ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
رواه الترمذي وأحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ آزمائشیں کبھی مومن مرد و عورت کا پیچھا نہيں چھوڑتیں۔ آزمائش کبھی اس کی جان سے جڑی ہوتی ہے، جیسے طبیعت خراب ہو گئی اور جسم ٹھیک نہیں رہا۔ کبھی بال بچوں سے جڑی ہوتی ہے، جیسے کوئی بیمار ہو گیا، کوئی فوت ہو گیا یا کوئی نافرمان نکل گیا وغیرہ وغیرہ۔ کبھی مال سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جیسے محتاجی کا سامنا کرنا پڑا، تجارت بیٹھ گئی، چوری ہو گئی، کساد بازاری کا دور آگیا اور روزی میں تنگی کا سامنا کرنا پڑ گيا۔ ان آزمائشوں کے نتیجے میں اللہ بندے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور آخر میں جب وہ اللہ سے ملتا ہے، تو اپنے کیے ہوئے تمام گناہوں سے پاک و صاف ہو چکا ہوتا ہے۔
فوائد
مومن بندوں پر اللہ کے رحم و کرم کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں کے ذریعے دنیا میں کیے ہوئے ان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
مصیبت گناہوں کو مٹانے کا کام کرتی ہے۔ بشرط یہ کہ انسان صاحب ایمان ہو۔ بندہ صبر سے کام لے اور اللہ کے فیصلے سے ناراض نہ رہے، تو اجر ملتا ہی ہے۔
تمام امور میں صبر کی ترغیب۔ پسندیدہ میں بھی اور ناپسندیدہ میں بھی۔ بندہ اللہ کے واجب کردہ کاموں کی انجام دہی میں صبر سے کام لے اور اس کے حرام کردہ امور سے دور رہنے میں صبر سے کام لے۔ اللہ کے ثواب کی امید رکھے اور اس کے عقاب سے ڈرتا رہے۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "بالمؤمن والمؤمنة" میں لفظ "مومنہ" کا اضافہ عورت کے حق میں تاکید کے طور پر ہوا ہے۔ ورنہ اگر صرف "مومن" کہتے، تب بھی اس میں "مومنہ" داخل ہو جاتی۔ کیوں کہ لفظ "مومن" مرد کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ چناں چہ اگر عورت کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس سے بھی گناہوں اور خطاؤں کے کفارے کے لیے اسی بدلے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
مصائب کے نتیجے میں ملنے والے اجر و ثواب کا وعدہ انسان کے لیے مصائب کا سامنا کرنا آسان کر دیتا ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 204) (2399).
مسند أحمد (13/ 248) (7859).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 113).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص51).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 273).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 80).
صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب کہ ایسا مومن کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے آسودہ حالی ملتی ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تنگی لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کے احوال پر بطور استحسان تعجب فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ اس کے سارے احوال خیر کے حامل ہیں۔ جب کہ یہ شرف مومن کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہيں ہے۔ اگر اسے خوشیاں ملتی ہیں اور وہ اللہ کا شکر بجا لاتا ہے، تو اسے شکر کی وجہ سے اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ اگر اسے تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اسے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہے، تو اسے صبر کی بنا پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس طرح اس کا دامن ہر حال میں اجر و ثواب سے بھرا رہتا ہے۔
فوائد
آسودہ حالی پر شکر کرنے اور تنگ حالی پر صبر کرنے کی فضیلت۔ جس نے یہ دونوں کام کر لیے، اسے دونوں جہان کی خیر حاصل ہو گئی۔ اس کے برخلاف جس نے نعمت پر شکر ادا نہیں کیا اور مصیبت پر صبر نہيں کیا، وہ اجر و ثواب سے محروم اور گناہ کا حق دار رہے گا۔
ایمان کی فضیلت۔ ہر حال میں اجر و ثواب صرف اہل ایمان ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔
خوش حالی کے وقت شکر کرنا اور تنگ حالی کے وقت صبر کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
قضا و قدر پر ایمان انسان کو تمام احوال میں رضائے کامل کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ جب کہ غیر مومن کی حالت اس سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ کوئی نقصان ہو جائے تو ناراض اور نعمت مل جائے تو اس میں مست ہوکر اللہ کی عبادت سے دور ہو جاتا ہے اور اسے نافرمانی کے کاموں میں خرچ کرنے لگتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2295) (2999).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 82).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 197).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 59).
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «إنكم لتعملون أعمالا هي أَدَقُّ في أعينكم من الشَّعْرِ، كنا نَعُدُّهَا على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من المُوبِقَاتِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں تصور کرتے) جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز امور تصور کرتے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جلیل القدر صحابی انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جو اعمال میں سستی برتتے ہیں کہ تم بعض گناہوں کو چھوٹا سمجھتے ہو کیونکہ ان کے ذریعے جس ذات کی معصیت کی جاتی ہے اس کی عظمت کی طرف تمہاری نظر نہیں جاتی چنانچہ تمہارے نزدیک یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم انہیں ہلاک کر دینے والی اشیاء میں سے شمار کرتے تھے کیونکہ جس ذات کی معصیت ہوتی ہے اس کی عظمت سے وہ آگاہ تھے، اور ان میں بہت زیادہ خوف پایا جاتا تھا اور وہ اپنے آپ پر نظر رکھتے اور اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہتے تھے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه.
تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة،بيروت، 1425 ه.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عن أنس -رضي الله عنه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا، وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يُوَافِيَ به يومَ القيامة".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رُکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ وہ اسے اس کے گناہوں پر دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا میں سے اس حال میں جاتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ ایسا نہیں ہوتا جس کا حساب روزِ قیامت چکایا جانا ہو کیونکہ جس شخص کا فوری حساب کر لیا جاتا ہے اس کا آخرت میں حساب ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور بندے کے ساتھ شر کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ اللہ اسے دنیا میں اس کے گناہوں کا بدلہ نہیں دیتا یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ گناہوں سے لدا پھندا آئے گا اور اس سے پورا پورا حساب لیا جائے اور جس بدلے کا وہ مستحق ہو گا وہ اسے ملے گا۔
حوالہ
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1422ه.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, تحقيق: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه.
جامع الترمذي, تحقيق: أحمد شاكر, شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي, الطبعة: الثانية، 1395هـ.
صحيح الجامع الصغير, للألباني, المكتب الإسلامي.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا -اور نعمان نے اپنی انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا-: ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم چیزوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بتا رہے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ شریعت میں چیزیں تین طرح کی ہیں۔ واضح حلال، واضح حرام اور ایسی مشتبہ چیزیں جن کا حلال یا حرام ہونا واضح نہ ہو اور جن کے شرعی حکم سے بہت سے لوگ واقف نہ ہوں۔
ایسے میں جس نے ان مشتبہ چیزوں کو چھوڑ دیا، اس کا دین حرام چیزوں میں پڑنے سے محفوظ رہے گا اور اس کی عزت وآبرو اس مشتبہ چیز میں ملوث ہونے کی وجہ سے لوگوں کی چہ می گوئیوں سے محفوظ رہے گى۔ اس کے برخلاف جس نے ان مشتبہ چیزوں سے اجتناب نہيں کیا، اس نے اپنے نفس کو یا تو حرام چیز میں پڑنے یا لوگوں کی چہ می گوئیوں کا سامنا کرنے کے لیے آگے کر دیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مشتبہ کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کی حالت بیان کرنے کے لیے ایک مثال دی اور بتایا کہ ایسے شخص کی مثال اس چرواہے کے جیسی ہے جو کسی کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنا جانور چراتا ہو۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ محفوظ چراگاہ کے آس پاس چرنے کی وجہ سے اس کا جانور چراگاہ کے اندر چرنے لگے۔ بالکل ایسے ہی جو شخص کوئی شبہ والا کام کرے گا، وہ اپنے اس کام کی وجہ سے حرام کے قریب ہو جائے گا اور اس بات کا امکان بنا رہے گا کہ وہ حرام میں پڑ جائے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے (یعنی دل)، جس کے درست ہونے سے جسم درست رہتا ہے اور جس کے بگڑنے سے جسم بگڑ جاتا ہے۔
فوائد
ایسی مشتبہ چیزوں کو چھوڑنے کی ترغیب جن کا حکم واضح نہ ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 20) (52).
صحيح مسلم (3/ 1219) (1599).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص18).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص105).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص41).
فتح الباري لابن حجر (4/ 291).
شرح النووي على مسلم (11/ 28).
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بيان کرتے ہيں کہ رسول الله ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا : ”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمايا کرتے تھے: ”جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت وتندرستی کے زمانے ميں بيماری کے ليے اور اپنی زندگی ميں موت کے ليے تيارى كرلو“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کندھے کو پکڑا اور ان سے کہا : دنیا میں ایسے رہو، جیسے تم ایک اجنبی آدمی ہو، جو ایک ایسی جگہ پہنچ چکا ہو، جہاں نہ رہنے کا گھر ہو اور نہ دل بہلانے کے لیے آدمی۔ نہ اہل و عیال ہوں اور نہ رشتے داریاں۔ کیوں کہ یہی چيزیں انسان کو اس کے پیدا کرنے والے سے مشغول رکھتی ہیں۔ بلکہ اجنبی سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اپنے وطن کی تلاش میں نکلا ہوا راہ گير بن جاؤ۔ اجنبی شخص تو کبھی کبھی کسی اجنبی جگہ میں اقامت گزیں بھی ہو جاتا ہے، لیکن اپنے شہر کی جانب جاتا ہوا راہ گير چلتا ہی رہتا ہے۔ کہیں اقامت پزیر نہيں ہوتا۔ اس کی نظر منزل پر رہتی ہے۔ لہذا جس طرح ایک مسافر اتنی ہی چيزیں ساتھ لے جانا ضروری سمجھتا ہے، جو منزل تک پہنچا دیں، اسی طرح ایک مومن دنیا کے اتنے ہی اسباب جمع کرنا ضروری سمجھتا ہے، جو اسے منزل (جنت) تک پہنچا دیں۔
چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس نصیحت پر مکمل طور سے عمل کیا۔ وہ کہا کرتے تھے : صبح آئے، تو شام کا انتظار مت کرو اور شام آئے تو صبح کا انتظار مت کرو۔ خود کو قبر میں دفن لوگوں میں شمار کرو۔ کیوں کہ انسان کی زندگی صحت اور مرض سے خالی نہيں ہوتی۔ اس لیے بیماری کے دن آنے سے پہلے صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کر لیا کرو۔ صحت کے دنوں میں نیکی کے کام کرتے جاؤ کہ کہیں بیماری راہ نہ روک لے۔ دنیا کی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ایسی چیزیں اکٹھی کرلو، جو موت کے بعد کام آئيں۔
فوائد
تعلیم دیتے وقت انسیت پیدا کرنے اور توجہ مرکوز کرانے کے لیے استاد شاگرد کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ سکتا ہے۔
مطالبے کے بغیر بھی کسی کی خیرخواہی اور رہ نمائی کی جا سکتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقۂ تعلیم کی ایک خوب صورتی یہ ہے کہ آپ اطمینان بخش مثالیں پیش کیا کرتے تھے۔ مثلا یہاں فرمایا : ”دنیا میں ایسے رہو، جیسے ایک اجنبی یا راہ گیر ہو“۔
آخرت کی راہ پر چلنے والے لوگوں کے الگ الگ درجات ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ زہد کے معاملے میں راہ گير کا درجہ اجنبی کے درجے سے اعلی ہے۔
امیدیں کم رکھنے اور موت کی تیاری کرنے کا بیان۔
یہ حدیث فکر معاش سے کنارہ کش ہونے اور دنیا کی لذتوں کو حرام کر لینے پر دلالت نہیں کرتی۔ یہ بس دنیا کے پیچھے سرپٹ دوڑنے سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔
نیکی کے کام اس سے پہلے کر لیے جائيں کہ بیماری یا موت راہ روک لے اور انسان کچھ کر نہ سکے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت سے بہت متاثر ہوئے۔
ایمان والوں کا وطن جنت ہے۔ اسى لئے وہ اس دنیا میں اجنبی ہیں۔ وہ آخرت کے سفر پر رواں دواں ہيں۔ اس لیے اجنبی شہر کی کسی چيز سے دل نہ لگائيں۔ ان کے دل اپنے وطن پر اٹکے رہیں۔ دنیا میں سکونت بس اس لیے ہو کہ ضرورت پوری ہو جائے اور وطن کی جانب لوٹنے کی تیاری ہو جائے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 89) (6416).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص90).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص390).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للنووي وابن رجب (ص131).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت کی بولی میں قیمت بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو، آپس میں بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔" اور آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ "کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ۔ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کی ہے اور اس کی کچھ ذمے داریاں اور آداب بیان کیے ہيں۔ مثلا : پہلی وصیت : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو کہ ایک دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنے لگو۔ دوسری وصیت : اگر سامان خریدنے کا ارادہ نہ ہو، تو بیچنے والے کا فائدہ یا خریدنے والے کا نقصان کرنے کے لیے اس کی قیمت نہ بڑھاؤ۔ تیسری وصیت : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ بغض نام ہے کسی کا برا کرنے کے بارے میں سوچنے کا۔ بغض محبت کی ضد ہے۔ البتہ اللہ کے لیے بغض اس سے مستثنی ہے۔ اللہ کے لیے بغض رکھنا واجب ہے۔ چوتھی وصیت : ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ روا نہ رکھو کہ تم اپنے بھائی سے منہ موڑو، اعراض کرو اور قطع تعلق کر لو اور وہ بھی تمھارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پانچویں وصیت : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی فروخت پر فروخت نہ کرے۔ مثلا جب کوئی شخص کسی سے کچھ خرید چکا ہو، تو اس سے یہ نہ کہو کہ میں اس سے کم قیمت میں اسی طرح کا سامان یا اسی قیمت پر اس سے بہتر سامان دے دوں گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک جامع وصیت کی اور فرمایا : مذکورہ منع کردہ امور سے ایسے دور رہو، آپس میں اس طرح محبت، نرم روی، شفقت، ملاطفت، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون، صاف دلی اور ہر حال میں خیر خواہی کا معاملہ کرو کہ بھائی کی طرح دکھائی دو۔ اس اخوت کے کچھ تقاضے بھی ہيں، جیسے : اپنے مسلمان بھائی پر ظلم اور دست درازی نہ کرے۔ جب کسی مسلمان بھائی پر ظلم ہو رہا ہو اور آدمی اس کی مدد کر سکتا ہو اور اسے ظلم سے بچا سکتا ہو، تو اسے اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑے۔ اسے حقیر و کم تر نہ جانے اور اسے ہیچ نظر سے نہ دیکھے۔ یہ رویہ دراصل دل میں موجود کبر کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے تین بار بتایا کہ تقوی دل کے اندر ہوا کرتا ہے۔ تقوى، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی حسن اخلاق کا پیکر ہو اور اللہ کا خوف اور اس کا دھیان رکھے، اگر وہ کسى کے دل میں جاگزیں جائے تو وہ کسی مسلمان کو حقیر نہیں جان سکتا۔ انسان کے برا اور بد اخلاق ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے، جو دل میں موجود کبر و غرور کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر مذکور باتوں پر مہر لگاتے ہوئے فرمایا کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون حرام ہے، نہ اسے جان سے مار سکتا ہے، نہ زخمی کر سکتا ہے اور نہ مار پیٹ کر سکتا ہے اور نہ کوئى دوسری جسمانی اذیت دے سکتا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام ہے، اسے ناحق لے نہیں سکتا۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو بھی حرام ہے، اس کى ذات پر یا اس کے حسب نسب پر زبان درازی نہیں کی جا سکتی۔
فوائد
ایمانی اخوت کے سبھی تقاضوں پر عمل کرنے کا امر وحکم اور اس کے منافی اقوال و اعمال کے ارتکاب کی نہی وممانعت۔
تقوی کی بنیاد دل میں موجود اللہ کی معرفت، اس کى خشيت اور اس کا دھیان ہے۔ اسی تقوی کے نتیجے میں نیک اعمال وجود میں آتے ہیں۔
ظاہری انحراف دل کے تقوے کی کمزوری کی دلیل ہے۔
اپنے قول یا فعل سے کسی مسلمان کو کسی طرح کی اذیت دینے کی ممانعت۔
کوئی مسلمان دوسرے کی طرح بننے کی تمنا کرے، تو یہ حسد کے دائرے میں نہیں آتا، جب تک اس میں دوسرے کے پاس موجود نعمت کے زائل ہونے کی تمنا شامل نہ ہو۔ دوسرے کی طرح بننے کی تمنا کو رشک کہا جاتا ہے، جو جائز ہے اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
انسان فطری طور پر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ کوئی کسی کام میں اس سے آگے بڑھ جائے۔ ایسے میں اگر وہ دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرے، تو یہ حسد ہے، جو کہ مذموم ہے۔ لیکن اگر اپنے اندر اس سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرے، تو یہ رشک ہے، جو جائز ہے۔
کسی مسلمان بھائی کے سودے پر سودا کرنے میں خریدار کو یہ بتانا داخل نہیں ہے کہ اس نے خریداری میں بڑا دھوکہ کھایا ہے۔ یہ تو خیرخواہی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ نیت اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی ہو، بیچنے والے کو نقصان پہنچانا نہيں۔ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
مسلمان بھائی کے سودے پر سودا کرنا اس وقت مانا نہيں جائے گا، جب تک دونوں خریدنے اور بیچنے پر راضی نہ ہوئے ہوں اور قیمت متعین نہ ہوئی ہو۔
اللہ کے لیے رکھا جانے والا بغض اس حدیث میں منع کردہ بغض میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ واجب اور ایمان کی ایک مضبوط ترین کڑی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1986) (2564).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص79).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص339).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، النووي وابن رجب (ص118).
الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله المحسن (ص67).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح
یہ حدیث فائدہ بخش وصیت اور مختلف بھلائیوں کی جامع گفتگو پر مشتمل ہے اور اس میں اس منہجِ سلیم کا بیان ہے، جسے ایک مسلمان اس زندگی میں اختیار کرتا ہے۔ اگر لوگ اس وصیت کو اپنا لیں، تو صابر وشاکر اور خوش و خرم زندگی گزاریں گے۔ حدیث میں دو وصیتوں کا بیان ہے:
پہلی وصیت: یہ کہ انسان دنیوی امور میں اپنے سے کم تر اور کم پونجی والے پر نگاہ ڈالے۔
دوسری وصیت: دنیوی امور میں اپنے سے بر تر کی طرف نہ دیکھے۔
جس نے ایسا کیا، اسے دلی راحت وخوشی اورخوش گوار زندگی حاصل ہوگی۔ اللہ کی نعمت کا احساس ہو گا، جس پر وہ شکر گذاری کرے گا اور عاجزی وانکساری کو اپنائے گا۔
یہ حدیث دنیوی امور کے لیے خاص ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس سلسلے میں آدمی کو اپنے سے برتر کی طرف دیکھنا چاہیے؛ تاکہ وہ اس کی اقتدا و پیروی کرسکے، اس کی اپنی کمیاں واضح ہوں اور مزید اطاعت و عبادت کی ترغیب ملے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 102) (6490).
صحيح مسلم (4/ 2275) (2963).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 261).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 534).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص316).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، لعبد الله البسام (7/ 287).
منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 17).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com