عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الغَائِطِ قَالَ: «غُفْرَانَكَ».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت یعنی پاخانہ کی جگہ سے نکلتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں۔
فوائد
- قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد "غُفرانَك" کہنا مستحب ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام احوال میں اللہ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔
- قضاے حاجت کے بعد مغفرت طلب کرنے کا سبب کیا ہے؟ اس کے بیان میں درج ذیل باتیں کہی گئی ہيں: -اللہ کی عطا کی ہوئی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہونے والی کوتاہی کى بنا پر۔ -اذیت ناک چیزوں کے نکلنے میں اس کی جانب سے فراہم کی گئی آسانی کى بنا پر۔ -میں تجھ سے بخشش اس لیے طلب کرتا ہوں کہ قضاے حاجت کے وقت تیرے ذکر سے غافل رہا۔
حوالہ
سنن أبي داود (1/ 24) (30). سنن الترمذي (1/ 57) (7). سنن ابن ماجه (1/ 200) (300). مسند أحمد (42/ 124) (25220). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 351). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (1/ 397).