- إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت. الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي. ط1 1428ه - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - سنن ابن ماجه. تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي. الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي - سنن أبي داود. المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد. الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية. سنة النشر: 1422 - 2001 ط 1 - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط. الناشر : مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م.
تشریح کے ساتھ احادیث
تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار کرتے تھے۔
عن سفينة، قال: كنت مَمْلُوكًا لأم سلمة فقالت: أُعْتِقُكَ وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عِشْتَ فقلت: «وإن لم تَشْتَرِطِي عَلَيَّ، ما فَارَقْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي، واشْتَرَطَتْ عَلَيَّ».
چنانچہ یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت میں سے تھے جن کے جسم کسی عذر یا مرض کی وجہ سے مدینہ میں روک لئے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس عزوہ میں نہ نکل سکے، لیکن وہ اپنے دلوں اور عزم محکم کے ساتھ نکلے، چنانچہ وہ اپنی روحوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی ساتھ تھے اور اپنے وجود کے ساتھ دار الہجرت مدینہ میں۔ اور یہ قلبی جہاد کہلاتا ہے،
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
حوالہ
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com