اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غلام کو آزاد کرکے غلامی سے نجات دلانے کی فضیلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ایک اہم ترین عبادت، اللہ کی نزدیکی حاصل کرنے کا عظیم ترین ذریعہ اور آگ سے نجات حاصل کرنے کا بڑا اہم سبب ہے۔ جب کوئی انسان کسی غلام کو آزاد کرتا ہے، تو اللہ کے یہاں اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ اسے آگ سے آزاد کر دے، کیونکہ اللہ بدلہ اسی نوع کا دیتا ہے، جس نوع کا عمل انسان کرتا ہے۔ غلام آزاد کرنے والے کو آگ سے آزاد اس لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ غلام معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے اپنے بارے میں تصرف کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں کچھ اسی طرح کا تصرف کیا جاتا ہے، جو جانوروں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ لہذا، اس کو غلامی سے نجات دلانا عدم سے وجود میں لانے کے مرادف ہے، کیونکہ آزادی کے بعد وہ غلامی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے، اپنے منافع کا خود مالک بن جاتا ہے، احکام کی تکمیل کا اختیار حاصل کرلیتا ہے، اپنے نفس کے بارے میں تصرف کی قدرت پا لیتا ہے اور شریعت کے دائرے میں رہ کر اپنے ارادے اور اختیار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل کر لیتا ہے۔
- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان. دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ . - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري المؤلف: حمزة محمد قاسم, عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون, مكتبة دار البيان، مكتبة المؤيد، طبعة : 1410 هـ.