سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بے شک تمہارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو یوں ہی خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔

عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا».
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک تمہارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو یوں ہی خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجهدرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔

فوائد
  1. انسان جس قدر اللہ کے سامنے اپنی محتاجگی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اس کی دعا قبول ہونے کی اتنی ہی زیادہ امید رہتی ہے۔
  2. دعا کی ترغیب۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے۔ یہ دعا قبول ہونے کا ایک سبب ہے۔
  3. بندوں پر اللہ کا بے پایاں رحم وکرم۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 609) (1488). سنن الترمذي (5/ 521) (3556). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 552). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 423). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 483).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دعا کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com