سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِرَوْثٍ أَوْ عَظْمٍ، وَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَا تُطَهِّرَانِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔
اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

راوی اسلام ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو استنجا کے سلسلے میں دو چیزوں کو شرمگاہ سے نکلنے والی غلاظت کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ یہ دو چیزیں گوبر اور ہڈی ہیں۔ گوبر سے تو اس لیے منع فرمایا کیونکہ یہ نجس ہوتا ہے یا پھر اس لیے منع کیا گیا تا کہ جنات کے چوپائے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا جیسا کہ ترمذی میں ہے کہ: ”گوبر اور ہڈیوں سے استنجاء نہ کرو، یہ تمہارے ’جنّ‘ بھائیوں کی خوراک ہیں“، جب کہ ہڈی سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے جس کے بسبب یہ نجاست کو زائل نہیں کرتی۔ ایک اور قول کی رو سے اس کی علت یہ ہے کہ بوقتِ ضرورت اسے چوسا اور چبایا جا سکتا ہے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ یہ ممانعت اس لیے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہڈی تمہارے جنّ بھائیوں کی خوراک ہے“ یعنی وہ اس پر پہلے سے بھی زیادہ گوشت پاتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ممانعت اس لیے ہے کیوں کہ ہڈی زخم کر سکتی ہے۔ پھر حدیث کا اختتام استنجا کے لیے گوبر اور ہڈیوں کے استعمال کی ممانعت کی علت کے بیان کے ساتھ کیا گیا کہ ان سے استنجا کا مقصد پورا نہیں ہوتا جو کہ طہارت کا حصول ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی“۔

حوالہ

سنن الدارقطني (1/ 88) (152). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 355). سبل السلام، للصنعاني (1/ 118). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (1/ 374).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضائے حاجت کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com