اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔
- دعا خیر کے معانی پر مشتمل مختصر مگر جامع الفاظ کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔ اس میں تکلف اور تعمق سے کام لینا مکروہ ہے۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے خلاف بھی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔
- کوشش یہ ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، چاہے لمبی اور زیادہ الفاظ والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام دعائيں جامع دعاؤں کے ضمن میں آتی ہیں۔
سنن أبي داود (2/ 605) (1482). مسند أحمد (42/ 76) (25151). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 542). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1003). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 15). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 349).