اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مرد کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص لباسوں کو زیب تن کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ مشابہت چاہے کپڑے کی ہیئت میں ہو، رنگ میں ہو، کیفیت میں ہو یا پہننے اور زینت اختیار کرنے وغیرہ کے طریقے میں ہو۔ اسی طرح آپ نے ہر ایسی عورت کے حق میں اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے جو مردوں کے ساتھ خاص لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہ ہے۔
- شوکانی کہتے ہيں: عورت کے لیے مرد کی اور مرد کے لیے عورت کی مشابہت حرام ہے۔ کیوں کہ لعنت کسی حرام کام پر ہی کی جاتی ہے۔
- ابن عثیمین کہتے ہيں: جو کپڑے مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہوں، جیسے وہ ٹی شرٹ جنھیں مرد اور عورت دونوں پہنتے ہيں، تو انھیں پہننے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ یعنی انھیں مرد اور عورت دونوں پہن سکتے ہيں۔ کیوں کہ یہ مشترک ہے۔
سنن أبي داود (6/ 195) (4098). السنن الكبرى للنسائي (8/ 297) (9209). سنن ابن ماجه (3/ 95) (1903). مسند أحمد (14/ 61) (8309). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1122). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 337). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 150). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 370).