عن عائشةَ أمِّ المؤْمنِين رضي الله عنها قالت: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الفَجْرِ.
عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ جس قدر اہتمام فجر کی دو سنتوں کا کرتے تھے اتنا کسی اور نفلی نماز کا نہیں کرتے تھے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”فجر کی دو رکعتیں دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں فجر کی دو رکعت سنتوں کی اہمیت اور ان کے بارے میں وارد ہونے والی تاکید کا بیان ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان پر بہت زور دیا ۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل سے بھی ان کی اہمیت کو اجاگر کیا بایں طور کہ آپ ﷺ ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے اور قولی طور پر اس کی اہمیت پر یہ فرما کر زور دیا کہ یہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 57) (1169).
صحيح مسلم (1/ 501) (724).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص113).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 144).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن حفصة رضي الله عنها «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يُصلي ركعتين خَفيفتين بعد ما يَطلع الفجر»، وفي رواية: قبل أن تُقام الصلاة.
اُمّ المؤمنىن حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنتِ فجر) پڑھتے.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی نماز کا اقامت ہونے سے پہلے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی کیفیت بتا رہی ہیں کہ آپ دو رکعات پڑھتے تھے، یہ فجر کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ﷺ مختصر سی دو رکعات پڑھتے تھے۔
حدیث میں جو ”خَفيفتين“ فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ قیام، رکوع اور سجود میں اختصار فرماتے، بہت زیادہ مختصر ہونے کی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا بخاری کی روایت میں فرماتی ہے ”هل قرأ بأمُّ الكتاب؟“ کہ آپ نے فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں؟ مؤطّا کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ فجر کی دو رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی آپ فاتحہ پڑھتے ہیں بھی یا نہیں؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس میں اتنی جلدی کرتے تھے کہ نماز کے ارکان قیام، رکوع اور سجود میں خلل پڑتا۔ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ باقی نفلی عبادات جن کو طویل کرنے کی آپ کو عادت تھی ان کی بنسبت اسے مختصر پڑھتے تھے۔
”بَعْدَ ما يَطْلُعُ الفَجْرُ“ یعنی طلوعِ فجر کے بعد ان دو رکعات کے پڑھنے میں جلدی کرتے تھے۔ ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کا وقت طلوع فجر سے لے کر فجر کی فرض نماز تک ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة الأولى، 1422هـ.
فتح الباري شرح صحيح البخاري، تأليف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، رقمه وبوب أحاديث: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379هـ.
المنتقى: شرح موطأ مالك، تأليف: سليمان بن خلف بن سعد القرطبي، الناشر: مطبعة السعادة، الطبعة الأولى، 1332هـ.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عائشةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يَدع أربعا قَبل الظهر وركعتين قبل الغَدَاة.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات نہیں چھوڑتے تھے"۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم درج ذیل دو نفل نمازیں پابندی سے اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور انھیں چھوڑتے نہیں تھے: ظہر سے پہلے دو سلام سے چار رکعت اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعت۔
فوائد
- ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعت نماز پابندی سے پڑھنا مستحب ہے۔
- سنن رواتب کو گھر میں پڑھنا مستحب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں بتایا۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 59) (1182).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 379).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رضي الله عنها زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جس نے ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار چار رکعتیں پڑھنے کی پابندی کی، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پابندی سے ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد چار رکعت نفل نماز پڑھنے والے کو خوش خبری سنائی ہے کہ اسے اللہ جہنم پر حرام کر دے گا۔
فوائد
- ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد چار رکعت پابندی سے پڑھنا مستحب ہے۔
- فرض نماز سے پہلے پڑھے جانے والے سنن رواتب کی کچھ حکمتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ فرض نماز شروع کرنے سے قبل نمازی کا نفس عبادت کے لیے تیار ہوجائے۔ جب کہ فرض نماز کے بعد پڑھے جانے والے سنن رواتب کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ فرض نمازوں میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہو اس کی تلافی ہو جائے۔
- سنن رواتب کے بڑے بیش بہا فوائد وثمرات ہیں۔ جیسے نیکیوں میں اضافہ، گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی۔
- وعدوں پر مشتمل اس طرح کی حدیثوں کے بارے میں اہل سنت کا قاعدہ یہ ہے کہ انھیں توحید کی حالت میں موت پر محمول کیا جائے اور مراد جہنم میں ہمیشہ نہ رہنا لیا جائے۔ کیوں کہ گناہ گار موحدین سزا کے مستحق تو ہيں، لیکن سزا دیے بھی جائيں، تو جہنم میں ہمیشہ نہيں رہيں گے۔
حوالہ
سنن أبي داود (2/ 448) (1269).
سنن الترمذي (1/ 452) (428).
سنن النسائي (3/ 265) (1816).
سنن ابن ماجه (2/ 238) (1160).
مسند أحمد (44/ 358) (26772).
سبل السلام شرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (1/ 336).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 381).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سَكَتَ المؤذن بالأولى من صلاة الفجر قام، فركع ركعتين خفيفتين قبل صلاة الفجر، بعد أن يَسْتَبينَ الفجر، ثم اضطجع على شِقِّهِ الأيمن، حتى يأتيه المؤذن للإقامة».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں بیان ہوا کہ جب مؤذن فجر کی اذان دیتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں( سنت فجر ) ادا کرتے پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۔ یہاں تک کہ مؤذن اقامت کی اطلاع دینے کے لیے آپ کے پاس آتا۔
حوالہ
صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي.
التوضيح لشرح الجامع الصحيح, ابن الملقن الشافعي, ت: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث, دار النوادر، دمشق – سوريا, الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.
الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري, محمد بن يوسف بن علي شمس الدين الكرماني, دار إحياء التراث العربي، بيروت-لبنان, طبعة أولى: 1356هـ - 1937م.
الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية, أبو نصر إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي, تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار, دار العلم للملايين – بيروت, الطبعة: الرابعة 1407 هـ - 1987 م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا صلى أحدكم الركعتين قبل الصبح، فليضطجع على يمينه»، فقال له مروان بن الحكم: أما يجزئ أحدنا ممشاه إلى المسجد حتى يضطجع على يمينه، قال عبيد الله في حديثه: قال: لا، قال: فبلغ ذلك ابن عمر، فقال: أكثر أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئا مما يقول؟ قال: «لا، ولكنه اجترأ وجبنا»، قال: فبلغ ذلك أبا هريرة، قال: «فما ذنبي إن كنت حفظت ونسوا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے۔ مروان بن حکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا مسجد تک چلنا کافی نہیں ہے جب تک کہ داہنی کروٹ پر نہ لیٹے؟ عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمايا:نہیں۔ راوی کہتے ہيں کہ جب اس بات کا علم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ہوا تو فرمايا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کثرت سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گيا: کیا آپ ان کے کسی قول کی تردید کرتے ہیں؟ فرمایا: نہیں (بات یہ ہے کہ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جرأت کی اور ہم نے خوف کیا۔ جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمايا: ”اس میں میرا کیا قصور ہے کہ میں نے یاد رکھا اور وہ بھول گئے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حديث ميں اس بات کا بيان ہے کہ فجر کی دو سنتيں پڑھنے کے بعد فرض نماز کی اقامت تک دائيں کروٹ پر ليٹنا مسنون ہے۔
دائيں جانب کی تخصيص ميں حکمت يہ ہے کہ انسان گہری نيند نہ سوجائے، کيونکہ دل انسان کے بائيں طرف ہوتا ہے لہذا اس حالت ميں انسان کا دل لٹکا ہوا رہتا ہے اور قرار وسکون نہيں حاصل ہوتا ہے ، اور جب بائيں کروٹ پر ليٹتا ہے تو وہ مکمل راحت اور سکون ميں ہوتا ہے اسی لئے گہری نيند سوجاتا ہے۔
حوالہ
مسند أحمد بن حنبل، لأبي عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب.
سنن الترمذي، لأبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق : بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي – بيروت.
السنن، لأبي داود سليمان بن الأشعث أبو داود السجستاني، دار الفكر، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي، الرياض.
صحيح أبي داود، محمد ناصر الدين الألباني، مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com