سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، اور میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جاکر ثنیۃ الوداع پر ملا۔

عن السَّائب بن يزيد رضي الله عنه قال: لما قَدِم النبي صلى الله عليه وسلم من غَزْوة تَبُوك تَلَقَّاهُ الناس، فَتَلَقَّيتُه مع الصِّبْيَان على ثَنيَّةِ الوَدَاع. ورواية البخاري قال: ذَهَبْنا نَتَلَقَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع الصِّبْيَان إلى ثَنيَّةِ الوَدَاع.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوۂ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔ بخاری کی روایت میں اس طرح کے الفاظ ہیں: ”ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ ﷺ کا استقبال کرنے گئے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جو معذورین وغیرہ میں سے جو لوگ غزوے سے پیچھے رہ گیے تھے وہ آپ سے ملاقات کے لیے ثنية الوداع کی طرف نکلے، یہ آپ ﷺ کی واپسی پر آپ کے استقبال کے لیے نکلے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بھی مدینہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ سے ملنے نکلے۔

حوالہ

- سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية. - صحيح البخاري -للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين/تأليف مصطفى سعيد الخن-مصطفى البغا-محي الدين مستو-علي الشربجي-محمد أمين لطفي-مؤسسة الرسالة-بيروت –لبنان-الطبعة الرابعة عشرة. - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف- حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية- 1410 هـ - 1990 م. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل/ محمد ناصر الدين الألباني - إشراف: زهير الشاويش-المكتب الإسلامي – بيروت-الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ہجرت۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com