سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔
رواه أبو داود وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔

فوائد
  1. دعا خیر کے معانی پر مشتمل مختصر مگر جامع الفاظ کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔ اس میں تکلف اور تعمق سے کام لینا مکروہ ہے۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے خلاف بھی ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔
  3. کوشش یہ ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، چاہے لمبی اور زیادہ الفاظ والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام دعائيں جامع دعاؤں کے ضمن میں آتی ہیں۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 605) (1482). مسند أحمد (42/ 76) (25151). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 542). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1003). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 15). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 349).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دعا کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com