سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حبِ دنیا کی مذمت

23 احادیث

دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ دنیا چکھنے میں میٹھی اور دیکھنے میں سرسبز و شاداب ہے، اس لیے انسان اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے، اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور اسے اپنا سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے۔ جب کہ اللہ نے اس دنیوی زندگی میں ہمیں ایک دوسرے کا جانشیں بنا دیا ہے، تاکہ یہ دیکھے کہ ہمارا عمل کیسا رہتا ہے؟ ہم اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں یا اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہيں؟ اس کے بعد آپ نے بتایا : اس بات سے خبردار رہنا کہ دنیا کے ساز و سامان اور چمک دمک تم کو دھوکے میں ڈال دیں اور اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں میں ملوث ہونے پر آمادہ کر لیں۔ دنیا کے جن فتنوں سے سب سے زیادہ بچنا ضروری ہے، ان میں سے ایک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے۔ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں سے ہی متعلق تھا۔

فوائد
  1. تقوی کی راہ پر چلنے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک کے شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
  2. اس حدیث میں عورتوں کے فتنے میں پڑنے، جیسے اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ تنہائی میں رہنے وغیرہ سے خبردار کیا گیا ہے۔
  3. عورتوں کا فتنہ دنیا کے بڑے فتنوں میں سے ایک ہے۔
  4. ہمیں پچھلی امتوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ کیوں کہ جو کچھ بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا، وہ دوسروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
  5. عورتوں کے فتنے کے مختلف روپ ہیں۔ جب وہ بیوی ہوتی ہے، تو کبھی کبھی مرد کو اتنا خرچ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو اس کی طاقت سے باہر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دین کے کاموں میں وقت نہيں دے پاتا اور خود کو دنیا کی طلب میں لگا دیتا ہے اور جب وہ اجنبی عورت ہوتی ہے اور گھر سے سج دھج کر بے پردہ ہوکر باہر نکلتی اور مردوں کے ساتھ گھلتی ملتی ہے، تو اس سے زنا کے مختلف دروازے کھلتے ہیں۔ اس لیے ایک مؤمن کو عورت کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ کی رسی کو تھامے رہنا چاہیے اور اسی سے لو لگانا چاہیے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2098) (2742). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 146). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 173). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 103).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کےلیےجنت ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ تعالی نے مومن کے لیے روز قیامت جو دائمی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان کی وجہ سے وہ دنیا میں قیدی ہے اور کافر کی جنت اس کی دنیا ہے کیونکہ روز قیامت اس کے لیے اللہ نے کبھی نہ ٹلنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2272) (2956). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 535). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 419). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 367). موسوعة فقه القلوب، لمحمد التويجري (4/ 3471). كتاب العلم، لابن عثيمين (ص37).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پَر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔

عن سهل بن سعد الساعدي ـرضي الله عنه- قَالَ رَسُول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «لو كانت الدنيا تَعدل عند الله جَناح بَعوضة، ما سَقَى كافراً منها شَرْبَة ماء».
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے ہاں دنیا کی حقارت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر اللہ کے ہاں اس کی تھوڑی سی بھی قیمت ہوتی تو کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا، چہ جائیکہ کافر کواس دنیا میں نعمتوں سے نوازتا اور اس کو اس دنیا کی خوش گوار اشیاء سے لطف اندوز ہونے دیتا۔ اسی لیے دنیا اللہ کے ہاں حقیر ہے بخلاف آخرت کے کہ یہ خالص مومنوں کے حق میں دائمی نعمتوں کا گھر ہے کفار کےمقابلے۔ اسی لیے اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ اس دنیا کی حقیقت کو پہچانیں اور اس کی طرف مائل نہ ہوں، اس لیے کہ یہ گزرگاہ ہے رہنے کی جگہ نہیں۔ چنانچہ یہاں سے اتنا ہی لیں جتنا کہ اپنی آخرت سنوار سکیں جو ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ * أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ﴾۔ ”اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف دنیوی زندگی کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے، کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالآخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا“۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين أ. د . حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار - دار كنوز اشبيليا ـ الطبعة الأولى : 1430 هـ. بهجة الناظرين - الشيخ: سليم بن عيد الهلالي - دار ابن الجوزي. نزهة المتقين - د . مصطفى سيعد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة ، بيروت - الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م الطبعة الرابعة عشر 1407هـ 1987م. شرح رياض الصالحين - المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين - الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض الطبعة: 1426 هـ. رياض الصالحين د. ماهر بن ياسين الفحل - الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح مسلم- مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري - المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. سنن الترمذي- المؤلف: محمد بن عيسى الترمذي، أبو عيسى - تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر - الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. صحيح وضعيف سنن الترمذي - المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني- مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية - المجاني - من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان - المؤلف: عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله السعدي - المحقق: عبد الرحمن بن معلا اللويحق - الناشر: مؤسسة الرسالة -الطبعة: الأولى 1420هـ -2000 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جس نے اسے دلى سخاوت کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس نے اسے دل کے لالچ کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا المَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَاليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى»، قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ لاَ أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا لِيُعْطِيَهُ العَطَاءَ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ المُسْلِمِينَ، إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْ هَذَا الفَيْءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ. فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مال مانگا، تو آپ ﷺ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر دیا، پھر فرمایا: اے حکیم !یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جس نے اسے دلی سخاوت کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس نے اسے دل کے لالچ کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس پر میں نے کہا کہ یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کربھیجا ہے! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا کو چھوڑ جاؤں ۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو کوئی شے دینے کے لیے بلاتے، تو وہ لینے سے انکار کردیتے تھے ۔ بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دینے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے مسلمانو ! میں حکیم کے معاملے میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ اس مال فے میں اللہ کی طرف سے ان کا جو مقررہ حق ہے، میں نے اسے ان کے سامنے پیش کیا، لیکن انھوں نے اسے لینے سے انکار کردیا ۔ تاوقت وفات حکیم رضی اللہ عنہ نے نبی ‎ﷺ کے بعد لوگوں میں سے کسی سے کچھ نہ مانگا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

مفہوم حدیث: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کچھ مال مانگا۔ آپ ﷺ نےا نھیں مال دے دیا۔ انھوں نے پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے پھر دے دیا۔ پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے انھیں پھر دے دیا اور اس کے ساتھ ہی آپ ‎ﷺ نے فرمایاکہ اے حکیم: "یہ مال بہت سرسبز اور میٹھا ہے" ۔ یعنی یہ بہت محبوب و مرغوب ہے ۔ دل اسے پسند کرتے ہیں اور طبعی طور پر اس کی طمع رکھتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی، جیسے دل کو تروتازہ پھل، خوش نما منظر اور خوش ذائقہ مٹھائی پسند ہوتی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسے سخاوت دل کے ساتھ لیا“ یعنی جس نے مال اس طرح حاصل کیا کہ دل صاف ہو، اصرار، لالچ اور شدیدخواہش کی آمیزشنہ ہو۔ ”اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے“ یعنی اللہ تعالی اس میں برکت ڈال دیتے ہیں اوریوں وہ بڑھتا اور زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اورایسے شخص کو قناعت دے دی جاتی ہے۔ وہ دل کا تونگر ہو جاتا ہے۔ اس کا دل پر سکون رہتا ہے اور وہ اس مال کے ساتھ سعادت مندانہ زندگی گزارتا ہے۔ ”جو شخص دل کے لالچ کے ساتھ اسے لیتا ہے“ یعنی اس کے دل میں مال کی شدید خواہش بسی ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے اوراس کے اندر لالچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ”تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی“۔ یعنی اللہ تعالی اس مال سے برکت نکال لیتےہیں اورایسے شخص کو قناعت سے محروم کردیتے ہیں اور یوں وہ ہمیشہ دل کا فقیر ہی رہتا ہے، چاہے اسے پوری دنیا کے خزانے ہی کیوں نہ دے دیے جائیں ۔ مسلم شریف میں اسی معنی کی ایک اور حدیث بھی ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فقط خازن ہوں۔ جسے میں خوش دلی سے دیتا ہوں، اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے اور جو شخص اسے مانگ کر اور لالچ کے ساتھ مجھ سے لیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“۔ ”وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“ یعنی اس حریص شخص کی مانند ہوتا ہے، جو جتنا بھی کھائے اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جب میلان نفس کے ساتھ لینے کا یہ حال ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہوگا، جو مانگ مانگ کر لیتا ہے۔ اس کا حال تو اس سے بہت ہی گیا گزرا ہوگا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:”اس مال میں سے اگر کچھ تمھارے پاس بغیر کسی نفسی میلان اور بن مانگے آجائے، تو اسے لے لو اور جو نہ آئے، اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگاؤ“ یعنی جس ملنے والے مال میں تمھارے نفس کا میلان ہو اور اس میں رغبت و اشتیاق ہو، اسے مت لو اور اسی طرح جو مانگنے پر آئے، اسے بھی مت لو۔ ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ اسے بہتر ہے“ یعنی نہ مانگنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہترہے ۔ کیوںکہ اس نے اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچا لیا، اس ہاتھ کے برعکس جس نے اپنے آپ کو ذلت میں ڈال کر اپنی قدروعزت میں خود ہی کمی کی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اس ذات کی قسم اٹھائی، جس نے نبی ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس بات پر کہ وہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی قسم! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی، تو وہ انھیں کچھ دینا چاہتے، لیکن وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو انھوں نے آپ کو بلوایا، تاکہ انھیں کچھ دے سکیں، لیکن انھوں نے لینے سے انکار کردیا ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہا: گواہ رہو کہ میں انھیں مسلمانوں کے بیت المال سے دینا چاہتا ہوں، لیکن وہ قبول نہیں کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کہا کہ روزقیامت اللہ کے سامنے ان کی عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ لوگوں کے سامنے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجائیں۔ تاہم پھر بھی حکیم رضی اللہ عنہ ان سے کچھ نہ لینے پر مصررہے، یہاں تک کہ وفات پاگئے۔

حوالہ

صحيح البخاري (4/ 5) (2750). صحيح مسلم (2/ 717) (1035). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (8/ 13). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 584). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 459). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 386). منار القاري، لحمزة قاسم (3/ 45). المنهاج شرح صحيح مسلم، للنووي (7/ 126). إكمال المعلم بفوائد مسلم، للقاضي عياض (3/ 566).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش (فتنہ) مال میں ہے۔

عن كعب بن عياض رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن لكل أُمَّة فتنة، وفِتنة أُمَّتي: المال».
کعب بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش (فتنہ) مال میں ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

کعب بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ: ”بے شک ہر امت کا کوئی فتنہ ہوتا ہے“ فتنہ وہ چیزیں ہیں جن میں انسان کو آزمایا اور پرکھا جاتا ہے۔ ”اور میری امت کا فتنہ مال ہے“ کیوں کہ مال آخرت سے رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اور مال کے ساتھ مشغول ہونا انسان کو اطاعت سے غافل کر دیتا ہے اور آخرت کو بھلا دیتا ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى : 1430 هـ. بهجة الناظرين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م. التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه، مؤلف الأصل: محمد بن حبان أبو حاتم الدارمي البُستي، ترتيب: الأمير أبو الحسن علي بن بلبان بن عبد الله، علاء الدين الفارسي الحنفي، مؤلف التعليقات الحسان: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: دار با وزير للنشر والتوزيع، جدة - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424 هـ - 2003 م. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. سنن الترمذي، المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5)، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. صحيح وضعيف سنن الترمذي، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية - المجاني - من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية. مسند الإمام أحمد بن حنبل، المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني، المحقق: شعيب الأرناؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. مشكاة المصابيح، المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب العمري أبو عبد الله التبريزي، المحقق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي - بيروت الطبعة: الثالثة، 1985. صحيح الجامع الصغير وزياداته، المؤلف: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں۔

عن عمرو بن عوف الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أبا عبيدة بن الجراح رضي الله عنه إلى البحرين يأتي بِجِزْيَتِهَا، فَقدِم بمالٍ من البحرين، فسمعت الأنصار بقدوم أبي عبيدة، فَوَافَوْا صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف، فَتَعَرَّضُوا له، فتَبسَّم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآهم، ثم قال: «أَظُنُّكُمْ سَمِعتم أن أبا عبيدة قَدِم بشيءٍ من البحرين؟» فقالوا: أجل، يا رسول الله، فقال: «أبشروا وأمِّلوا ما يَسُرُّكُم، فوالله ما الفَقرَ أخشى عليكم، ولكني أخَشى أن تُبْسَط الدنيا عليكم كما بُسِطَت على من كان قبلكم، فتَنَافسوها كما تَنَافسوها، فَتُهْلِكَكُم كما أهْلَكَتْهُمْ».
عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی آمد کے متعلق سن لیا۔چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا چکے تو لوگ رسول الله ﷺ کے سامنے آئے ۔ رسول الله ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا ، تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو۔ جس سے تمہیں خوشی ملنے والی ہے، لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا ہے کہ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے ، پس تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سےمقابلہ بازی شروع کردو اور یہ مقابلہ بازی تمہیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گی جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رسول اللہﷺ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ لینے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس مدینہ پہنچے اور انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔جب آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد رخ پھیرا تو سب آپ کے سامنے آگئے اس پر آپ ﷺ مسکرا دیے کیونکہ وہ مال کی جستجو میں آئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: لگتا ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے واپس آ گئے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم نے یہ سنا تھا یعنی اپنا حصہ لینے کے لئے ہم آئے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اس شے کی بشارت دی جو انہیں خوش کرنے والی تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں یہ بتایا کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں فقر کا اندیشہ نہیں ہے کیونکہ غریب شخص عام طور پر امیر شخص سے زیادہ حق کے قریب ہوتا ہے ۔ بلکہ اگر اندیشہ ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں اور وہ اس کے حصول میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی شروع کردیں ۔ اس وقت انسان کو جو کچھ مل رہا ہوگا اسے وہ کافی نہیں سمجھے گا بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ کی حرص رکھےگا اور اسے کوئی فکر نہیں ہوگی کہ اسے مال کس طریقے سے مل رہا ہے اور نہ ہی وہ حلال و حرام کی پرواہ کرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی مقابلہ آرائی مذموم ہے جو دنیا کی رغبت دلائے اور آخرت سے بے گانہ کردے اور اس میں پڑنے والا شخص اسی طرح ہلاکت کا شکار ہوجائے جیسے اس سے پہلے لوگ ہوئے تھے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة -الطبعة الرابعة 1425ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج /أبو زكريا يحيى بن شرف النووي: دار إحياء التراث العربي – بيروت الطبعة: الثانية، 1392.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

سرور، اطمینان اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، جب کہ دنیا کتنی ہی عیش وعشرت والی زندگی کیوں نہ ہو آخرکار اس کا انجام فنا ہو جانا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (8/ 88) (6413). صحيح مسلم (3/ 1431) (1805). مرقاة المفاتيح، لعلي القاري (7/ 3016). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر (11/ 231). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 362). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 223). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 529). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 412).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لوگو آگاہ رہو! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کےذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے، نيز دينى علوم سے بہرہ ور اور اس کا علم حاصل کرنے والے کے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنهُ سمعتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولُ: «أَلاَ إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلاَّ ذِكْرُ اللهِ وَمَا وَالاَهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ».
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو آگاہ رہو! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کےذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے، نيز دينى علوم سے بہرہ ور اور اس کا علم حاصل کرنے والے کے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

دنیا اور اس میں موجود سامانِ آرائش و زیبائش اللہ کے ہاں ناپسندیدہ اور مذموم ہیں؛ کیونکہ یہ لوگوں کو ان کے مقصدِ تخلیق یعنی اللہ کی عبادت اور اس کی شریعت کے قيام سے بیگانہ کرديتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ كا ذكر اور اس سے تعلق ركهنے والى عبادتيں، اسى طرح علم دين كا سیکھنا اور اسے سکھانا ان چیزوں سے مستثنی ہیں جو اللہ کو ناپسند ہیں؛ کیونکہ تخلیق انسان سے یہی مقصود ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي (4/ 151) (2322). سنن ابن ماجه (5/ 231) (4112). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 542). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 424). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 325). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 374).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
23 میں سے 8
23 احادیث
  1. دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو
  2. دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کےلیےجنت ہے۔
  3. اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پَر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔
  4. اے حکیم! بلا شبہ یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جس نے اسے دلى سخاوت کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس نے اسے دل کے لالچ کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
  5. ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش (فتنہ) مال میں ہے۔
  6. میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں۔
  7. اے اللہ حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے۔
  8. لوگو آگاہ رہو! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کےذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے، نيز دينى علوم سے بہرہ ور اور اس کا علم حاصل کرنے والے کے۔
  9. اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس (سونے) میں سے کوئی شے بچی پڑی ہو۔ سوا اس کے، جسے میں کسی قرض دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔
  10. آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر (نكال كر) دیکھے کہ وه سمندر كا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے!
  11. اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے۔
  12. میں اپنے بعد تمھارے بارے میں جن چيزوں سے ڈرتا ہوں، ان میں سے ایک دنیا کی چمک دمک اور دنیائی زیب وزینت کے دروازوں کا کھلنا ہے۔
  13. میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھروالے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے؛ اس کے گھروالے اور اس کی دولت لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔
  14. میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا كہ آپ ﷺ سارا دن بھوک سے بے قرار رہتے اور آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔
  15. اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔
  16. ”بلاشبہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن جہنم ہے“۔
  17. وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدرِ کفایت رزق مل گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر اسے قناعت دے دی۔
  18. دینار کا بندہ ہلاک ہو، درہم کا بندہ ہلاک ہو، نقشے دار ریشمی کپڑے کا بندہ ہلاک ہو، مخملی چادر کا بندہ ہلاک ہو، جسے دیا گیا تو خوش اور نہیں دیا گیا تو ناراض۔ ایسا آدمی ہلاک و نامراد ہو اور اگر اسے کانٹا لگے، تو کوئی نکالنے والا نہ ملے
  19. نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔
  20. دنیا میں مشغول ہو کر آخر سے غافل ہو جانے سے ڈرانے کا بیان
  21. رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کی جانب گئے اور آٹھ سال بعد ان کے حق میں دعا فرمائی۔ (ایسا لگ رہا تھا،) جیسے آپ ﷺ زندوں اور مردوں، سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔
  22. بلاشبہ تم لوگ امارت کی چاہت رکھوگے، لیکن وہی امارت قیامت کے دن تمھارے لیے ندامت کا سبب بنے گی, پس کیا ہی اچھی ہوتی ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہوتی ہے دودھ چھڑانے والی
  23. رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com