عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: "حدثوا الناس بما يعرفون، أتريدون أن يُكذَّب اللهُ ورسولهُ؟".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے ایسی بات کرو جنہیں وہ جانتے ہوں، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیا جائے؟“
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رہنمائی فرما رہے ہیں کہ عام لوگوں سے وہی باتیں کرنی چاہئے جو ان کے ہاں معروف ہوں اور جو انہیں ان کے دین کے سلسلے میں فائدہ دیں جیسے توحید اورحلال و حرام کی وضاحت اور جو باتیں ان سے دور رکھنے والی ہوں اور جن کی ضرورت نہ ہو یا پھر وہ باتیں جو حق کو جھٹلانے اور اس کے قبول نہ کرنے کا باعث ہوں اور جن کو سمجھنا ان کے لیے مشتبہ اور جن کا ادراک کرنا ان کے لیے مشکل ہو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1422ه.
صحيح البخاري, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار طوق النجاة, الطبعة: الأولى، 1422هـ.
عن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ: «أَيْ عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ»، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ: عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «وَاللهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ»، فَأَنْزَلَ اللهُ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113]، وَأَنْزَلَ اللهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم: {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56].
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : "اے چچا جان، آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق دلیل پکڑوں گا۔" یہ سن کر ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : کیا تم عبدالمطلب کا مذہب چھوڑ دوگے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ کلمہ پیش کرتے رہے اور دونوں اپنی بات دہراتے رہے۔ بالآخر ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ اس طرح لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔ راوی کہتا ہے : لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک مجھے روک نہ دیا جائے"۔ چنانچہ اسی پس منظر میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة : 113] (نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں)۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ابو طالب کے بارے میں نازل فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرکے فرمایا : {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] (بلاشبہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے)۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
ابو طالب حالت نزع میں تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس آئے اور ان سے کہا : چچا جان! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ وہ مذہب دراصل بت پرستی کا مذہب تھا۔ دونوں ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے ان سے آخر میں کہہ ہی دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر چل کر اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ یعنی شرک اور بت پرستی کے مذہب پر۔ یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک میرا رب مجھے منع نہ کر دے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : "نبی کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں"۔ [سورہ توبہ : 113] اسی طرح ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے". [سورہ قصص : 56] آپ جسے راہ حق پر چلانا چاہیں، اسے راہ حق پر نہیں چلا سکتے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے حق کی راہ پر چلاتا ہے۔
فوائد
مشرکوں کے حق میں مغفرت طلب کرنے کی حرمت، چاہے وہ کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہوں اور ان کا عمل اور احسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
آبا و اجداد اور اکابرین کی تقلید اہل جاہلیت کی روش ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کمال شفقت اور لوگوں کی دعوت و ہدایت کے تئیں آپ کا حرص۔
اس بات کا دعوی کرنے والوں کی تردید کہ ابو طالب مسلمان ہو گئے تھے۔
اعمال کا دار و مدار خاتموں پر ہے۔
نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے لو لگانے کا بطلان۔
جس نے علم، یقین اور اعتقاد کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہہ دیا، وہ مسلمان ہوگیا۔
برے ساتھیوں کا نقصان۔
لا الہ الا اللہ کے معنی ہيں؛ بتوں، اولیا اور اللہ کے نیک بندوں کی عبادت سے دامن بچانا اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا۔ مشرکین بھی کلمۂ توحید کے اس معنی کو سمجھتے تھے۔
مشرک مریض کی عیادت جائز ہے، جب اس کے مسلمان ہونے کی امید ہو۔
راہ حق پر گام زن ہو جانے کی توفیق دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کام کسی اور سے نہیں ہو سکتا۔ رسول کا کام صرف راہ بتا دینا اور پہنچا دینا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 112) (4772).
صحيح مسلم (1/ 54) (24).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص155).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، للقرعاوي (ص169).
عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رضي الله عنه قال: بينما نحن جلوس مع النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد دخل رجل على جمل، فأناخه في المسجد ثم عقله، ثم قال لهم: أيكم محمد؟ والنبي صلى الله عليه وسلم متكئ بين ظهرانيهم، فقلنا: هذا الرجل الأبيض المتكئ. فقال له الرجل: يا ابن عبد المطلب فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «قد أجبتك». فقال الرجل للنبي صلى الله عليه وسلم: إني سائلك فمشدد عليك في المسألة، فلا تجد علي في نفسك؟ فقال: «سل عما بدا لك» فقال: أسألك بربك ورب من قبلك، آلله أرسلك إلى الناس كلهم؟ فقال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصلي الصلوات الخمس في اليوم والليلة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصوم هذا الشهر من السنة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن تأخذ هذه الصدقة من أغنيائنا فتقسمها على فقرائنا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم نعم». فقال الرجل: آمنت بما جئت به، وأنا رسول من ورائي من قومي، وأنا ضمام بن ثعلبة أخو بني سعد بن بكر.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ سوار آیا اور اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے تکیہ لگائے بیٹھے شخص۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبدالمطلب! نبیﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبیﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!‘‘ اس نے پوچھا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے غریبوں پر تقسیم کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دریں اثنا کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص اونٹ پر سوار ہوکر داخل ہوا اور اونٹ کو بٹھاکر باندھ دیا۔ پھر صحابۂ کرام سے دریافت کیا: تم میں محمد کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے شخص جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ سے اس شخص نے عرض کیا: اے عبد المطلب کے فرزند! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی۔ سوال کرو میں جواب دوں گا۔ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے کچھ سوالات کرنے والا ہوں اور سوال کرنے میں سخت لہجہ اختیار کروں گا۔ اس لیے آپ دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ یعنی آپ مجھ پر غصہ نہ کریں اور نہ میرے سوال سے تنگ ہوں۔ آپ نے عرض کیا: جو چاہے پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ یعنی فرض نمازیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے فقیروں پر تقسیم کریں؟ یعنی زکاۃ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ ضمام نے بالآخر اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پھر اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمام بن ثعلبہ ہیں اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
فوائد
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ وہ شخص آپ (کی سادگی کے سبب) آپ کے درمیان اور صحابہ کے درمیان تفریق نہیں کر سکا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق، سائل کا جواب دینے میں آپ کی نرمی وشفقت اور یہ پیغام کہ جواب دینے کا طریقہ اگر اچھا ہو تو یہ دعوت کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
سفید اور سرخ رنگ اور لمبے اور چھوٹے قد اور اس طرح کے دیگر ایسے اوصاف بیان کرکے انسان کی شناخت کرنا جائز ہے، جن سے عیب جوئی مقصود نہ ہو، بشرطے کہ ایسا اس انسان پر ناگوار نہ گزرے۔
ضرورت کے پیش نظر کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے۔
اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں آیا ہے، کیوں کہ ممکن ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہ ہوا ہو۔
صحابۂ کرام کے اندر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی شدید تڑپ پائی جاتی تھی۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شخص اسلام لاتے ہی اپنی قوم کو دعوت دینے کی فکر کرنے لگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 23) (63)، صحيح مسلم (1/ 41) (12)، شرح ابن بطال (1/145)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (2/ 22).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com