سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا

25 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریّہ بھیجا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نکلے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «بعث رسولُ الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلَى نَجْدٍ فخرجَت فِيهَا، فَأَصَبْنَا إبِلاً وَغَنَماً، فبلغتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيراً، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بَعِيراً بَعِيراً».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس کے ساتھ میں بھی گیا۔ مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہمارے ہاتھ لگیں۔(مال غنیمت میں) ہمارے حصے بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سریہ کی شکل میں انہیں نجد کی طرف بھیجا اور ان کے ہاتھ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر مشتمل بہت سارا مالِ غنیمت آیا۔ ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور نبی ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں میں آنے والے اونٹوں کی تعداد سے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔

حوالہ

عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. تأسيس الأحكام، للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

غزوۂ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم يوم أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ؛ فَلَمْ يُجِزْنِي، وعرضت عليه يوم الخندق، وأنا ابنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ”غزوہ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میں پندرہ سال کا تھا مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت دے دی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر جنگ میں جانے کے لیے انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جیسا کہ فوجیوں کو امیر لشکر کے سامنے جائزے کے لحے پیش کیا جاتا ہے۔ غزوۂ احد ہجرت کے تیسرے سال ہوا تھا جب کہ ان کی عمر چودہ سال تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں جنگ میں جانے سے روک دیا کیونکہ وہ چھوٹے تھے۔ غزوہ خندق جو ہجرت کے پانچویں سال پیش آیا اس میں جب انھیں نبی ﷺ کے سامنے پیش گیا تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں لڑائی میں شرکت کی اجازت دے دی۔ شاید کہ وہ جنگ احد کے موقع پر چودھویں سال کے آغاز میں تھے اور جنگ خندق کے موقع پر پندہویں سال کے آخر میں تھے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. - صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. - تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، الطبعة: 1427هـ. - مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ: تمہارے پاس ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «لَمَّا قَدِم رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- وأصحابه مكة، فقَال المُشرِكُون: إِنَّه يَقدَمُ عَلَيكُم قَومٌ وَهَنَتهُم حُمَّى يَثرِب، فَأَمَرَهُم النَّبيُّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أن يَرمُلُوا الأَشوَاطَ الثلاَثَة، وأن يَمشُوا ما بَين الرُّكنَين، ولم يَمنَعهُم أَن يَرمُلُوا الأَشوَاطَ كُلَّها: إلاَّ الإِبقَاءُ عَليهِم».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ”جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبیﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ ﷺ نے ان پر شفقت و نرمی کرتے ہوئے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ ہجرت کے چھٹویں سال صحابہ کی کثیر تعداد کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ آئے، تو کفار قریش آپ سے لڑنے اور آپ کو اللہ کے گھر سے روکنے کے لئے نکلے، چناں چہ ان کے درمیان صلح ہوئی جس کے مضمون میں یہ تھا کہ نبی ﷺ اس سال اپنے اصحاب کے ہمراہ واپس لوٹ جائیں اور اگلے سال عمرہ کی نیت سے آئیں اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں، چناں چہ سن سات ھجری میں جب وہ دوبارہ عمرہ کی قضا کے لئے آئے تو مشرکین نے -تسکین خاطر اور بطور ہنسی اور ٹھٹھا- آپس میں ایک دوسرے سے کہنا شروع کیا کہ تمہارے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جنہیں یثرب کے بخار نےتوڑ دیا اور کمزور بنا دیا ہے۔ جب نبی ﷺ کو ان کی یہ بات پہونچی تو آپ ﷺ نےان کے جواب میں اور ان کو برانگیختہ کرنے کے لئے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ تیز چلیں مگر رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیانی حصہ میں عام چال چلیں۔ یہ حکم صحابہ کے ساتھ نرمی اور شفقت کے باب سے تھا جب کہ وہ دونوں رکنوں کے درمیان ہوں اور وہ مشرکین انہیں نہ دیکھ سکیں جو"قعيقعان" نامی پہاڑ پر اس لئے چڑھ آئے تھے کہ وہ مسلمانوں کو طواف کرتے ہوئےدیکھ سکیں۔ لیکن تیز چال نے انہیں آگ بگولہ کردیا اور وہ یہاں تک کہنے لگے کہ یہ سب تو ہرن کے مانند ہیں۔ اس طرح دلکی چال طوافِ قدوم میں سنت جاریہ قرار پائی۔ تاکہ اپنے گزرے ہوئے اسلاف کے واقعہ کو یاد کیا جائے اور ان کے قابل تعریف مواقف اور زبردست صبر اور جو کچھ دین کی مدد اور اللہ کے کلمہ کی بلندی کے لئے انہوں نے اچھے کام انجام دئے ہیں ان میں ان کی اقتدا کی جائے۔ اللہ ہمیں ان کی پیروی اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ دنوں یمانی رکنوں کے درمیان رمل نہیں کرنے کا حکم منسوخ ہے اس لیے کہ حجۃ الوداع میں نبیﷺ پورا طواف رمل کیے۔ امام مسلم نے جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینکیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يومَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إن قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قال: «في الجَنَّةِ» فأَلْقَى تَمراتٍ كُنَّ في يَدِه، ثم قاتل حتى قُتِلَ.
جابر بن عبد اللہ - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (یعنی میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص -جن کا نام عمیر بن الحمام تھا- نے غزوہ احد کے موقعے پر آپ ﷺ سے پوچھا، اے اللہ کے رسول! ذرا بتلائیے اگر میں لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤں یعنی میں مشرکین کے ساتھ جہاد کروں اور اسی میں مارا جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم جنت میں رہو گے۔ انھوں نے کھجوریں پھینک دی اور کہا۔ اگر میں زندہ رہا تو زندگی لمبی ہوگی کھجوریں پھر کھا لوں گا، آگے بڑھے اور لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ - تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. - فتح الباري لابن حجر العسقلاني، دار المعرفة، 1379.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘

عَنْ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ»، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقِيلَ: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ»، فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ».
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں یہ جھنڈا کل ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالی فتح عطا فرمائے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ لوگوں نے رات یہ بحث کرتے ہوۓ گزاری کہ کون وہ (خوش نصیب) ہوگا، جسے ان میں سے جھنڈا دیا جاۓ گا۔ جب لوگوں نے صبح کی تو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئے۔ سب کے سب امید رکھتے تھے کہ انھیں جھنڈا دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے پو چھا : ’’علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟‘‘ اللہ کے رسول کو بتلایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ان کو بلا بھیجو۔‘‘ چنانچہ وہ لائے گئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی۔ تو وہ اس طرح ٹھیک ہوگئے، جیسے انھیں کوئی درد تھا ہی نہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں جھنڈا عطا فرمایا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ہم جیسے (مسلمان) ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’(نہیں بلکہ) آرام و سکون کے ساتھ چلو، یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں پڑاؤ ڈالو، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور انھیں بتلاؤ کہ تم پر اللہ کے یہ یہ حق ہیں۔ اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو بتایا کہ آئندہ کل مسلمانوں کو خیبر کے یہودیوں پر فتح نصیب ہو جائے گی۔ فتح ایسے شخص کے ہاتھوں نصیب ہوگی، جسے آپ جھنڈا عطا کریں گے۔ یہاں آئے ہوئے عربی لفظ "الراية" کے معنی اس جھنڈے کے ہيں، جسے فوج نشان کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جھنڈا حاصل کرنے والے اس شخص کے اوصاف بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہيں۔ چنانچہ صحابہ نے رات اس بات پر چرچا کرتے ہوئے گزاری کہ صبح جھنڈا کسے ملے گا؟ ہر شخص کی خواہش تھی کہ یہ عظیم شرف اسے ملے۔ صبح ہوئی، تو سب لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ سب کے دل میں آرزو تھی کہ جھنڈا اٹھانے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت فرمایا: عرض کیا گیا کہ وہ بیمار ہیں اور ان کی آنکھوں میں پریشانی ہے۔ آپ نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ لائے گئے، تو ان کی آنکھوں پراپنا لعاب دہن لگا دیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ چنانچہ ایسے ٹھیک ہو گئے، جیسے کوئی پریشانی تھی ہی نہیں۔ اب ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور حکم دیا کہ آرام سے چلتے رہيں۔ دشمنوں کے قلعے کے قریب پہنچ جائيں، تو ان کو اسلام قبول کر نے کی پیش کش کریں اور قبول کر لیں تو ان کو اسلام کے فرائض سکھائيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کو دعوت الی اللہ کی فضیلت سمجھائی اور بتایا کہ کسی داعی کے ہاتھ پر ایک شخص بھی ہدایت یاب ہو جائے، تو یہ اس کے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، جن کا مالک بننے کے بعد وہ چاہے تو انہیں پاس رکھے اور چاہے تو صدقہ کر دے۔ واضح رہے کہ عربوں کے یہاں سرخ اونٹ نفیس اور بیش قیمت اموال میں شمار ہوتے تھے۔

فوائد
  1. علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے حق میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ گواہی کہ اللہ اور اس کے رسول کو ان سے محبت ہے اور ان کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔
  2. صحابہ خیر کے حریص تھے اور اسے حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
  3. جنگ وقتال کے وقت بھی ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا اور بغیر ضرورت کے تکلیف دہ آوازیں نکالنے اور طیش میں آنے سے گریز کرنا مشروع ہے۔
  4. یہ بھی آپ کے برحق بنی ہونے کی دلیل ہے کہ آپ نے یہودیوں پر فتح یاب ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی اور آپ کے ہاتھوں پر اللہ کے حکم سے علی بن ابى طالب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ٹھیک ہو گئيں۔
  5. جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہے، لوگوں کا مذہب اسلام میں داخل ہونا۔
  6. دعوت تدریجی طور پر دی جائے گی۔ چنانچہ پہلے کافر سے کہا جائے گا کہ وہ شہادتین کا اقرار کرکے اسلام میں داخل ہوجائے اور اس کے بعد اسے اسلامی فرائض کا حکم دیا جائے گا۔
  7. اسلام کی دعوت دینے کی فضیلت اور یہ کہ اس میں داعی اور مدعو دونوں کے لیے خیر و بھلائی مضمر ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ مدعو کو ہدایت مل جائے اور داعی اجر عظیم سے بہرہ ور ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (5/ 134) (4210). صحيح مسلم (4/ 1872) (2406). فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، (ص88). القول المفيد على كتاب التوحيد، (1/ 134). الملخص في شرح كتاب التوحيد، (ص57). الجديد في شرح كتاب التوحيد، (ص67). التمهيد لشرح كتاب التوحيد، (ص59).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے، آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما «أنَّ عمر بن الخَطَاب رضي الله عنه جاء يَومَ الخَندَقِ بَعدَ مَا غَرَبَت الشَّمسُ فَجَعَل يَسُبُّ كُفَّار قُرَيشٍ، وقال: يا رسول الله، مَا كِدتُّ أُصَلِّي العَصرَ حَتَّى كَادَت الشَّمسُ تَغرُبُ، فَقَال النَبِيُّ صلى الله عليه وسلم : والله مَا صَلَّيتُهَا، قال: فَقُمنَا إلَى بُطحَان، فَتَوَضَّأ للصَّلاَة، وتَوَضَأنَا لَهَا، فَصَلَّى العَصر بعد مَا غَرَبَت الشَّمسُ، ثُمَّ صَلَّى بعدَها المَغرِب».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفارِ قریش کو برا بھلا کہنےلگے۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے۔ آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد نبی ﷺ کی خدمت میں آئے۔ وہ قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے؛ کیوںکہ انھوں نے انھیں نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا تھا اور وہ اسے ادا نہیں کر سکے تھے، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس پر نبی صادق ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انھوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ہے، تاکہ عمر رضی اللہ عنہ جن پر یہ امر بہت شاق گزرا تھا، وہ مطمئن ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ اٹھے اور وضو کیا۔ صحابۂ کرام نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى، 1381هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية، 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس شخص نے عمل تو کم کیا لیکن اسے اجر بہت زیادہ دیا گیا۔

عن البراء رضي الله عنه قال: أتَى النبي صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بالحَديد، فقال: يا رسول الله، أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ؟ قال: «أَسْلِم، ثم قَاتل»، فأسْلَم ثم قاتل فَقُتِل. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «عَمِل قليلاً وأُجر كثيراً».
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک زرہ پوش شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ: اللہ کے رسول! میں قتال کروں یا پھر اسلام لاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اسلام لاؤ اور پھر قتال کرنا۔ چنانچہ وہ شخص اسلام لایا، پھر اس نے قتال میں حصہ لیا اور اس میں وہ شہید ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس شخص نے عمل تو کم کیا لیکن اسے اجر بہت زیادہ دیا گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا تھا اور اس نے زرہ پہن رکھی تھی جس نے اسے پوری طرح سے ڈھانپ رکھا تھا۔ اس نے تاحال اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! میں جہاد میں حصہ لوں اور پھر اسلام قبول کروں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اسلام قبول کرو اور پھر جہاد میں حصہ لینا۔ چنانچہ وہ شخص اسلام لے آیا اور جہاد میں شریک ہوگیا۔لڑتے لڑے وہ شہید ہوگیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے عمل تو کم کیا لیکن اسے اجر بہت زیادہ دیا گیا۔ یعنی اس کے اسلام لانے کے اعتبار سے اس کے قبولیتِ اسلام اور اس کے قتل ہوجانے کے مابین بہت کم مدت ہے اس کے باوجود اجر بہت زیادہ ہے۔ کیوں کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنا سب سے افضل عمل ہے اوراس کا اجر بہت زیادہ ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - صحيح البخاري -للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي،دارابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. -شرح صحيح البخارى لابن بطال الأندلسي،تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم مكتبة الرشد - السعودية، الرياض الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م. -التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ محمد بن إسماعيل الصنعاني، المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم مكتبة دار السلام، الرياض -الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا

عن أبي موسى رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاة ونحن سِتَّةُ نَفَرٍ بَيننا بعيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أقدامُنا وَنَقِبَت قَدَمِي، وسَقطت أَظْفَارِي، فكنَّا نَلُفُّ على أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ، فَسُمِّيَت غَزْوَة ذَاتُ الرِّقَاع لما كنَّا نَعْصِب على أرجُلنا من الخِرق، قال أبو بردة: فحدث أبو موسى بهذا الحديث، ثم كره ذلك، وقال: ما كنت أصنع بأن أَذْكُرَه! قال: كأنه كره أن يكون شيئا من عمله أفْشَاه.
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے تھے۔ اسی لیے اس غزوہ كا نام ہی غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھتے تھے۔ ابوبردہ بيان كرتے ہیں کہ ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا۔ ابو بردہ کہتے ہيں کہ: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: یہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے جن کی تعداد چھے تھی۔ ان کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ باری باری سوار ہوتے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی کچھ فاصلے تک اس پر سوار ہوتا، پھر جب اس کی باری ختم ہوجاتی تو وہ اونٹ سے اتر جاتا اور دوسرا اس پر سوار ہوجاتا۔ اسى طرح سے وہ باری باری سوار ہوتے رہے یہاں تک کہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ '' اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔'' ایسا صحرائی علاقے میں ایک لمبی مسافت تک پیدل چلنے کی وجہ سے ہوا۔ پاؤں پھٹنے پر ان کے پاس کوئی ایسی چيز بھی نہیں تھی جسے وہ لپیٹ لیتے۔ چنانچہ وہ ننگے پاؤں ہی چلتے رہے جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے سفر سے رکے نہیں بلکہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رواں دوں رہے۔ ”ہم اپنے پاوں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے“ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طولِ مسافت اور زمین کی قوت وسختی کی وجہ سے ان کے جوتے پھٹ گئے تھے۔ تو وہ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے تاکہ زمین کی سختی اور گرمی سے انہیں محفوظ رکھ سکیں۔ ”اس غزوے کا نام غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھ رکھے تھے“ یعنی رسول اللہﷺ کے اس غزوے کا نام بعد ميں غزوہ ذات الرقاع پڑگیا۔ اور يہ اس کی ايک وجہ تسميہ ہے۔ ابوبردہ کہتے ہیں: ”ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا! ابو بردہ کہتے ہيں: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں“ اس كا مطلب يہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس بات کی تمنا کی کہ کاش انہوں نے اسے بیان نہ کیا ہوتا کیونکہ اس میں خود ستائی کا اظہار ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کو چھپانا اس کے اظہار سے افضل ہے الا يہ کہ اس کے اظہار میں کوئی مصلحت راجحہ ہو، مثلا بیان کرنے والا ایسا شخص ہو جس کی لوگ اقتدا کرتے ہوں۔ ایک دوسرى حدیث میں ہے: ”فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ“. يعنى اس نے اسے (صدقہ کو) چھپاکر ديا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ متفق علیہ

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1397ه. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. فتح الباري شرح صحيح البخاري، تأليف: أحمد بن علي بن حجر، رقمه وبوب أحاديث: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار المعرفة، بيروت، 1379هـ. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ. تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، تحقيق خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة الرابعة، 1425ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
25 میں سے 8
25 احادیث
  1. رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریّہ بھیجا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نکلے۔
  2. غزوۂ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔
  3. جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ: تمہارے پاس ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں۔
  4. ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینکیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
  5. اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
  6. یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے، آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
  7. اس شخص نے عمل تو کم کیا لیکن اسے اجر بہت زیادہ دیا گیا۔
  8. ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا
  9. اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، تاہم انہوں نے صبر کیا۔
  10. اے سعد بن معاذ! جنت؛ ربِ کعبہ کی قسم ! میں اس کی خوشبو احد پہاڑ سے بھی زیادہ قریب محسوس کر رہا ہوں
  11. اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا، تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی۔ پھر انھوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور کافروں سے لڑائی شروع کردی، یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
  12. رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔
  13. غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کو سخت بھوک لگی، انہوں نے آپ ﷺ سے کہا یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔
  14. رسول اللہ ﷺ نے دس جاسوسوں کی ایک جماعت بھیجی اور عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔
  15. ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا: کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہوگئی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”میں اندر اترتا ہوں“۔
  16. وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ! ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
  17. ہم آپ ﷺ سے ملاقات کرنے بچوں کے ساتھ ثنية الوداع گئے۔
  18. ابھی تک فرشتوں نے ان پر اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہے۔
  19. میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے، رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔
  20. جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔
  21. جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔
  22. گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔
  23. غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
  24. علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا
  25. اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے"۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com