سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

دینار کا بندہ ہلاک ہو، درہم کا بندہ ہلاک ہو، نقشے دار ریشمی کپڑے کا بندہ ہلاک ہو، مخملی چادر کا بندہ ہلاک ہو، جسے دیا گیا تو خوش اور نہیں دیا گیا تو ناراض۔ ایسا آدمی ہلاک و نامراد ہو اور اگر اسے کانٹا لگے، تو کوئی نکالنے والا نہ ملے

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "تَعِسَ عَبْدُ الدينار، تَعِسَ عَبْدُ الدرهم، تَعِسَ عَبْدُ الخَمِيصَة، تعس عَبْدُ الخَمِيلَة، إن أُعْطِيَ رَضِيَ، وإن لم يُعْطَ سَخِطَ، تَعِسَ وانْتَكَسَ، وإذا شِيكَ فلا انتَقَشَ، طُوبَى لعبد آخذ بعِنَانِ فرسه في سبيل الله، أشعث رأسه، مُغْبَرَّةً قدماه، إن كان في الحِرَاسَةِ كان في الحِرَاسَةِ، وإن كان في السَّاقَةِ كان في السَّاقَةِ، إن استأذن لم يُؤْذَنْ له، وإن شَفَعَ لم يُشَفَّعْ".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "دینار کا بندہ ہلاک ہو، درہم کا بندہ ہلاک ہو، نقشے دار ریشمی کپڑے کا بندہ ہلاک ہو، مخملی چادر کا بندہ ہلاک ہو، جسے دیا گیا تو خوش اور نہیں دیا گیا تو ناراض۔ ایسا آدمی ہلاک و نامراد ہو اور اگر اسے کانٹا لگے، تو کوئی نکالنے والا نہ ملے۔ ایسے بندے کے لیے جنت کا مژدہ ہے، جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کی لگام تھام کر کھڑا ہو۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور پاوں غبار آلود ہوں۔ اگر اسے پہرے داری میں لگا دیا جائے تو اسی میں لگا رہے اور اگر فوج کے پچھلے حصے میں رکھ دیا جائے تو وہیں رہ جائے۔ اگر اجازت طلب کرے تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے"۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں کی سوچ کی معراج، منتہائے علم اور پہلا اور آخری مقصد دنیا ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ اس طرح کے لوگوں کا انجام ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس قسم کی لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے شدید حریص ہوتے ہیں۔ اگر دنیا مل گئی تو خوش اور نہیں ملی تو ناراض۔ جب کہ کچھ لوگوں کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول اور آخرت کی زندگی کو سنوارنا ہوتا ہے۔ انھیں نہ جاہ و منصب کی طلب ہوتی ہے، نہ شہرت کی تمنا۔ ان کے ہر نیک کام کے پیچھے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دکھاوے سے مطلب نہیں رکھتے۔ جہاں رکھ دیے جائیں اسی پر راضی اور خوش۔ ایسے لوگ، لوگوں کے سامنے بے وقعت ہوتے ہیں اور عہدہ و منصب والے لوگوں سے دور رہتے ہیں۔ اگر ان کے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگیں، تو اجازت نہ ملے اور ان کے پاس کسی کی سفارش کریں، تو سفارش قبول نہ کی جائے۔ لیکن ان کا ٹھکانہ جنت ہے جو ایک بہترین بدلہ ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري-المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر-الناشر : دار طوق النجاة-الطبعة : الأولى 1422هـ. فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، للشيخ عبد الرحمن بن حسن آل الشيخ مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ/1957م. القول المفيد على كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن صالح العثيمين دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. الجديد في شرح كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن عبد العزيز القرعاوي، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م. معجم اللغة العربية المعاصرة،أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل،الناشر: عالم الكتب،الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حبِ دنیا کی مذمت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com