اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں دس سال قیام کیا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور یہ کہ اس ساری مدت کے دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔ ایک دوسری حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کے بعد مکہ میں آپ ﷺ کا قیام تیرہ سال رہا۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق ایسے دی جائے گی کہ آپ ﷺ باقی تین سال چھپ کر رہے ۔ بعدازاں وحی کو محفوظ کر دیا گیا اور یہ پے درپے نازل ہونے لگی۔ چنانچہ جن لوگوں نےد س سال مدت بیان کی ہے انہوں نے گویا ان تین سالوں کو شمار ہی نہیں کیا یا پھر کسر کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے دس پر ہی اقتصار کر لیا۔
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. - كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن - الرياض. - لسان العرب, محمد بن مكرم بن على ابن منظور الأنصاري, دار صادر – بيروت, الطبعة: الثالثة - 1414 هـ. - التوضيح لشرح الجامع الصحيح, عمر بن علي بن أحمد ابن الملقن, ت: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث, دار النوادر، دمشق – سوريا, الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.