عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ غزوۂ حنین میں تھے۔ یہ غزوۂ طائف ہے، جو فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کے ساتھ جنگ کی اور ان سے آپ ﷺ کو اونٹوں، بھیڑ بکریوں اور درہم و دینار کی شکل میں بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے مقام جعرانہ پر پڑاؤ کیا۔ یہ طائف کی سمت میں حرم کی حدود کے اختتام پر واقع ایک جگہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس جگہ پڑاؤ کیا اور مال غنیمت کو اس غزوے کے شرکا کے مابین تقسییم کیا۔ آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ بن حصن کو بھی سو اونٹ دیے اور عرب کے معزز لوگوں کو بھی مال سے نوازا۔ اس سے آپ ﷺ کی غرض انھیں اسلام کے ساتھ مانوس کرنا تھا؛ کیوں کہ اگر تحفے تحائف اور مال دینے سے ان لوگوں کا اسلام ٹھیک ہوجاتا، تو ان کے پیروکاروں خود بخود اسلام قبول کر لیتے اور اس سے اسلام کو قوت اور شان و شوکت حاصل ہوتی۔ جن کا ایمان مضبوط تھا انھیں آپ ﷺ نے مال نہ دیا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کو ان کے ایمان پر اعتماد تھا۔ ایک آدمی نے جب دیکھا کہ نبی ﷺ قبائل کے سرداروں اور معززین قوم میں مال تقسیم کرتے جارہے ہیں اور کچھ لوگوں کو مال نہیں دے رہے، تو وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے مقصود اللہ کی رضا جوئی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا، تو وہ جلدی سے نبی ﷺ کے پاس آئے اور آنے سے پہلے قسم کھائی کہ وہ ضرور آپ ﷺ کو اس کے بارے بتائیں گے۔ جب انھوں نے نبی ﷺ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ سخت غصے میں آگئے اور آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا رنگ تبدیل ہو کر خالص سرخ ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر عدل کون کرے گا؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن انھوں نے صبر کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت دیکھی، تو دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ اگر میں ان لوگوں سے کوئی ایسی ناگوار بات سنوں گا، تو نبی ﷺ کو ہر گز نہ بتاؤں گا؛ کیوں کہ انھوں نے دیکھ لیا تھا کہ آپ ﷺ کو اس پر بہت غصہ آیا ہے۔ بشرطے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو، جس کی وجہ سے نبی ﷺ یا اسلام کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ، 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الطبعة الأولى. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، نشر دار الكتاب العربي، لم أقف على رقم الطبعة. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت،الطبعة: لا يوجد بيان لرقم الطبعة، 1423هـ.