سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہجرت۔

3 احادیث

اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا واجب ہے، اللہ تعالی کا اپنے انبیاء ورسل اور اولیاء کی حفاظت کا بیان

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُءُوسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ أَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا».
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ غار میں تھے، میں نے مشرکین کے پاؤں کی طرف دیکھا، وہ ہمارے سروں پر تھے، میں نے کہا اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانیہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لوگوں کو بلایا اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی۔ مشرکین ڈر گئے اور آپ کی دعوت کے خلاف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ پر سختی کی اورقول و فعل کے ذریعہ آپ ﷺ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ آپ ﷺ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ، راہبر اور خادم تھے۔پس آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے سے ہجرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہو لیے، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی مکہ سے روانگی کی خبر سنی تو آپ ﷺ کو پکڑ کر لانے والے کو دو سو (200) اونٹ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لانے پر سو (100) اونٹ انعام رکھا، لوگ آپ دونوں کو پہاڑوں، وادیوں اور غاروں اور ہر جگہ تلاش کرنے لگے، یہاں تک کہ اس غار پر آ رُکے جس میں نبی ﷺ اور ابوبکر پناہ گزین تھے۔ یہ غار ثور ہے جہاں تین دنوں تک چھپے رہے یہاں تک کہ آپ دونوں کی تلاش کا معاملہ نرم پڑگیا، چنانچہ اسی موقعہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا اے اللہ کے رسول ﷺ! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں۔ اس لیے کہ ہم ان کے قدموں کے نیچے غار میں ہی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ (سورۃ التوبۃ: 40) ترجمہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دونوں جملے بھی کہے ہوں یعنی ”مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“ اور ”لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا“۔ آپ ﷺ کا یہ کہنا: ”ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے“ یعنی کیا کوئی ان دونوں کو اذیت وغیرہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور جواب ہے: نہیں کوئی یہ طاقت نہیں رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کہ جسے اللہ دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں، اس کو کوئی رسوا نہیں کرسکتا جسے اللہ تعالی عزت دے اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (فرمان الٰہی ہے) ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (آل عمران: 26) ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے“۔

حوالہ

صحيح البخاري (5/ 4) (3653). صحيح مسلم (4/ 1854) (2381). شرح صحيح مسلم (149/15). فتح الباري (11/7). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (276/2) شرح رياض الصالحين لابن عثيمين (563/1).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، اور میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جاکر ثنیۃ الوداع پر ملا۔

عن السَّائب بن يزيد رضي الله عنه قال: لما قَدِم النبي صلى الله عليه وسلم من غَزْوة تَبُوك تَلَقَّاهُ الناس، فَتَلَقَّيتُه مع الصِّبْيَان على ثَنيَّةِ الوَدَاع. ورواية البخاري قال: ذَهَبْنا نَتَلَقَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع الصِّبْيَان إلى ثَنيَّةِ الوَدَاع.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوۂ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔ بخاری کی روایت میں اس طرح کے الفاظ ہیں: ”ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ ﷺ کا استقبال کرنے گئے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جو معذورین وغیرہ میں سے جو لوگ غزوے سے پیچھے رہ گیے تھے وہ آپ سے ملاقات کے لیے ثنية الوداع کی طرف نکلے، یہ آپ ﷺ کی واپسی پر آپ کے استقبال کے لیے نکلے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بھی مدینہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ سے ملنے نکلے۔

حوالہ

- سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية. - صحيح البخاري -للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين/تأليف مصطفى سعيد الخن-مصطفى البغا-محي الدين مستو-علي الشربجي-محمد أمين لطفي-مؤسسة الرسالة-بيروت –لبنان-الطبعة الرابعة عشرة. - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف- حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية- 1410 هـ - 1990 م. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل/ محمد ناصر الدين الألباني - إشراف: زهير الشاويش-المكتب الإسلامي – بيروت-الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔

عن عائشة وابن عباس رضي الله عنهم : «أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لَبِثَ بمكَّة عشرَ سِنِين، يَنْزلُ عليه القرآنَ، وبالمدينة عشرًا».
عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سےروایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں دس سال قیام کیا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور یہ کہ اس ساری مدت کے دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔ ایک دوسری حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کے بعد مکہ میں آپ ﷺ کا قیام تیرہ سال رہا۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق ایسے دی جائے گی کہ آپ ﷺ باقی تین سال چھپ کر رہے ۔ بعدازاں وحی کو محفوظ کر دیا گیا اور یہ پے درپے نازل ہونے لگی۔ چنانچہ جن لوگوں نےد س سال مدت بیان کی ہے انہوں نے گویا ان تین سالوں کو شمار ہی نہیں کیا یا پھر کسر کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے دس پر ہی اقتصار کر لیا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. - كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن - الرياض. - لسان العرب, محمد بن مكرم بن على ابن منظور الأنصاري, دار صادر – بيروت, الطبعة: الثالثة - 1414 هـ. - التوضيح لشرح الجامع الصحيح, عمر بن علي بن أحمد ابن الملقن, ت: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث, دار النوادر، دمشق – سوريا, الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com