سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سَكَتَ المؤذن بالأولى من صلاة الفجر قام، فركع ركعتين خفيفتين قبل صلاة الفجر، بعد أن يَسْتَبينَ الفجر، ثم اضطجع على شِقِّهِ الأيمن، حتى يأتيه المؤذن للإقامة».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں بیان ہوا کہ جب مؤذن فجر کی اذان دیتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں( سنت فجر ) ادا کرتے پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۔ یہاں تک کہ مؤذن اقامت کی اطلاع دینے کے لیے آپ کے پاس آتا۔

حوالہ

صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي. التوضيح لشرح الجامع الصحيح, ابن الملقن الشافعي, ت: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث, دار النوادر، دمشق – سوريا, الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري, محمد بن يوسف بن علي شمس الدين الكرماني, دار إحياء التراث العربي، بيروت-لبنان, طبعة أولى: 1356هـ - 1937م. الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية, أبو نصر إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي, تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار, دار العلم للملايين – بيروت, الطبعة: الرابعة 1407 هـ‍ - 1987 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
موکدہ سنتیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com