رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریّہ بھیجا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نکلے۔
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «بعث رسولُ الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلَى نَجْدٍ فخرجَت فِيهَا، فَأَصَبْنَا إبِلاً وَغَنَماً، فبلغتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيراً، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بَعِيراً بَعِيراً».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس کے ساتھ میں بھی گیا۔ مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہمارے ہاتھ لگیں۔(مال غنیمت میں) ہمارے حصے بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سریہ کی شکل میں انہیں نجد کی طرف بھیجا اور ان کے ہاتھ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر مشتمل بہت سارا مالِ غنیمت آیا۔ ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور نبی ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں میں آنے والے اونٹوں کی تعداد سے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
حوالہ
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
تأسيس الأحكام، للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com