سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اسلام میں انسان کے حقوق

5 احادیث

تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حقدار کو اس کا حق دو۔

عن أبي جحيفة وهب بن عبد الله رضي الله عنه قال: آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وأبي الدرداء، فزار سلمان أبا الدرداء فرأى أم الدرداء مُتَبَذِّلَةً، فقال: ما شأنُكِ؟ قالت: أخوك أبو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا، فجاء أبو الدرداء فصنع له طعاما، فقال له: كل فإني صائم، قال: ما أنا بآكل حتى تأكل فأكل، فلما كان الليل ذهب أبو الدرداء يقوم فقال له: نم، فنام، ثم ذهب يقوم فقال له: نم. فلما كان من آخر الليل قال سلمان: قم الآن، فصليا جميعا فقال له سلمان: إن لربك عليك حقا، وإن لنفسك عليك حقا، ولأهلك عليك حقا، فأعطِ كل ذي حق حقه، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «صدق سلمان».
ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمان رضی اللہ عنہ اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرادء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی بیوی) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے۔ پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں۔ اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔ اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ پھر جب ابو الدرداء نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے سلمان رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے مابین (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی بیوی) ام درداء رضی اللہ عنہا کو ایک شادی شدہ عورت کے لباس میں نہ دیکھا (بہت پراگندہ حال دیکھا)۔ یعنی ان کا لباس خوبصورت نہ تھا تو ان سے اس بات کا سبب پوچھا؟ ام درداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابودرداء نے دنیا، اہل عیال، کھانے پینے الغرض ہر چیز سے منہ موڑ رکھا ہے۔ پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا حاضر کیا جب کہ وہ خود روزے سے تھے۔ اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کو روزہ توڑنے کا کہا اور ایسا اس لیے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ ہمیشہ روزے سے رہتے ہیں۔پس وہ روزہ توڑ کر کھانے میں شریک ہو گیے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو درداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع فرمایا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو دونوں نے مل کر نماز پڑھی۔ سلمان نے یہ چاہا کہ وہ ابو درداء رضی اللہ عنہ کو سمجھائیں کہ انسان کے لیے روزے اور قیام کی خاطر اپنی جان کو مشقت میں ڈالنا روا نہیں ہے۔ بلکہ اس کو اس طرح نماز اور قیام کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ثواب بھی حاصل ہو اور اس کے ذریعے تھکن اور مشقت کا ازالہ بھی ہو۔

حوالہ

الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14 عام 1407 - 1987. شرح رياض الصالحين لا بن عثيمين, تأليف: محمد بن صالح العثيمين, الناشر: مدار الوطن بإشراف المؤسسة, ط عام 1425. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔

عن أبي علي سويد بن مُقَرِّن رضي الله عنه قال: لقد رَأَيْتُنِي سابع سبعة من بني مُقَرِّن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعتقها وفي رواية: «سابع إخوة لي».
ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: مصطفى الخن وآخرون، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. شرح رياض الصالحين، العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض - الطبعة: 1426 هـ. دليل الفالحين، لابن علان الصديقي، دار الكتاب العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔

عَنِ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنين رَضيَ اللهُ عنها زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَامُ اللَّيْلَ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَسْأَمُ اللهُ حَتَّى تَسْأَمُوا».
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حولاء بنت تُوَیت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ ان کے پاس ایسے وقت میں گزریں جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تھے، میں نے کہا کہ یہ حولاء بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں! تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک دفعہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ :یہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ ساری رات نماز پڑھتی رہتی ہیں سوتی ہی نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اُن کے پوری پوری رات کے قیام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”صرف اتنا ہی عمل کرو جتنی طاقت رکھتے ہو“ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کو اتنے کثیر عمل سے روکا کہ جو مشقت کا باعث ہو اور مستقبل میں جس کے کرنے سے عاجز آ جائے اور اس پر مداومت نہ کرسکے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہمیں اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنی طاقت ہو۔ ”اللہ کی قسم! اللہ (دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ہی اکتا جاؤ“ یعنی اللہ عزوجل تمہارے عمل کے مطابق تمہیں ثواب عطا کر دے گا جب تک اس عمل پر ہمیشگی رہے گی اور جب بندہ کسی عمل سے اکتا جائے، تھک جائے، اس کو منقطع کر دے اور ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ثواب کے سلسلے کو منقطع کر دیتاہے۔ کیوں کہ بندے کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملتی ہے اور اگر بغیر عذر، مرض اور سفر کے کسی عمل کو چھوڑ دیا جائے تو اس کا ثواب بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اکتاہٹ کا راجح معنی ہے جو اس حدیث کے ظاہر سے سمجھ آرہا ہےجس سے اللہ متصف ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ہماری اکتاہٹ کی طرح نہیں ہے، کیوں کہ ہماری اکتاہٹ تھکاوٹ اور سستی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ایک ایسی صفت ہے جس سے اللہ عزوجل مختص ہےاور اس کے شایان شان ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو تھکاوٹ اور سستی نہیں لاحق ہوتی۔

حوالہ

صحيح البخاري (1/ 17) (43). صحيح مسلم (1/ 542) (785). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن رجب (1/ 164). معجم اللغة العربية المعاصرة، أحمد مختار(2/ 1020). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 212).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ أخاه فَلْيَجْتَنِب الوجْهَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، (1422ه). - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة. الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة. الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية. سنة النشر: 1422 - 2001 ط 1 - فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر. الطبعة: الأولى، 1356 - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية.عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے

عَنِ ‌ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَتَعَاظُمَهَا بِآبَائِهَا، فَالنَّاسُ رَجُلَانِ: بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى اللهِ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى اللهِ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَخَلَقَ اللهُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ، قَالَ اللهُ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [الحجرات: 13]».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]
رواه الترمذي وابن حباندرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ نے تم سے جاہلی دور کے کبر و نخوت اور آبا و اجداد پر فخر کرنے کے طور طریقے کو دور کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں : یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔ یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔ سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]

فوائد
  1. حسب نسب پر فخر کرنے کی ممانعت۔
حوالہ

سنن الترمذي (5/ 309) (3270)، صحيح ابن حبان (9/ 137) (3828)، عون المعبود وحاشية ابن القيم (14/ 16)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص587).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com