سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، اسے اللہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے۔ یا تو اس کی دعا کو اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع رکھ لیتا ہے یا پھر اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دیتا ہے۔" صحابۂ کرام نے عرض کیا: تب تو ہم خوب دعائیں کیا کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تو کہیں زیادہ دینے والا ہے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا» قَالُوا: إِذنْ نُكْثِرُ، قَالَ: «اللهُ أَكْثَرُ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، اسے اللہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے۔ یا تو اس کی دعا کو اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع رکھ لیتا ہے یا پھر اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دیتا ہے۔" صحابۂ کرام نے عرض کیا: تب تو ہم خوب دعائیں کیا کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تو کہیں زیادہ دینے والا ہے۔"
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب ایک مسلمان کوئی دعا کرتا ہے اور اللہ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے، جو گناہ پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ کسی گناہ یا ظلم کو آسان کرنے کی دعا نہ کرتا ہو، اسی طرح اس کی مانگی ہوئی چیز قطع رحمی پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ اپنے بال بچوں اور رشتے داروں کے حق میں بد دعا نہ کرتا ہو، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے: یا تو اس کی دعا کو فورا قبولیت سے سرفراز کرتے ہوئے اسے اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دیتا ہے۔ یا پھر آخرت میں اس کا اجر وثواب ذخیرہ کرتے ہوئے اس کے درجات بلند کرتا ہے یا اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے یا گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یا پھر دنیا میں دعا کے بہ قدر اس سے برائی دور کر دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: تب تو ہم زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں گے، تاکہ ان میں سے کوئی ایک فضیلت حاصل کر سکیں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم جو کچھ مانگو گے اللہ کے پاس اس سے بہت زیادہ اور اس سے بڑی بڑی نوازشیں موجود ہیں۔ اللہ کی نوازشیں کبھی ختم نہيں ہوتیں۔

فوائد
  1. مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ رد نہیں ہوتی۔ بشرط کہ اس کے اندر دعا کے آداب و شروط پائے جاتے ہوں۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ دعا کرے اور قبول ہو جانے کی جلدی میں نہ رہے۔
  2. دعا قبول ہونے کا مطلب حصول مقصود ہی نہیں ہے۔ دعا کے بدلے میں گناہوں کی معافی بھی ہو سکتی ہے یا اسے آخرت کے لیے ذخیرہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
  3. ابن باز کہتے ہيں: الحاح وزاری، اللہ سے حسن ظن اور مایوس نہ ہونا دعا قبول ہونے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہيں۔ اس لیے انسان کو دعا کرتے وقت الحاح وزاری کرنا چاہیے، اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے اور دل کے اندر یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ کبھی کسی حکمت کے پیش نظر دعا فورا قبول کر لیتا ہے، کبھی کسی حکمت کے پیش نظر بدیر قبول کرتا ہے اور کبھی مانگنے والے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔
حوالہ

مسند أحمد (17/ 213) (11133). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 592). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص805). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 54). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري (4/ 1537). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1020).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دعا کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com