسی کے جسم، کپڑا یا کسی جگہ کو لگ جاتا ہے، تو اسے ناپاک کر دیتا ہے۔ لہذا اس کے ہوتے ہوئے نماز درست نہیں ہوتی، کیوں کہ نجاست سے پاک ہونا نماز کے صحیح ہونے کی ایک شرط ہے۔
- پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
- عذاب قبر کا ثبوت۔ یہ کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
- آخرت میں جزا کا اثبات۔ آخرت کے مراحل میں سے سب سے پہلا مرحلہ قبر کا مرحلہ ہے۔ قبر یا توجنت کی کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔
سنن الدارقطني،أبو الحسن علي بن عمر الدارقطني، تحقيق: شعيب الارنؤوط وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى، 1424هـ، 2004م. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ، 1985م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427ه.