اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے کسی کافر، فاسق یا صالح قوم کی مشابہت اپنائی، مثلا عقائد، عبادتوں یا عادتوں سے جڑا ہوا کوئی ایسا کام کیا، جو ان کی خصوصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، تو اس کا شمار انہی لوگوں میں ہوگا۔ کیوں کہ ظاہری امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے باطنی مشابہت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہيں ہے کہ کسی قوم سے مشابہت اس سے مرعوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کبھی کبھی اس سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی جانب میلان کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ اس سے باطنی اور عبادت تک میں مشابہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔
- اس حدیث میں کافروں اور فاسقوں سے مشابہت اختیار کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
- اس حدیث میں نیک لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- ظاہری مشابہت باطنی مشابہت کا سبب بنتی ہے۔
- انسان مشابہت اور اس کی نوعیت کے مطابق وعید اور گناہ کا حق دار بنتا ہے۔
- دین اور خاص عادتوں کے معاملے میں کافروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔ لیکن دیگر باتوں میں جیسے علم و ہنر وغیرہ سیکھنے میں مشابہت اختیار کرنا اس وعید کے دائرے میں نہیں آئے گا۔
سنن أبي داود (6/ 144) (4031). مسند أحمد (9/ 126) (5115). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 363). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 157). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 335). مشكاة المصابيح، للتبريزي (2/ 1246).