سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

غلامی وآزادی

14 احادیث

ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ غُلاماً لَهُ-، وَفِي لَفْظٍ: بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلاماً لَهُ عنْ دُبُرٍ- لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ رَسُولُ الله بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ ثَمَنَهُ إلَيْهِ.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدَبَّرْ (یعنی اسے اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد) قرار دے دیا۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ: نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بطور مدبر اپنے ایک غلام کو آزاد کر دیا ہے۔ اس شخص کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور ا س کی قیمت اس (انصاری) کی طرف بھجوا دی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک انصاری آدمی نے اپنے غلام کی آزادی کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا(اسی کو غلاموں کی تدبیر کہتے ہیں)۔ اس غلام کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا مال نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اس آزادی کو تفریط گردانتے ہوئے اس کے اس فعل کی تایید نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نےاسے مسترد کرتے ہوئے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور یہ دراہم اس کی طرف بھیج دیئے۔ اس شخص کا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنا آزاد کرنے سے بہتر اور افضل تھا تاکہ وہ لوگوں کا دست نگر نہ ہو جائے۔ اس طرح کی احادیث میں ایسے احکام ہوتے ہیں جن سے انسان کو واقف ہو نا چاہیے، اگرچہ وہ ان پر عمل نہ ہی کرے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس حجت کی بنا پر وہ انھیں سیکھنا اور سمجھنا ہی چھوڑ دے کہ آج کل غلام پائے ہی نہیں جاتے۔ غلامی افریقہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے رائج ہو جائے جب کہ یہ قدیم زمانے سے لے کر اسلام کی آمد اور اس کے بعد تک موجود رہی ہے۔ تاہم غلامی کی صورت میں اسلام حریت اور آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام -تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص کسی غلام میں اپنے حصہ کو آزاد کر دے ، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکا کے حصے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی ، بشرطے کہ اس کے پاس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو۔ اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا...

عن عَبْدُ الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَن أَعْتَقَ شِرْكًا له في عَبْدٍ، فكان له مالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ العَبْدِ: قُوِّمَ عليه قِيمَةَ عَدْلٍ ، فأعطى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وعَتَقَ عليه العَبْدُ ، وإلا فقد عَتَقَ منه ما عَتَقَ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دے ، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکا کے حصے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطے کہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا؛ لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو، تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا، جتنا اس نے آزاد کیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جو شخص کا کسی غلام یا لونڈی میں حصہ ہو، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ اپنے حصے کے بقدر آزاد کردے، تو اس کے آزاد کرنے کی وجہ سے اس کے حصے کی آزادی عمل میں آ جائے گی۔ اب اگر آزاد کرنے والا اپنے شراکت داروں کی قیمت ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، تو وہ غلام کو اپنے اور شریک کے حصے سے مکمل آزادی دلائے گا اور اپنے شریک کے حصے کی قیمت مارکیٹ کی قیمت کے مطابق دے گا۔ اوراگر وہ شریک کے حصے کی قیمت ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے، تو غلام کی آزادی پر کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔ وہ صرف اس کے حصے کے بقدر آزاد ہوگا اور اس کے شریک کے حصے کے بقدر غلام کی غلامی برقرار رہے گی۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أعتق شِقْصَاً مِنْ مملوك، فعليهِ خَلاصُهُ كله في ماله، فإِنْ لم يكن له مال؛ قُوِّمَ المملوك قِيمَةَ عَدْلٍ، ثمَّ اُسْتُسْعِيَ العبد، غير مَشْقُوقٍ عليه».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہئے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے ۔ پھر غلام سے کہا جائے کہ (اپنی آزادی کی) کوشش میں لگ جا‏ۓ۔ لیکن غلام پر اس سلسلے میں کوئی مشقت نہ ڈالی جائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جس نے اپنے زیر ملکیت غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے غلام کو آزاد کردے، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو۔ یعنی اپنا حصہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام میں اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کر کےاسے پورا آزاد کر سکتا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو یا مال تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ آزادی کا خرچ برداشت کر سکے یا پھر ایسا کرنے سے اسے کوئی نقصان ہو، تواس صورت میں وہ غلام کو دو امور کا اختیار دے گا۔ اول:یہ کہ غلام کا اس قدر حصہ ملک میں رہے جو باقی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ غلام "مبعض" ہو گا۔ یعنی اس کا بعض حصہ غلام ہو گا اور بعض آزاد۔ اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جزوى غلام بن کر رہے۔ دوم:وہ غلام اس شخص کو رقم ادا کرنے کے لیے کام کرے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، بعد اس کے کہ غلام کی منصفانہ انداز میں قیمت لگوائی جائے۔ اسے استسعا کہا جاتا ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔

عن أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث رضي الله عنها : أنها أعتقت وَليدَةً ولم تستأذن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان يَومُها الذي يَدورُ عليها فيه، قالت: أشَعَرْتَ يا رسول الله، أني أعتقت وليدتي؟ قال: «أو فعلت؟» قالت: نعم. قال: «أما إنك لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك».
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کر دی اور نبی کریم ﷺ سے (اس کی) اجازت نہیں لی۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے ان کے پاس تشریف لانے (یعنی ان کی باری) کا دن ہوا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے محسوس کیا کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامووٗں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا چونکہ یہ جانتی تھیں کہ اللہ کے راستے میں ٖغلام آزاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ایک باندی کو آزاد کر دیا۔ لیکن اس کی خبر نبی ﷺ كو نہیں دی تھی یا آپ سے اس کو آزاد کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔ لہٰذا جب ان کی باری تھی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتلادیا۔ آپ نے پوچھا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میمونہ رضى الله عنها نے آپ کی رائے لیے بنا جو کچھ کیا تھا اس پر آپ نے کوئی نکیر نہیں فرمائی، صرف اتنا فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے زیادہ ثواب کا باعث ہوتا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: تو نے اچھا کیا، لیکن اگر تو اسےبنی ہلال کے اپنے مامؤوں کو ہبہ کردیتی تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتا اور بہتر ہوتا، اس لئے کہ اس میں اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - أبو الحسن عبيد الله المباركفوري - إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء - الجامعة السلفية - بنارس الهند الطبعة: الثالثة - 1404 هـ، 1984.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تین قسم کے افراد کے لیے دوہرا اجر ہے: ایک وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہے، وہ اپنے نبی پر ایمان لایا اور (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ (دوسرا) مملوک غلام جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی۔ (تیسرا) وہ شخص جس کی ایک باندی ہو۔ چنانچہ اس نے اسے ادب سکھایا اور اس کی خوب اچھی تربیت کی، اور اسے علم سکھایا اور اسے خوب اچھی تعلیم سے آراستہ کیا، پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی کرلی، اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «ثلاثة لهم أجْرَان: رجُلٌ من أهل الكتاب آمن بِنَبِيِّه، وآمَن بمحمد، والعَبْد المملوك إذا أَدَّى حَقَّ الله، وحَقَّ مَوَالِيه، ورجل كانت له أمَة فأدَّبَها فأحسن تَأدِيبَها، وَعَلَّمَهَا فأحسن تَعْلِيمَهَا، ثم أعْتَقَها فتزوجها؛ فله أجران».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین قسم کے افراد کے لیے دوہرا اجر ہے: ایک وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہے، وہ اپنے نبی پر ایمان لایا اور (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ (دوسرا) مملوک غلام جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی۔ (تیسرا) وہ شخص جس کی ایک باندی ہو۔ چنانچہ اس نے اسے ادب سکھایا اور اس کی خوب اچھی تربیت کی، اور اسے علم سکھایا اور اسے خوب اچھی تعلیم سے آراستہ کیا، پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی کرلی، اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔‘‘
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

تین قسم کے آدمیوں کو قیامت کے دن دوہرا اجر ملے گا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایک وہ شخص جو یہودیوں یا عیسائیوں میں سے ہے، وہ اپنے اس نبی پر بھی ایمان لایا جو اس کی طرف پہلے بھیجے گئے تھے اور وہ موسی یا عیسی علیہما الصلوۃ و السلام ہیں، اور ایسا نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے اور آپ ﷺ کی دعوت کے پہنچنے سے پہلے ہے۔ پھر جب نبی ﷺ مبعوث ہو ئے اور اس تک آپ ﷺ کی دعوت پہنچی تو وہ اس پر بھی ایمان لے آیا، تو۔اس شخص کے لئے دوہرا اجر ہے، ایک تو اس کے اپنے اس رسول پر ایمان لانے کا اجر ہے جسے اللہ نے اس کی طرف پہلے بھیجا تھا اور دوسرا اس کے محمد ﷺ پر ایمان لانے کا اجر۔ مملوک غلام جب اللہ کی عبادت کرے اور اس کا آقا اسے جن کاموں کی ذمہ داری سونپتا ہے ان سے بھی وہ اچھے انداز میں عہدہ برآ ہو، تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔ اور اسی طرح وہ شخص جس کی ملکیت میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کی اچھے طریقے سے پرورش کرے اور اسے حلال و حرام پر مشتمل دینی امور سکھائے اور پھر اسے غلامی سے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے بھی دوہرا اجر ہے۔ پہلا اجر: اسے علم سکھانے اور اسے آزاد کرنے پر۔ دوسرا اجر: اسے آزاد کرنے کے بعد اس کے ساتھ احسان و بھلائی کرنے پر۔ کیوں کہ اسے آزاد کرنے کے بعد اسے ضائع نہیں کیا، بلکہ اس کی ساتھ شادی کرلی اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت کی۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔

عن عائشة بنت أبي بكر رضي الله عنهما قالت: كانت في بريرة ثلاث سنن: خُيِّرَتْ على زوجها حين عتقت. وأُهْدِيَ لها لحم، فدخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم والبُرْمَةُ على النار، فدعا بطعام، فَأُتِيَ بخبز وأُدْمٌ من أدم البيت، فقال: ألم أَرَ البرمة على النار فيها لحم؟ قالوا: بلى، يا رسول الله، ذلك لحم تُصدِّق به على بريرة، فكرهنا أن نطعمك منه، فقال: هو عليها صدقة، وهو منها لنا هدية. وقال النبي صلى الله عليه وسلم فيها: إنما الوَلاء لمن أعتق».
عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے تین شرعی احکام جاری ہوئے:ایک یہ کہ وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اپنے خاوند کی بابت اختیار دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ انہیں بطور صدقہ کہیں سے گوشت آیا۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو ہنڈیا آگ پررکھی تھی۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو آپ ﷺ کو روٹی کے ساتھ گھر والا سالن دے دیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر رکھی ہنڈیا میں گوشت نہیں پک رہا تھا؟گھر والوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! لیکن وہ تو وہ گوشت ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے اس لئے ہم نے درست نہیں سمجھا کہ آپ کو اس میں سے کھلائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا لیکن اس کی طرف سے ہمارے لئے تحفہ ہو گا۔ تیسرا یہ کہ رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں ہی فرمایا تھا کہ: حق ولاء اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی آزاد کردہ باندی کی برکت بیان کر رہی ہیں اور اس با برکت سودے کا ذکر کررہی جس نے اسے ان کے قریب کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر مشتمل اپنے احکامات میں سے تین کو ان کے بارے میں جاری فرمایا جو رہتے زمانے تک شرعی احکامات بن گئے۔ اول: وہ تب آزاد ہوئیں جب وہ اپنے غلام شوہر مغیث کے نکاح میں تھیں۔ انہیں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ان کے ساتھ رہیں یا پھر انہیں چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو الگ کر لیں۔ کیونکہ وہ مرتبے کے اعتبار سے اب ان کے ہم پلہ نہیں رہے تھے کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام اور اس معاملے میں برابری کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ ان کا یہ عمل دوسروں کے لئے سنت بن گیا۔ دوم: ان کو بطور صدقہ گوشت دیا گیا جب کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں جنہوں نے انہیں آزاد کیا تھا۔ نبی ﷺ گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کا وہ سالن دے دیا جو وہ عموما استعمال کیا کرتے تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو جو صدقے کا گوشت آیا تھا اس میں سے آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ دیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر چڑھی ہنڈیا میں گوشت نہیں تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: جی بالکل ہے۔ لیکن وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ آیا ہے اس وجہ سے ہم نے اسے آپ کو کھلانا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ان کے طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہو گا۔ سوم: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے جب انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیچنا چاہا تو انہوں نے شرط لگائی کہ آزاد کرنے پر حق ولاء انہی کے پاس رہے گا کیونکہ جب باندی ان کی طرف منسوب ہو گی تو یہ ان کے لئے فخر کا باعث ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے انہیں کوئی مادی فائدہ بھی حاصل ہو جیسے وراثت اور نصرت وغیرہ۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ یہ بیچنے والے یا کسی اور کو نہیں ملتا۔ ولاء در اصل مالک آقا اور مملوک غلام کے مابین اس کے آزاد ہو جانے کے بعد قائم رہنے والا ایک تعلق ہے۔ اگر غلام کا کوئی وارث نہ ہو یا پھر ذوی الفروض کے میراث میں سے اپنا حصہ لے چکنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے تو وہ آقا کو بطور میراث مل جاتا ہے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام لفيصل بن عبد العزيز آل المبارك ، ط2، 1412 هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «للعبد المملوك المصلح أجران»، والذي نفس أبي هريرة بيده لولا الجهاد في سبيل الله والحج، وبر أمي، لأحببت أن أموت وأنا مملوك.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکوکار مملوک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کی خدمت میرے سامنے نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے غلام کے لیے دُہرا اجر ہے جو اپنے مالک کا خیر خواہ اور اپنے رب کے حقوق کو قائم کرنے والا ہو، ایک عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی وجہ سے اور دوسرے آقا کی خدمت کرکے اس کا حق ادا کرنے کی وجہ سے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر غلام پر جہاد ہوتا اور مجھ پر اپنی والدہ کے خرچے اور خدمت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو مجھے غلام رہ کر مرنا زیادہ پسند تھا اس پر ملنے والے اجر کی خاطر۔

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. كنوز رياض الصالحين، بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے ( نجات دے گا )۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه، عضوًا منه في النار، حتى فرجه بفرجه».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے، دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے (نجات دے گا)“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے گا، وہ اپنا پورا بدن جہنم کی آگ سے آزاد کرا لے گا۔ نیز واضح ہو کہ مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے میں مسلمانوں کی عزت ہے، بایں طور کہ ان سے غلامی کی ذلت دور ہو جاتی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة المصورة عن السلطانية الطبعة الأولى 1422. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. كنوز رياض الصالحين، بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
14 میں سے 8
14 احادیث
  1. ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدبَّرْ قرار دے دیا۔
  2. جو شخص کسی غلام میں اپنے حصہ کو آزاد کر دے ، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی اور اس کے بقیہ شرکا کے حصے کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی ، بشرطے کہ اس کے پاس غلام کی قیمت کے بقدر مال ہو۔ اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا...
  3. جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔
  4. اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔
  5. تین قسم کے افراد کے لیے دوہرا اجر ہے: ایک وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہے، وہ اپنے نبی پر ایمان لایا اور (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ (دوسرا) مملوک غلام جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی۔ (تیسرا) وہ شخص جس کی ایک باندی ہو۔ چنانچہ اس نے اسے ادب سکھایا اور اس کی خوب اچھی تربیت کی، اور اسے علم سکھایا اور اسے خوب اچھی تعلیم سے آراستہ کیا، پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی کرلی، اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔
  6. حق ’وِلاء‘ اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔
  7. غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔
  8. جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے ( نجات دے گا )۔
  9. مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔
  10. بے شک نماز میں لوگوں کی گفتگو (دنیوی بات چیت) میں سے کوئی چیز درست نہیں ہے ، بلکہ نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن کریم پڑھنے کا نام ہے۔
  11. ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے
  12. جس آدمی نے کسی مسلمان کو آزاد کیا، اللہ اس آزاد کردہ غلام کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اس کے کسى ایک عضو کو آگ سے بچائے گا
  13. تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار کرتے تھے۔
  14. اوربلاشبہ دستاویزوں کے جو مختلف فوائد ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں،

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com