اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔
- انسان جس قدر اللہ کے سامنے اپنی محتاجگی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اس کی دعا قبول ہونے کی اتنی ہی زیادہ امید رہتی ہے۔
- دعا کی ترغیب۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے۔ یہ دعا قبول ہونے کا ایک سبب ہے۔
- بندوں پر اللہ کا بے پایاں رحم وکرم۔
سنن أبي داود (2/ 609) (1488). سنن الترمذي (5/ 521) (3556). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 552). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 423). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 483).