سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ممنوعہ مشابہت

6 احادیث

”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ آلْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ؟».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔ اگر وہ کسی سانڈے کے بِل ميں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس ميں گھس جاؤگے“۔ صحابہ كرام نے عرض كيا : یا رسول اللہ! ان سے مراد يہود و نصارىٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : "پھر اور کون؟"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کے زمانے کے بعد آپ کی امت کے ایک طبقے کا کیا حال ہونے والا ہے۔ یہ طبقہ عقائد، افعال، عادات اور رسوم و رواج میں یہود و نصاری کی ہو بہو نقالی کرنے لگے گا۔ حال یہ ہوگا کہ وہ اگر سانڈہ کے بل میں گھسے ہوں گے، تو یہ بھی ان کے پیچھے پیچھے گھس جائيں گے۔

فوائد
  1. یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے نبی ہونے کی ایک نشانی ہے کہ ہوبہو وہی ہوا، جو آپ نے بتایا تھا۔
  2. مسلمانوں کو کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت۔ مشابہت خواہ ان کے عقائد میں ہو، عبادتوں میں ہو، تہواروں میں ہو یا ان کے خاص لباس وپوشاک میں ہو۔
  3. اسلام میں تعلیم کا ایک طریقہ محسوس مثالوں کے ذریعہ غیر محسوس چیزوں کو واضح کرنا بھی ہے۔
  4. سانڈہ ایک جانور ہے، جس کا بل بڑا ہی تاریک اور بدبودار ہوتا ہے۔ یہ ایک رینگنے والا جانور ہے، جو صحراؤں میں بہ کثرت پایا جاتا ہے۔ یہاں بطور خاص سانڈے کے بل کا ذکر اس لیے ہوا ہے کہ سانڈے کا بل بہت زیادہ تنگ اور بے ڈھب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے اس تنگ اور بے ڈھب بل میں گھستے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ہی موافقت کرنے والے ہیں! ہم اللہ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 103) (7320). صحيح مسلم (4/ 2054) (2669). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص213). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص193).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔

عن ابنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم: «مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔
رواه أبو داود وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے کسی کافر، فاسق یا صالح قوم کی مشابہت اپنائی، مثلا عقائد، عبادتوں یا عادتوں سے جڑا ہوا کوئی ایسا کام کیا، جو ان کی خصوصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، تو اس کا شمار انہی لوگوں میں ہوگا۔ کیوں کہ ظاہری امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے باطنی مشابہت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہيں ہے کہ کسی قوم سے مشابہت اس سے مرعوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کبھی کبھی اس سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی جانب میلان کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ اس سے باطنی اور عبادت تک میں مشابہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔

فوائد
  1. اس حدیث میں کافروں اور فاسقوں سے مشابہت اختیار کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
  2. اس حدیث میں نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  3. ظاہری مشابہت باطنی مشابہت کا سبب بنتی ہے۔
  4. انسان مشابہت اور اس کی نوعیت کے مطابق وعید اور گناہ کا حق دار بنتا ہے۔
  5. دین اور خاص عادتوں کے معاملے میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔ لیکن دیگر باتوں میں جیسے علم و ہنر وغیرہ سیکھنے میں مشابہت اختیار کرنا اس وعید کے دائرے میں نہیں آئے گا۔
حوالہ

سنن أبي داود (6/ 144) (4031). مسند أحمد (9/ 126) (5115). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 363). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 157). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 335). مشكاة المصابيح، للتبريزي (2/ 1246).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لِبْسَةَ المرأة، والمرأة تلبس لِبْسَةَ الرجل.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
رواه النسائي في الكبرى وابن ماجه بمعناه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مرد کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص لباسوں کو زیب تن کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ مشابہت چاہے کپڑے کی ہیئت میں ہو، رنگ میں ہو، کیفیت میں ہو یا پہننے اور زینت اختیار کرنے وغیرہ کے طریقے میں ہو۔ اسی طرح آپ نے ہر ایسی عورت کے حق میں اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے جو مردوں کے ساتھ خاص لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہ ہے۔

فوائد
  1. شوکانی کہتے ہيں: عورت کے لیے مرد کی اور مرد کے لیے عورت کی مشابہت حرام ہے۔ کیوں کہ لعنت کسی حرام کام پر ہی کی جاتی ہے۔
  2. ابن عثیمین کہتے ہيں: جو کپڑے مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہوں، جیسے وہ ٹی شرٹ جنھیں مرد اور عورت دونوں پہنتے ہيں، تو انھیں پہننے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ یعنی انھیں مرد اور عورت دونوں پہن سکتے ہيں۔ کیوں کہ یہ مشترک ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (6/ 195) (4098). السنن الكبرى للنسائي (8/ 297) (9209). سنن ابن ماجه (3/ 95) (1903). مسند أحمد (14/ 61) (8309). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1122). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 337). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 150). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 370).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہودی اور عیسائی خضاب نہیں لگاتے۔ تم ان کی مخالفت کیا کرو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن اليهود والنصارى لا يصبغون، فخالفوهم».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی خضاب نہیں لگاتے۔ تم ان کی مخالفت کیا کرو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابوہریرہ رضی اللہ عنہا بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ یہودی و عیسائی اپنے سروں اور داڑھیوں کے بالوں پر خضاب نہیں لگاتے، بلکہ (ان میں نمودار ہونے والی ) سفیدی کو جوں کا توں چھوڑ دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مسلمان ان کی مخالفت کرتے ہوئے داڑھی اور سر کو رنگیں اور خضاب لگائیں۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 ه.ـ صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هــ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما أُمِرْتُ بِتَشْيِيد المساجد»، قال ابن عباس: لتُزَخْرِفُنَّها كما زَخْرَفَت اليهود والنصارى.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہود ونصاری نے آراستہ کیا ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہاں مساجد کو آراستہ کرنے سے مراد انہیں بلند اور بڑا بنانا ہے جیسا کہ امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے اور مساجد کو آراستہ وپیراستہ کرنے میں مبالغہ سے کام لینا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہود ونصاری کا شیوہ رہا ہے۔ رہا مسجد کو بلند بنانا اور اس کی عمارت کو مستحکم ومضبوط کرنا بغیر زیب و زینت اور سجاوٹ کے جس سے اس کی بناوٹ مضبوط رہے تو یہ مکروہ نہیں ہے، جب تک کہ اس میں شیخی، ریاکاری اور شہرت نہ ہو، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ”جس کسی نے اللہ کے لیے کوئی مسجد تعمیر کی، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں اسی کے مثل ایک گھر بنائے گا“۔ نبی ﷺ کی مسجد کچی اینٹ اور اس کی چھت کھجور کی شاخ اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس کی لکڑی اورکھجور کی شاخ بوسیدہ ہو گئی تو اسے پہلے کی طرح تعمیر کرادی اور اس میں تھوڑا اضافہ کردیا، اور جب عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اس میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا، انہوں نے اس کی دیواروں کو پتھروں اور چونا سے پلاستر کرا دیا، اس کے ستون پتھروں سے اور چھت ساگوان کی لکڑی سے بنوا دی، اور اس میں فائدہ مند چیزیں مضبوطی کے لیے ڈال دیں جس کا مقصد سجاوٹ نہیں، بلکہ مضبوطی کے لیے ایسا کیا تھا،اور چونے کا پلستر بغیر زیب وزینت کے تھا۔ اور رہا نقش ونگار والے پتھروں کا معاملہ تو اسے ان کے حکم سے نقش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نقش و نگار والا پتھر ہی انہیں ملا تھا، اور جن صحابہ نے ان پر نکیر کی تھی ان کے پاس منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی اِلاّ یہ کہ وہ انہیں نبی ﷺ اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح مسجد کی تعمیر بغیر سجاوٹ کے کرنے پر ابھارا تھا اور یہ مساجد کی مستحکم تعمیر کرنے کے سلسلہ میں ممانعت وکراہت کی متقاضی نہیں ہے۔

حوالہ

السنن، لأبي داود سليمان بن الأشعث أبو داود السجستاني الأزدي، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد. مشكاة المصابيح للتبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1985م. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام ، مكتبة الأسدي، مكة ، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي، الرياض .

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"

عن ابن عباس، قال: لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم المُخَنَّثِينَ من الرجال، والمُتَرَجِّلاَتِ من النساء، وقال: «أخرجوهم من بيوتكم» قال: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فلانًا، وأَخْرَجَ عُمَرُ فلانًا.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم- نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"۔ وہ کہتے ہیں : چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اور عمر رضی اللہ عنہ- نے فلاں کو نکال دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بد دعا کی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ رویہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی لانے کے اندر داخل ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شر سے لوگوں کو بچانے اور گھروں کی پاکیزگی اور عفت کے تحفظ کے لیے انھیں گھروں اور شہروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة. الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية، سنة النشر: 1422 - 2001 ط 1.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com