سعید بن جبیر بتا رہے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو رکھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ درست نشانے والا ہے؟ جب انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو خوف سے بھاگ گئے۔ انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے سب کچھ بتایا تو فرمایا : ایسا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔ پھر بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بنا کر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ لعنت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندے کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ کوئی اس کے بازو پر تیر چلاتا ہے، کوئی سینے پر چلاتا ہے، کوئی پیٹھ پر چلاتا ہے اور کوئی سر پر چلاتا ہے۔ ایسے میں جب تک مر نہيں جاتا، سخت اذیت میں رہتا ہے۔ حالانکہ اسے ذبح کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بنانے والے پر لعنت کی ہے۔
- صحيح الإمام مسلم, ت: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي، بيروت. - شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح بن محمد العثيمين, دار الوطن للنشر, الطبعة: 1426 هـ. - تطريز رياض الصالحين, فيصل بن عبد العزيز المبارك, المحقق: د. عبد العزيز بن عبد الله بن إبراهيم الزير آل حمد, دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض, الطبعة: الأولى، 1423 هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان. دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ. - المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت, الطبعة: الثانية، 1392.