سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

داعی الی اللہ کی سوانح حیات اور ان کی ذمہ داریاں

2 احادیث

لڑکے کی کہانی، بادشاہ، جادوگر اور راہب کے ساتھ

عَنْ صُهَيْبٍ رَضيَ اللهُ عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ، قَالَ لِلْمَلِكِ: إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ، فَأَعْجَبَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ وَقَعَدَ إِلَيْهِ، فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، فَقَالَ: إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ، فَقُلْ: حَبَسَنِي أَهْلِي، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ فَقُلْ: حَبَسَنِي السَّاحِرُ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ، فَقَالَ: الْيَوْمَ أَعْلَمُ آلسَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمِ الرَّاهِبُ أَفْضَلُ؟ فَأَخَذَ حَجَرًا، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ، حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا، وَمَضَى النَّاسُ، فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي، قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ، وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ، فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِيَ، فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ، إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللهُ، فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللهِ دَعَوْتُ اللهَ فَشَفَاكَ، فَآمَنَ بِاللهِ فَشَفَاهُ اللهُ، فَأَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ؟ قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي؟ قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ، فَجِيءَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللهُ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ، فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبَى، فَدَعَا بِالْمِئْشَارِ، فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ فَقِيلَ لَهُ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ فَقِيلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ، فَأَبَى فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ، فَقَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بِهِمِ الْجَبَلُ فَسَقَطُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللهُ، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ، فَتَوَسَّطُوا بِهِ الْبَحْرَ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَانْكَفَأَتْ بِهِمِ السَّفِينَةُ فَغَرِقُوا، وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَفَانِيهِمُ اللهُ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ: إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قُلْ: بِاسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ ارْمِنِي، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبْدِ الْقَوْسِ، ثُمَّ قَالَ: بِاسْمِ اللهِ، رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ رَمَاهُ فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ، فَأُتِيَ الْمَلِكُ فَقِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ؟ قَدْ وَاللهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ، قَدْ آمَنَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ فِي أَفْوَاهِ السِّكَكِ، فَخُدَّتْ وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ، وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ فِيهَا، أَوْ قِيلَ لَهُ: اقْتَحِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا الْغُلَامُ: يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ".
صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادو گر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے جادوگر کے پاس بھیج دیا، جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں، پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (اور اس کی باتیں سنتا) اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو (دیر سے آنے کی وجہ سے) مارتا، تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا: میں آج جاننا چاہتا ہوں کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے؟ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا ”الٰہی اگر راہب کا طریقہ تجھے جادوگر کے طریقے سے زیادہ پسند ہو، تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ گزر جائیں“۔ پھر لڑکے نے اس جانور کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مر گیا اور لوگ گزرنے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا تو وہ بولا کہ بیٹا تو مجھ سے بڑھ گیا ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا۔ پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کر دیتا تھا بلکہ ہر ایک بیماری کا علاج بھی کر دیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے۔ پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ اس نے کہا کہ کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا : میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں بتادیا۔ چنانچہ اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا: میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، بلکہ شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا۔راہب پکڑ لیا گیا۔ اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا۔ اس کے نہ ماننے پربادشاہ نے آرا منگوا کراس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کروا دیا پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا، بادشاہ نے آرا منگوا کراس کے بھی سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کرادیا پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے، اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گر گئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ: تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک چھوٹی کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے۔ لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا :تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مار سکے گا، جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے وسط میں رکھو اور پھر کہو:اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا تو سب لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ جس سے تو ڈرتا تھا وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے گلیوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا کہ جو شخص اس (لڑکے) کے دین سے نہ پھرے، اسے ان خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت آگ میں گرنے سے جھجھکی (پیچھے ہٹی) تو بچے نے کہا کہ اے امی جان! صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ایک عجیب وغریب قصّے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ سابقہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، بادشاہ نے اس جادوگر کو اپنا خاص مشیر بنا رکھا تھا تاکہ اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے گرچہ وہ دین کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ذاتی مقاصد کا خاص دھیان رکھتا تھا اور وہ ظالم بادشاہ تھا جو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ یہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں۔ جادوگر نے لڑکے کا انتخاب کیا کیونکہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے اہل اور زیادہ مناسب ہوتا ہے اور وہ جب کوئی چیز سیکھتا ہے تو جلدی نہیں بھولتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کیا، چنانچہ اس لڑکے کا گزر ایک دن ایک راہب کے پاس سے ہوا اور اس نے اس کی باتیں سنیں جو اس کو پسند آئیں، کیونکہ یہ راہب یعنی عبادت گزار اللہ کی عبادت کرتا اور صرف اچھی باتیں بولتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عبادت گزار عالم ہو لیکن اس پر رہبانیت کا غلبہ تھا، اسی لیے اس کا نام راہب پڑا۔ چنانچہ یہ لڑکا جب گھر سے نکلتا اور راہب کے پاس بیٹھتا تو جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اس لڑکے کو مارتا کہ تو دیر سے کیوں آتا ہے؟ لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی اور مار سے بچنے کا نسخہ دریافت کیا، راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر کے پاس جائے اور مار کا ڈر ہو تو کہہ دیا کرنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اورجب تو گھر والوں کے پاس جائے اور تاخیر کی وجہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس طرح تو دونوں کی ڈانٹ سے محفوظ ہوجائے گا ـــــــ اللہ ہی بہتر جانے ــــــــ راہب نے اس لڑکے کو ایسا کرنے کے لیے کہا جب کہ وہ جھوٹ تھا، شاید اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اس میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ جھوٹ کے نقصان پر غالب ہے، یا پھر اس کا ارادہ توریہ اور معنوی طور پر روکنے کا رہا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور اس قابل ہوگیا کہ وہ راہب کے پاس آتا اور اس کی باتیں سنتا اور پھر جادوگر کے پاس جاتا، جب جادوگر اپنے پاس دیر سے آنے پر اس کو سزا دیتا تو کہتا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر لوٹتا اور راہب کے پاس دیر ہوجاتی تو کہتا ہے کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔ ایک دن ایک بہٹ بڑا جانور شیر گزرا اور اس نے لوگوں کا راستہ روک لیا، لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا میں آج آزمانا چاہوں گا کہ جادوگر میرے لیے افضل ہے یا راہب بہترہے، اورپھر ایک پتھر لیا اور کہنے لگا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ میرے لیے بہتر ہے تو اس پتھر سے یہ جانور مرجائے، پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرنے لگے۔ اور لڑکے نے جان لیا کہ راہب کا معاملہ جادوگر کے بالمقابل اس کے حق میں بہتر ہے۔ پھر لڑکے نے راہب کو اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا،اور اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ (اس لڑکے کا حال یہ تھا کہ) وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفائف لے کراس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے، پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔پھر اس اندھے آدمی کو لایا گیا جوکہ بادشاہ کا ہم نشین تھا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے لیکن لڑکے نے انکار کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ (مشکل حالات میں) انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھرجا، راہب نے انکار کردیا۔ اس پر بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کروادیا۔ پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا، وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھرجا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ، اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دھکیل دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو میرے لیے اُن کے بالمقابل کافی ہے، جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچالیا ہے۔پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائےتو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے، لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، چنانچہ وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مارے سکے گا جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے، بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھو اور پھر کہو: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو! چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا کہ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا، (یہ دیکھ کر) سب لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پرایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ: جس سے ڈر رہے تھے وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ چنانچہ بادشاہ نے راستوں کے دروازوں پر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی، بادشاہ نے کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اسے خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کی گود میں اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت (بچے کی وجہ سے) آگ میں کودنے سے پیچھے ہٹی تو بچے نے کہا کہ: اے امی جان صبر کر! اس لیے کہ تو حق پر ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2299) (3005). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 86). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص39). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 412). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 210). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 62).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا۔

عن البراء رضي الله عنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد إلى أهل اليمن يَدْعُوهُمْ إلى الإسلام فَلَمْ يُجِيبُوهُ، ثم إنَّ النبي صلى الله عليه وسلم بعث علي بن أبي طالب، وأمره أن يَقْفُلَ خالد ومن كان معه إلا رجل ممن كان مع خالد أحب أن يُعَقِّبَ مع علي رضي الله عنه فَلْيُعَقِّبْ معه قال البراء فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَّبَ مَعَهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ القوم خرجوا إلينا فصلى بنا عليٌّ رضي الله عنه وَصَفَّنَا صَفًّا واحدا، ثم تقدَّم بين أيدينا، فقرأ عليهم كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا، فكتب علي رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بإسلامهم، فلمَّا قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكتاب خَرَّ ساجدا، ثم رفع رأسه، فقال: السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السلامُ على هَمْدَانَ.
براء رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا، اور اس بات كا حکم دیا کہ خالد بن ولید رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی واپس لوٹ آئیں الا یہ کہ کوئی ان میں سے علی رضی الله عنہ کے ساتھ وہاں رکنا چاہے تو وہ رک سکتا ہے۔چناں چہ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ ٹھہر گئے. جب ہم اہل یمن کے بالکل نزدیک پہنچے تو وہ بھی نکل کر ہمارے سامنے آگئے، علی رضی الله عنہ نے آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہماری ایک صف بنائی اور ہم سے آگے کھڑے ہوکر ان کو نبی ﷺ کا خط پڑھ کر سنایا، چناں چہ قبیلہ ھمدان کےسارے ہی لوگ مسلمان ہوگیے، علی رضی الله عنہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے (کی خوش خبری) کا خط بھیجا۔ جب نبی ﷺ نے وہ خط پڑھا تو (اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے) فوراً سجدہ میں گر گئے. پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھا کر قبیلہ ھمدان کو دعا دی کہ ھمدان پر سلامتی ہو، ھمدان پر سلامتی ہو۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

حدیث مذکور میں اس بات کا بیان ہےکہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو جاتے، اسی سلسلے کا ایک واقعہ وہ بھی ہے جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آیا، جب اہل یمن نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لانے سے انکار کردیا تو نبی ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا اور علی رضی الله عنہ نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو قبیلہ ھمدان کے سارے ہی لوگ مسلمان ہو گیے، پھر انہوں نے نبی صلی الله علیہ والہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے کی خوش خبری کا خط بھیجا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فورا ًسجدہ میں گر گئے۔

حوالہ

سنن البيهقي الكبرى، لأحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر البيهقي، مكتبة دار الباز، مكة المكرمة ، 1414 – 1994، تحقيق: محمد عبد القادر عطا. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي – بيروت، ط. الثانية -1405 – 1985. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط. الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان،ط 1، 1427هـ - 2006م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com