سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الغَائِطِ قَالَ: «غُفْرَانَكَ».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت یعنی پاخانہ کی جگہ سے نکلتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں۔

فوائد
  1. قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "غُفرانَك" کہنا مستحب ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام احوال میں اللہ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔
  3. قضاے حاجت کے بعد مغفرت طلب کرنے کا سبب کیا ہے؟ اس کے بیان میں درج ذیل باتیں کہی گئی ہيں: -اللہ کی عطا کی ہوئی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہونے والی کوتاہی کى بنا پر۔ -اذیت ناک چیزوں کے نکلنے میں اس کی جانب سے فراہم کی گئی آسانی کى بنا پر۔ -میں تجھ سے بخشش اس لیے طلب کرتا ہوں کہ قضاے حاجت کے وقت تیرے ذکر سے غافل رہا۔
حوالہ

سنن أبي داود (1/ 24) (30). سنن الترمذي (1/ 57) (7). سنن ابن ماجه (1/ 200) (300). مسند أحمد (42/ 124) (25220). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 351). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (1/ 397).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قضائے حاجت کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com