اس حدیث میں جانوروں بلکہ کسی بھی ذی روح کو قید میں رکھ کر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر غیر شرعی طریقے سے مار کر تلف کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر نشانہ بناکر تیر اندازی کرنا وغیرہ۔ کیونکہ اس میں جانور کو عذاب دینا، اس کی جان کو تلف کرنا، اس کی مالیت کو ضائع کرنا اور شرعی طور پر ذبح نہ کرنا جیسے مفاسد پائے جاتے ہيں۔ ان مفاسد کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ ایک بے سود قتل ہے، اس لیے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور حدیث میں وارد نہی کا صیغہ حرمت کا تقاضا کرتا ہے۔ شریعت اسلامی کا اس طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا برتاو روا رکھنا، اس کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کا بین ثبوت ہے۔
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ. - سبل السلام، للصنعاني، نشر: دار الحديث. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1 1428هـ. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، الطبعة الأولى 1427. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.