عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: يُستجاب لأحدكم ما لم يَعْجَلْ: يقول: قد دعوت ربي، فلم يستجب لي».
وفي رواية لمسلم: «لا يزال يُستجاب للعبد ما لم يَدْعُ بإثم، أو قطيعة رحم، ما لم يَسْتَعْجِلْ» قيل: يا رسول الله ما الاستعجال؟ قال: «يقول: قد دعوت، وقد دعوت، فلم أر يستجب لي، فَيَسْتَحْسِرُ عند ذلك ويَدَعُ الدعاء».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے : میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔
مسلم کی روایت میں ہے: ”بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ کسی برائی اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جب تک وہ جلدی نہ کرے“۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یوں کہنے لگے کہ میں نے بہت مرتبہ دعا کی تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ قبول ہوئی۔ اس پر وہ افسوس شروع کردے اور دعا کرنا چھوڑ دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ بندے کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ دعا کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو اور وہ اس میں جلدی نہ کرے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اس جلد بازی سے کیا مراد ہے، جو دعا کی قبولیت میں آڑے آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: میں نے دعا مانگی اور بار بار مانگی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ چنانچہ جلد بازی کرتے ہوئے وہ دعا ہی کرنا چھوڑ دے۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى سعيد الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان البكري الصديقي، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة.
- شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا» قَالُوا: إِذنْ نُكْثِرُ، قَالَ: «اللهُ أَكْثَرُ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، اسے اللہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے۔ یا تو اس کی دعا کو اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع رکھ لیتا ہے یا پھر اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دیتا ہے۔" صحابۂ کرام نے عرض کیا: تب تو ہم خوب دعائیں کیا کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تو کہیں زیادہ دینے والا ہے۔"
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب ایک مسلمان کوئی دعا کرتا ہے اور اللہ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے، جو گناہ پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ کسی گناہ یا ظلم کو آسان کرنے کی دعا نہ کرتا ہو، اسی طرح اس کی مانگی ہوئی چیز قطع رحمی پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ اپنے بال بچوں اور رشتے داروں کے حق میں بد دعا نہ کرتا ہو، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے: یا تو اس کی دعا کو فورا قبولیت سے سرفراز کرتے ہوئے اسے اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دیتا ہے۔ یا پھر آخرت میں اس کا اجر وثواب ذخیرہ کرتے ہوئے اس کے درجات بلند کرتا ہے یا اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے یا گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یا پھر دنیا میں دعا کے بہ قدر اس سے برائی دور کر دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: تب تو ہم زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں گے، تاکہ ان میں سے کوئی ایک فضیلت حاصل کر سکیں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم جو کچھ مانگو گے اللہ کے پاس اس سے بہت زیادہ اور اس سے بڑی بڑی نوازشیں موجود ہیں۔ اللہ کی نوازشیں کبھی ختم نہيں ہوتیں۔
فوائد
- مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ رد نہیں ہوتی۔ بشرط کہ اس کے اندر دعا کے آداب و شروط پائے جاتے ہوں۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ دعا کرے اور قبول ہو جانے کی جلدی میں نہ رہے۔
- دعا قبول ہونے کا مطلب حصول مقصود ہی نہیں ہے۔ دعا کے بدلے میں گناہوں کی معافی بھی ہو سکتی ہے یا اسے آخرت کے لیے ذخیرہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: الحاح وزاری، اللہ سے حسن ظن اور مایوس نہ ہونا دعا قبول ہونے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہيں۔ اس لیے انسان کو دعا کرتے وقت الحاح وزاری کرنا چاہیے، اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے اور دل کے اندر یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ کبھی کسی حکمت کے پیش نظر دعا فورا قبول کر لیتا ہے، کبھی کسی حکمت کے پیش نظر بدیر قبول کرتا ہے اور کبھی مانگنے والے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔
حوالہ
مسند أحمد (17/ 213) (11133).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 592).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص805).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 54).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري (4/ 1537).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1020).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا».
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک تمہارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو یوں ہی خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجهدرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔
فوائد
- انسان جس قدر اللہ کے سامنے اپنی محتاجگی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اس کی دعا قبول ہونے کی اتنی ہی زیادہ امید رہتی ہے۔
- دعا کی ترغیب۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے۔ یہ دعا قبول ہونے کا ایک سبب ہے۔
- بندوں پر اللہ کا بے پایاں رحم وکرم۔
حوالہ
سنن أبي داود (2/ 609) (1488).
سنن الترمذي (5/ 521) (3556).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 552).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 423).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 483).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔
رواه أبو داود وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔
فوائد
- دعا خیر کے معانی پر مشتمل مختصر مگر جامع الفاظ کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔ اس میں تکلف اور تعمق سے کام لینا مکروہ ہے۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے خلاف بھی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔
- کوشش یہ ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، چاہے لمبی اور زیادہ الفاظ والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام دعائيں جامع دعاؤں کے ضمن میں آتی ہیں۔
حوالہ
سنن أبي داود (2/ 605) (1482).
مسند أحمد (42/ 76) (25151).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 542).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1003).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 15).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 349).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَن أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، وَليَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، لاَ مُكْرِهَ لَهُ».
ولمسلم: «وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔ اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔ اس لیے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا"۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ سے یقین کے ساتھ مانگے اور رغبت کا خوب اظہار کرے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھى چیز جسے وہ عطا کرتا ہے بھارى نہیں“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کو کسی چيز سے، حتی کہ اللہ کی مشیت سے بھی، معلق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک یقینی بات ہے کہ اللہ اسی وقت معاف کرے گا، جب وہ معاف کرنا چاہے۔ مشیت کی شرط رکھنا اس لیے بھی بے معنی ہے کہ مشیت کی شرط اس کے بارے میں رکھی جاتی ہے، جس سے مشیت کے بغیر بھی فعل کا صدور ہو سکتا ہو۔ جیسے جبر و اکراہ کے ساتھ فعل کا صدور۔ لیکن اللہ کی ذات تو اس سے پاک ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اس حدیث کے اخیر میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو کوئی مجبور نہيں کر سکتا۔ کوئی بھی چيز دینا اللہ کے لیے دشوار نہيں ہے اور کچھ بھی اس کے بس سے باہر نہیں ہے۔ نیز یہ کہ مشیت سے معلق کر کے مغفرت طلب کرنا ایک طرح سے اللہ کی مغفرت سے استغنا کا اظہار ہے۔ لہذا 'اگر تو دینا چاہے تو دے' کہنا دراصل یہ بتانا ہے کہ اسے یا تو ضرورت نہیں ہے یا پھر سامنے والا بے بس ہے۔ جہاں سامنے والا قادر ہو اور مانگنے والا حاجت مند ہو، وہاں عزم و یقین کے ساتھ مانگا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ایسے مانگنا چاہیے، جیسے ایک فقیر وحاجت مند ایک حاجت روا سے اپنی ضرورت مانگ رہا ہو اور اس سے لو لگا رہا ہو کیوں کہ وہ کامل غنی وبے نیاز اور قادر مطلق ہے۔
فوائد
- دعا کو مشیئت کے ساتھ معلق کرنا منع ہے۔
- اللہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے، جو اس کی شان کے مطابق نہيں ہیں۔ وہ وسیع فضل وکرم کا مالک، کمالِ استغنا کا حامل اور جود وسخا کا مالک ہے۔
- اللہ کی ذات کامل ومکمل ہے۔
- اللہ کے پاس موجود چیزوں کی رغبت رکھنے اور اس سے حسن ظن رکھنے کی اہمیت۔
- کچھ لوگ لاشعوری طور پر بھی دعا کو مشیت سے معلق کر دیتے ہيں۔ جیسے کہہ دیتے ہيں: 'اللہ چاہے تو آپ کو جزائے خیر دے' اور 'اللہ چاہے تو آپ پر رحم کرے'۔ اس طرح کے جملوں کا استعمال درست نہیں ہے اور اس کی دلیل یہی حدیث ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 140) (7477).
صحيح مسلم (4/ 2063) (2679).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص410).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص368).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 331).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي بن كعب رضي الله عنه : كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا ذَهَبَ ثُلثُ الليلِ قامَ، فقال: "يا أيها الناسُ، اذكروا اللهَ، جاءت الرَّاجِفَةُ، تَتْبَعُها الرَّادِفَةُ، جاءَ الموتُ بما فيه، جاءَ الموتُ بما فيه"، قلتُ: يا رسول الله، إني أُكْثِرُ الصلاةَ عليكَ، فكم أجعلُ لكَ من صلاتِي؟ فقالَ: "ما شِئتَ"، قلتُ: الرُّبُعَ؟، قالَ: "ما شئتَ، فإنْ زِدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: فالنّصفَ؟، قالَ: "ما شئتَ، فإن زِدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: فالثلثين؟ قالَ: "ما شئتَ، فإن زدتَ فهو خيرٌ لكَ"، قلتُ: أجعلُ لكَ صلاتِي كُلَّها؟ قالَ: "إذاً تُكْفى هَمَّكَ، ويُغْفَرَ لكَ ذَنبُكَ".
ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔ بھونچال آیا ہی چاہتا ہے، اس کے پیچھے ایک اور بھونچال آئے گا۔موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے، موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو۔ میں نے پوچھا: چوتھائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو، اگر تم زیادہ کر دو تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا۔ میں نے پوچھا: نصف؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا: دو تہائی؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ: میں اپنی پوری دعا ہی آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اگر تم ایسا کرو گے ) تو پھر یہ تمہارے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
حدیث کے آغاز میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ رات کے تہائی حصے میں جب اٹھتے تو اپنی امت کو غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اور انہیں اس عمل کے ترغیب دینے کے لیے جو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رحمت کاملہ کا باعث ہوتا ہے فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔یعنی دل و زبان سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ ذکر کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ عمل خیر کرنے کی انگیخت ملے اوربرے اعمال چھوٹ جائیں۔
حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ دعا مانگنے والا بعض اوقات اپنے لیے دعا کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی دعا کا تہائی یا نصف حصہ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دے یا پھر اپنی ساری دعا ہی کو نبی ﷺ کے لیے درود بنا دے۔ مثلا دعا کرنے کے بجائے آپ ﷺ پر درود بھیجے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: جو آپ ﷺ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس دفعہ رحمت کا نزول فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔ اس کے اس درود بھیجنے کا اجر اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ اسی لیے فرمایا: ”يَكفِيْ همَّك ويَغفِر ذنبَك“ یعنی تم اس ضرر رساں شے کو دور کرنا چاہتے ہو جو غم زدہ کرتی ہے اور گناہ کا باعث ہوتی ہے۔ جب تم اپنی دعا کے بجائے میرے اوپر درود بھیجو گے تو تمہیں تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کا مقصد آپ ﷺ کو اپنی دعا میں شریک کرنا ہو۔ گویا کہ ان کا کہنا تھا کہ: میں جب بھی دعا کروں گا آپ پر درود بھیجوں گا۔ اس میں اس معنی پر دلالت نہیں ہے کہ دعا کے بجائے صرف درود ہی پر اکتفاء کیا جائے بلکہ تمام نصوص پر عمل کرتے ہوئے دعا اور درود دونوں کو جمع کیا جائے گا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
تحفة الذاكرين بعدة الحصن الحصين؛ للإمام محمد بن علي الشوكاني، تحقيق سيد إبراهيم وغيره، دار الحديث-القاهرة، الطبعة الأولى، 1419م.
الجامع الكبير؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق د. بشار عواد، دار الغرب الإسلامي-بيروت، الطبعة الثانية، 1998م.
جامع المسائل؛ لشيخ الإسلام أحمد بن تيمية الحراني، تحقيق محمد عزيز شمس، دار عالم الفوائد، الطبعة الأولى، 1422هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
سلسلة الأحاديث الصحيحة؛ للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، 1415هـ.
صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
المسند؛ للإمام أحمد بن حنبل، نشر المكتب الإسلامي-بيروت، مصور عن الطبعة الميمنية.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس رضي الله عنه : أن النبيَّ صلى الله عليه وسلم جاءَ إلى سعد بنِ عبادة رضي الله عنه فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ، فأكلَ، ثم قال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : «أفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ؛ وَأكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلاَئِكَةُ».
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا، پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے لیے دعائیں کریں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہاس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تشریح
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ خزرج کے سردار سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ”چنانچہ وہ روٹی اور تیل لے کر آئے“ اس جملے میں اس چیز کو پیش کرنے کا بیان ہے، جو آسانی سے میسر ہو، یہ تہذیب کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے کھایا۔ پھر فرمایا یعنی کھانا کھانے کے بعد: ”أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“ یعنی اللہ تمھیں اتنا ثواب دے، جتنا روزے دار کو افطار کرانے والے کا ہوتا ہے۔ یہ جملہ دعائیہ ہے۔ ”وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ“ ابرار جمع ہے ”بر“ کی، بمعنی متقی۔ ”وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ“ یعنی تمھارے لیے استغفار کریں۔
حوالہ
1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
2- تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
3- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
4- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
5- سنن أبي داود؛ للإمام أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، تعليق عزت الدعاس وغيره، دار ابن حزم-بيروت، الطبعة الأولى، 1418هـ.
6- سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية.
7- المسند؛ للإمام أحمد بن حنبل، نشر المكتب الإسلامي-بيروت، مصور عن الطبعة الميمنية.
8- مسند الدارمي –المعروف بـ: سنن الدارمي-؛ للإمام عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي، تحقيق حسين سليم، دار المغني-الرياض، الأولى، 1421هـ.
9- مشكاة المصابيح؛ تأليف محمد بن عبدالله التبريزي، تحقيق محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي-بيروت، الطبعة الثانية، 1399هـ.
10- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com