عن سهل بن عمرو رضي الله عنه قال: مرَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لَحِق ظَهْرُه ببَطْنِهِ، فقال: «اتقوا الله في هذه البهائم المُعْجَمة، فاركَبُوها صالحة، وكُلُوها صالحة».
سہل بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ کا ایک اونٹ کے پاس سے گزر ہوا، جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی پشت سے مل گیا تھا، آپ ﷺ نے (اس کی یہ حالت دیکھ کر) فرمایا: ”ان بے زبان جانوروں کے سلسلے میں الله سے ڈرو۔ لہٰذا مناسب طریقے سے ان پر سواری کرو اور معروف طریقے سے ان کو کھاؤ“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی کریم ﷺ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کی کمر شدتِ بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم فرمایا۔ لہذا ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ اور ان کے کھانے پینے میں کوتاہی نہ کرے۔ اس (ان کا خیال رکھنے) کے بعد اگر وہ ان پر سواری کرے گا تو وہ سواری کے لائق ہوں گے اور اگر ان کو کھائے گا تو وہ کھانے کے لائق ہوں گے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- سنن أبي داود، لأبي داود السجستاني، تحقيق محمد محيي الدين، المكتبة العصرية.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- مرقاة المفاتيح: علي بن سلطان محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري -دار الفكر، بيروت – لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
-التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ محمد بن إسماعيل الصنعاني، المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم مكتبة دار السلام، الرياض -الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م.
عن كبشة بنت كعب بن مالك -وكانت تحت ابن أبي قتادة-: أن أبا قتادة دخل فسَكَبَتْ له وَضُوءًا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات».
کبشہ بنت کعب بن مالک (جو ابو قتادہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں) بیان کرتی ہیں کہ ابو قتادہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی انڈیل کر رکھا۔ اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی۔ ابو قتادہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے اچھی طرح پانی پی لیا۔ کبشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا: بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے گھروں میں بکثرت آنے جانے والوں اور بکثرت آنے جانے والیوں میں سے ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وضو شروع کیا تو اسی دوران ایک بلی آ گئی۔ - اور بلی گھروں میں گھس آتی ہے، لوگوں میں گھل مل جاتی ہے اور ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہے - چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے سامنے برتن کو جھکا دیا تا کہ وہ وضو کا پانی پی سکے۔ ایسا کرنے پر ان کی بھتیجی کبشہ بہت حیران ہوئیں۔ کیونکہ یہ وضو کا پانی تھا جس کے لیے پاکیزہ اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ تو ان جانوروں میں سے ہیں جو ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
حوالہ
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان - طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام - مكتبة الأسدي – مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان - مؤسسة الرسالة.
- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
- سنن الترمذي - محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
عن أبي جعفر عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما ، قال: أرْدَفَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم خلفه، وأَسَرَّ إليَّ حديثا لا أُحَدِّث به أحدًا من الناس، وكان أَحَبَّ ما اسْتَتَرَ به رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته هَدَفٌ أو حائشُ نَخْل. يعني: حائط نخل.
فدخل حائطا لرجل من الأنصار، فإذا فيه جَمَل، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم جَرْجَر وذَرَفَتْ عيناه، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسَح سَرَاته -أي: سنامه- وذِفْرَاه فسَكَن، فقال: «مَن رَبُّ هذا الجمل؟ لمن هذا الجمل؟». فجاء فَتًى من الأنصار، فقال: هذا لي يا رسول الله. قال: «أفلا تتقي الله في هذه البهيمة التي مَلَّكَك الله إياها؟ فإنه يَشْكُو إلي أنك تُجِيعه وتُدْئِبه».
ابو جعفر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر مجھ سے چپکے سے ایک راز کی بات کہی، جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو قضاے حاجت کے لیے چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں؛ یا تو کوئی اونچا مقام (ٹیلہ) یا کھجور کے درختوں کا جھنڈ یعنی کھجور کا باغ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا۔ جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے اوراس کے کوہان اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا مارتے اور تھکاتے ہو“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک رات اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے انھیں ایک بات کہی، جس کا یہ صحابی رسول ﷺ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں وہ بات رازداری سے بتائی تھی۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ یا تو کسی اونچی و بلند چیز کی آڑ میں یا کسی ایسے باغ میں چھپ جائیں، جہاں کھجور کے گھنے درخت ہوں؛ تاکہ آپ پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اور یہ باغ ایسی جگہ ہے، جہاں اونچی اونچی فصلیں ہوتی ہیں؛ لیکن لوگوں کے بیٹھنے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں تشریف لے گئے، تو وہاں ایک اونٹ کو دیکھا، جب رسول اللہ ﷺ پر اونٹ کی نظر پڑی تو وہ رونے لگا۔ آپ نے اس کی کوہان اور کانوں کے پیچھے سہلایا۔ اس کے بعد اونٹ کے مالک کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ ایک انصاری نوجوان نے آکر بتایا کہ وہ اس کا مالک ہے۔ تب آپ ﷺ نے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمھیں اس اللہ عز وجل کا کوئی ڈر و خوف نہیں، جس نے تمھیں اس اونٹ کا مالک بنایا ہے؟ کیوں کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکے رکھنے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے کی حد تک کام لیتے ہو۔
حوالہ
سنن أبي داود، تحقيق/ محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا- بيروت.
صحيح مسلم، تحقيق/ محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي- بيروت.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
نزهة المتقين، لمصطفى البُغا ومجموعة، مؤسسة الرسالة.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
دليل الفالحين، لمحمد بن علان الصديقي، الجمعية الأزهرية.
كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا.
شرح رياض الصالحين، لمحمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن- الرياض.
معجم اللغة العربية المعاصرة، لأحمد مختار عمر بمساعدة فريق عمل، عالم الكتب.
عن أنس رضي الله عنه قال: نَهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تُصْبَرَ البَهائِم.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زندہ جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
انس رضی الله عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ جانوروں کو اس مقصد کے لیے باندھا جائے کہ ان پر تیراندازی وغیرہ کرکے انہیں مار دیا جائے۔ آپ ﷺ نے اس سے اس لیے منع کیا کیونکہ اس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ - 1997م.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ.
عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الوَجْهِ، فأنكر ذلك؟ فقال: «والله لا أَسِمُهُ إلا أقصى شيء من الوجه» وأمر بحماره فُكُوِيَ في جَاعِرَتَيْهِ، فهو أول من كوى الجاعرتين.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغنے کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (عباس رضی اللہ عنہ جو اس گدھے کے مالک تھے) نے کہا کہ اللہ کی قسم اب میں اس جگہ پر داغ دوں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گدھے کی سرین پر داغ دے کر نشان لگایا گیا۔ عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے سرین پر داغ لگایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ نے ایک گدھا دیکھا، جسے اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
'الوسم' سے مراد یہ ہے کہ جانور پر نشان لگانے کے لیے اسے (گرم لوہے سے) داغا جائے۔ جن لوگوں کے پاس مویشی ہوتے تھے، وہ ان پر نشان لگاتے تھے۔ ہر قبیلے کا ایک خاص نشان ہوتا یعنی دو خط، ایک خط، مربع ، دائرہ یا ہلال۔ غرض یہ کہ ہر قبیلے کا اپنا ایک خاص نشان ہوا کرتا تھا۔ اس نشان سے جانوروں کی حفاظت ہوتی تھی بایں طور کہ جب وہ گم ہو جاتے اور لوگوں کو ملتے تو وہ پہچان جاتے کہ یہ فلاں قبیلے کے ہیں اور انہیں اس قبیلے کے لوگوں کی طرف ہانک دیتے۔
”فَقَالَ“ کہنے والے سے مراد عباس ابن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیح ابن حبان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بصراحت موجود ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ یا کسی جانور کو اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کر دیا۔ آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو سخت ناراض ہوئے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں اب اس کے جسم کے آخری حصے میں داغ کر نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین پرنشان لگایا“۔
یعنی جب انہیں ممانعت کا علم ہوا، تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ گدھے کے اس جگہ پر نشان لگائیں گے، جو اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو گا۔ ابن حبان کی سابق الذکر روایت میں ہے: ”میں اس کے آخری حصے میں نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین کو نشان زد کیا“۔
پھر ان کے حکم کے مطابق ان کے گدھے کی سرین پر نشان لگایا گیا۔ جاعرۃ سے مراد گدھے کے جسم کا آخری حصہ ہے۔ یعنی ران، جہاں جانور دم مارتا رہتا ہے۔
علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر نشان لگانا ہو تو مستحب یہ ہے کہ بھیڑ بکریوں کوان کے کانوں پر نشان لگایا جائے اور اونٹ اور گائے کو ان کے رانوں کی جڑ پر نشان زد کیا جائے۔ کیوںکہ یہ سخت جگہ ہوتی ہے اور یہاں نشان لگانے سے تکلیف کم ہوتی ہے۔ مزید برآں اس جگہ بال بھی کم ہوتے ہیں اور نشان خوب نمایاں رہتا ہے۔ نشان کا فائدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اس سے جانور ایک دوسرے سے ممتاز رہیں“۔
عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے اپنے گدھے کو اس کے پچھلے حصے میں نشان لگایا تھا۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ۔ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھاجس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو۔“ پھر نبی ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے(جلایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ پھر آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو صحابہ کرام نے ایک حُمَرة دیکھا، یہ پرندوں کی ایک قسم ہے۔ اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، صحابہ کرام نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، جیسے پرندوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کے بچوں کو پکڑ لیا جائے تو وہ منڈلانے اور ارد گرد گھومنے لگتے ہیں اور اپنے بچوں کی گم شدگی پر چلاتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے۔ صحابہ کرام نے اس کے بچے چھوڑ دیے۔
پھر چیونٹیوں کی ایک بستی یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے گزرے، جسے جلا دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے کس نے جلایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے جلایا ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا ”آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب (یعنیاللہ) کے شایانِ شان ہے“۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
اس حدیث کے پیشِ نظر اگر آپ کا واسطہ چیونٹیوں سے پڑے، تو آپ انہیں آگ سے نہیں جلائیں گے۔ بلکہ کوئی ایسی چیز رکھ دیں جو انہیں بھگا دے جیسے گیسولین جو کہ ایک معروف مائع ایندھن ہے، جب آپ اس کو زمین پر انڈیل دیں گے تو وہ ان شاء اللہ بھاگ جائیں گی اور واپس نہیں لوٹیں گی۔ اگر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ کیٹناشک کا استعمال کیا جائے جو حتمی طور پر انہیں مار ڈالے یعنی چیونٹیوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی گزند کو دور کرنا ہے، ورنہ تو چیونٹیاں ان حشرات میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو تکلیف کا پہنچائے اور قتل کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو ان کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ
سنن أبي داود (4/ 309) (2675).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1105).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 150).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 120).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 300).
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه حمار قد وُسِمَ في وجهه، فقال:«لعن الله الذي وسمه».
وفي رواية لمسلم أيضا: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الضرب في الوجه، وعن الوسم في الوجه»
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک ایسے گدھے کا گزر ہوا، جس کے چہرے کو نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اسے (چہرے پر) نشان لگایا“۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اس بات کی سخت ممانعت اور اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جس نے کسی جانور کے چہرے پر نشان لگایا اور اسی طرح اس کے چہرے پر مارا۔ علماے کرام نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔
علماے کرام نے اس ممانعت کی علت یہ بیان کی ہے کہ چہرہ ایک عمدہ عضو ہے، جو تمام محاسن کا مرکز ہوتا ہے۔ چہرے کے اجزا بہت نفیس و نازک ہوتے ہیں اوربیش تر قوائے ادراک چہرے ہی میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ چہرے پر مارنے کی وجہ سے یہ ناکارہ ہو سکتے ہیں یا انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بسا اوقات چہرے پر مارنے سے چہرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں پیدا شدہ عیب بہت برا ہوتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کا چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ اور جب بندہ جانور کو چہرے میں مارتا ہے، تو عموما اس میں عیب پیدا ہو ہی جاتا ہے۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ.
الزواجر عن اقتراف الكبائر، تأليف: أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «بينما رجلٌ يمشي بطريقٍ اشتَدَّ عليه العَطَشُ، فوَجَدَ بِئْرًا فنزل فيها فَشَرِبَ، ثم خَرَجَ فإذا كَلْبٌ يَلْهَثُ يأكل الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فقال الرجلُ: لقد بَلَغَ هذا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلَ الذِي كان قَدْ بَلَغَ مِنِّي، فنَزَلَ البِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ ماءً ثم أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الكَلْبَ، فشَكَرَ اللهُ له، فَغَفَرَ لهُ» قالوا: يا رسول الله، إنَّ لَنَا في البَهَائِمِ أَجْرًا؟ فقال: «في كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ».
وفي رواية: «فشَكَرَ اللهُ له، فغَفَرَ له، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ».
وفي رواية: «بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكْيَةٍ قد كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ إذ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ له بهِ فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لها بِهِ».
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے ستایا۔ اسے ایک کنواں دکھائی دیا اور تو وہ اس میں اترا اور پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتاہا نپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے کیونکہ اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی‘ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے پیاس لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اورباہر آ کر کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیکی کا صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام ۔ رضی اللہ عنہم۔ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجرو ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہرتر کلیجے (زندہ چیز) کی وجہ سے اجرو ثواب ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالی نے (اس کے اس فعل کی قدر دانی میں) اسے صلہ دیتے ہوئے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کردیا گیا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک شخص سفر کرتا ہوا راستے میں جا رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا اور یوں اس کی پیاس ختم ہوئی۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی کو کھا رہا ہے تاکہ اس میں موجود پانی کو چوس سکے۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ: اللہ کی قسم! اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں داخل ہوا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ کنویں سے باہر آکر اس نے کتے کو پانی پلا دیا۔ جب وہ کتے کو پانی پلا چکا تو اللہ نے اس کے اس فعل کو پسند فرمایا اور اس کے بدلے میں اس کی بخشش کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل کر دیا۔
نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جب یہ حدیث سنائی تو انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا چوپایوں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟۔ یعنی کیا یہ بھی اجر و ثواب کا سبب ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجے کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے یعنی ہر تر کلیجے کو سیراب کرنے میں اجر ملتا ہے۔ کلیجے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر پانی نہ ہوتا تو یہ سوکھ جاتا اور جاندار ہلاک ہو جاتا۔
اور ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کے مارے کنویں کے گرد گھوم رہا تھا، لیکن اس کی پانی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی، چنانچہ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اسے پانی سے بھرا اور کتے کو پلا دیا لہٰذا اس عمل کے بدلے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔
حوالہ
رياض الصالحين، للنووي، نشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق – بيروت، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه.
كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. ط1 -1415
المعجم الوسيط، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com