سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔

عن أبي علي سويد بن مُقَرِّن رضي الله عنه قال: لقد رَأَيْتُنِي سابع سبعة من بني مُقَرِّن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعتقها وفي رواية: «سابع إخوة لي».
ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: مصطفى الخن وآخرون، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. شرح رياض الصالحين، العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض - الطبعة: 1426 هـ. دليل الفالحين، لابن علان الصديقي، دار الكتاب العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غلامی وآزادی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com