سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو ، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَلَّا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

یہ حدیث فائدہ بخش وصیت اور مختلف بھلائیوں کی جامع گفتگو پر مشتمل ہے اور اس میں اس منہجِ سلیم کا بیان ہے، جسے ایک مسلمان اس زندگی میں اختیار کرتا ہے۔ اگر لوگ اس وصیت کو اپنا لیں، تو صابر وشاکر اور خوش و خرم زندگی گزاریں گے۔ حدیث میں دو وصیتوں کا بیان ہے: پہلی وصیت: یہ کہ انسان دنیوی امور میں اپنے سے کم تر اور کم پونجی والے پر نگاہ ڈالے۔ دوسری وصیت: دنیوی امور میں اپنے سے بر تر کی طرف نہ دیکھے۔ جس نے ایسا کیا، اسے دلی راحت وخوشی اورخوش گوار زندگی حاصل ہوگی۔ اللہ کی نعمت کا احساس ہو گا، جس پر وہ شکر گذاری کرے گا اور عاجزی وانکساری کو اپنائے گا۔ یہ حدیث دنیوی امور کے لیے خاص ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس سلسلے میں آدمی کو اپنے سے برتر کی طرف دیکھنا چاہیے؛ تاکہ وہ اس کی اقتدا و پیروی کرسکے، اس کی اپنی کمیاں واضح ہوں اور مزید اطاعت و عبادت کی ترغیب ملے۔

حوالہ

صحيح البخاري (8/ 102) (6490). صحيح مسلم (4/ 2275) (2963). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 261). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 534). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص316). توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، لعبد الله البسام (7/ 287). منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 17).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
تزکیہ نفس

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com