سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا كہ آپ ﷺ سارا دن بھوک سے بے قرار رہتے اور آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ملنے والی دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کا ذکر کیا اور پھر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا كہ آپ ﷺ سارا دن بھوک سے بے قرار رہتے اور آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جب اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے شہروں کو فتح کردیا، لوگوں کو خوب دنیا ہاتھ آئی اور انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا اُسے ذکر کرتے ہوئے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ بھوک کی وجہ سے بے قرار رہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ردی کھجور جیسی کوئی ایسی شے بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ ﷺ اپنا پیٹ بھر سکتے۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2284) (2977). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 537). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 421). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (7/ 300). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 370). كشف المشكل، لابن الجوزي (2/ 216).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حبِ دنیا کی مذمت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com