عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: خَسَفَت الشمس على زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقام فَزِعًا، ويخشى أن تكون الساعة، حتى أتى المسجد، فقام، فصلى بأطول قيام وسجود، ما رأيته يفعله في صلاته قطُّ، ثم قال: إن هذه الآيات التي يُرْسِلُهَا الله عز وجل : لا تكون لموت أحد ولا لحياته، ولكن الله يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بها عباده، فإذا رأيتم منها شيئا فَافْزَعُوا إلى ذكر الله و دُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، تو نبی ﷺ گھبرا کر اٹھے، اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبے قیام اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ ﷺ کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ آپ ﷺ نے نماز کے بعد فرمایا: بے شک یہ نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو، تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور استغفار میں لگ جاؤ۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کے عہد میں جب (ایک بار) سورج کی روشنی غائب ہوگئی یا مدھم پڑ گئی، تو نبی ﷺ گھبرا کر اٹھے؛ اس لیے کہ آپ اپنے رب کی کامل معرفت کی وجہ سے، روئے زمین پر آباد اکثر لوگوں کی گم راہی اور سر کشی کے پیش نظر سخت خوف زدہ رہا کرتے تھے اور ڈرتے تھے کہ کہیں صور میں پھونک مارنے کی گھڑی نہ آجائے۔ چنانچہ آپ مسجد میں داخل ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز کسوف ادا فرمائی۔ توبہ اور انابت کے اظہار کے لیے نماز اس قدر لمبی پڑھی کہ اس سے پہلے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے تھے۔ پھر جب نبی مصطفیٰ ﷺ رب کی بارگاہ میں فریاد اور اس سے مناجات سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور انھیں وعظ و نصیحت کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان نشانیوں کو بندوں کی عبرت، یاد دہانی اور خوف دلانے کے لیے بھیجتا ہے؛ تاکہ وہ دعا و استغفار اور ذکر و نماز کی طرف سبقت کریں۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
الموسوعة الفقهية الكويتية، صادر عن: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الكويت، الطبعة: (من 1404 - 1427 هـ).
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إني أريد سَفَرًا، فَزَوِّدْنِي، فقال: «زَوَّدَكَ الله التقوى» قال: زِدْنِي قال: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» قال: زِدْنِي، قال: «ويَسَّرَ لك الخيَر حَيْثُمَا كنتَ».
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سفر پر جانےکا ارادہ رکھتا ہوں۔ مجھے کچھ زادِ راہ عنایت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تجھے تقویٰ کا زادِ راہ دے۔ اس شخص نے عرض کیا: کچھ مزید اضافہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اور وہ تیرے گناہ معاف کرے۔ وہ کہنے لگا: کچھ مزید اضافہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو جہاں بھی ہو اللہ تیرے لیے خیر کو آسان کر دے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَن غریب
تشریح
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ سے سفر پر جانے کی اجازت لینے اور زادہِ راہ مانگنے آیا۔ آپ ﷺ نے اس کے حق میں ایسی دعا فرمائی جو اپنے نفع کے اعتبار سے زاد راہ کی طرح تھی اور وہ یہ کہ احکام کی انجام دہی اور ممنوعات سے پرہیز اس کا زادِ راہ ہو۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے اضافہ کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے اس کے اضافے کی درخواست کے جواب میں اس کی طیبِ خاطر کے لیے فرمایا: اور وہ تمہارے گناہ معاف کرے۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے دوبارہ اضافہ کے درخواست کی تو نبی ﷺ نے ایسے خوبصورت انداز میں دعا کا اختتام فرمایا جو تمام قسم کی نیکیوں اور کامیابیوں کو جامع ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ ہر جگہ اور ہر وقت اللہ اس کے لیے دونوں جہانوں کی خیر کو آسان کر دے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، دار الكتب العلمية، بيروت.
سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
سنن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1412هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشرة 1407هـ.
الكلم الطيب/تقي الدين ابن تيمية -تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني-المكتب الإسلامي - بيروت - الطبعة: الثالثة - 1977م.
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوج کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ (مارے غصے کے) سرخ ہو گیا تھا اور اس کی رگیں پھول گئیں تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔ فرمایا: "اگر یہ شخص کہے: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرجیم“ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا"۔ چنانچہ لوگوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، تو اس نے کہا: کیا مجھے جنون لاحق ہے؟
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
دو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالی گلوج کر رہے تھے۔ ایک کی حالت تو یہ تھی کہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور گردن کی رگیں پھول چکی تھیں۔
یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر اس غصے والے شخص نے اسے کہہ لیا، تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ اسے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہہ لینا چاہیے۔
چنانچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھنے کے لئے کہا ہے۔
لیکن اس نے جواب دیا: کیا میں مجنوں ہوں؟ اسے لگتا تھا کہ اللہ کی پناہ وہی مانگتا ہے، جسے جنون لاحق ہو۔
فوائد
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کسی چیز کا سبب پایا جاتا تو اس تعلق سے رہنمائی اور نصیحت کرنے کا اہتمام کرتے۔
غصہ دلانے کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔
غصہ آنے پر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم۔ ارشاد باری تعالی ہے : "اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔"
گالی گلوج اور لعنت وملامت سے خبردار کرنا اور نفرت دلانا۔ کیوں کہ ان چیزوں سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
جو شخص نصیحت نہ سن سکے، اس تک نصیحت پہنچانی چاہیے، تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوسکے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غصہ سے خبردار کیا، کیوں کہ غصہ برائی اور انجام کی لاپرواہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ صرف اسی وقت آتا تھا، جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے۔ یہ قابل تعریف غصہ ہے۔
نووی اس حدیث کے الفاظ "کیا مجھے جنون لاحق ہے؟" کے بارے میں کہتے ہيں: ہو سکتا ہے کہ یہ بات کہنے والا شخص منافق تھا یا دیہات کا رہنے والا کوئی غیر شائستہ شخص۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 124) (3282).
صحيح مسلم (4/ 2015) (2610).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 110).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص50).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 270).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 78).
عن أبي أمامة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كَانَ إذا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قال: «الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنے صحابہ کو اقوال و افعال کے ذریعے سنت کی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ سے جو اذکار مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ اپنے سامنے موجود کھانے کے برتن اٹھاتے تو فرماتے: ”الحَمْدُ للهِ“ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر در حقیقت صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کا سزاوار نہیں۔
”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔
”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔
”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔
”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔
”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔
حوالہ
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي, الدمام, 1415ه.
تطريز رياض الصالحين، لفيصل الحريملي، نشر: دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م.
تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي، نشر: دار الهداية.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف ، ط 1410 هـ.
عن علي بن ربيعة، قال: شهدت علي بن أبي طالب رضي الله عنه أتي بدابة ليركبها، فلما وضع رجله في الركاب، قال: بسم الله، فلما استوى على ظهرها، قال: الحمد لله الذي سخر لنا هذا وما كنا له مُقْرِنين، وإنا إلى ربنا لمنقلبون، ثم قال: الحمد لله، ثلاث مرات، ثم قال: الله أكبر، ثلاث مرات، ثم قال: سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، ثم ضحك، فقيل: يا أمير المؤمنين، من أي شيء ضحكت؟ قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما فعلت ثم ضحك، فقلت: يا رسول الله، من أي شيء ضحكت؟ قال: «إن ربك تعالى يَعجب من عبده إذا قال: اغفر لي ذنوبي، يعلم أنه لا يغفر الذنوب غيري»
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو ’بِسْمِ اللَّهِ‘ کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہا، اور ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾ پڑھا ”تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، ہم تو اسے قابو میں کرنے کی قوت نہیں رکھتے تھے اور ہم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے“، پھر تین مرتبہ ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہا، پھر تین مرتبہ ’اللہُ اَکْبَر‘ کہا، پھر ’سُبحانَكَ إنِّي ظَلَمتُ نَفسي فاغفِر لي فإنَّهُ لا يغفِرُ الذُّنوبَ إلا أنتَ‘ کہا یعنی ”تیری ذات پاک ہے، میں نے ہی اپنے آپ پر ظلم کیا پس تو مجھے معاف کر دے، کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا“، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک بار دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسا کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
علی بن ربیعہ (جن کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے) بیان کرتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ آپ کے پاس آپ کی سواری لائی گئی تاکہ آپ اس پر سوار ہوں۔ لغت کے اعتبار سے ’الدابة‘ کا اطلاق ہر اس جانور پر ہوتا ہے جو زمین پر رینگے۔ بعد ازاں عرف عام میں اسے چوپایوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا۔ جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا: ’بِسْمِ اللَّهِ‘ یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ سوار ہوتا ہوں۔ پھر جب اچھی طرح سے اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا: ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی اس عظیم نعمت پر ساری تعریفین اللہ ہی کے لیے ہیں اور وہ نعمت یہ ہے کہ اس نے ایک نامانوس اوربدکنے والے جانور کو رام کر دیا اور اس پر سواری کے لیے اسے ہمارا فرماں بردار بنا دیا بایں طور کہ ہم اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ’الَّذِي سَخَّرَ‘ کے الفاظ کے ساتھ اس کی تصریح کی، یعنی اس سواری کو ہمارے قابو میں کر دیا جب کہ ہم میں اسے مسخر کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ’وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ‘ یعنی اپنے اوپر ہونے والی نعمت پر کی جانے والی مقید حمد کے بعد فرمایا۔ ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی ایسی حمد جو کسی شے کے ساتھ مقید نہیں۔ ’ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بار بار ایسا کہنے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت وجلال کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ بندہ اللہ کی ویسے قدردانی نہیں کرتا جیسا کہ حق ہے۔ اسے یہ حکم ہے کہ وہ حسبِ استطاعت فرماں برداری کرتا رہے۔ ’اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘ یہ تکرار بڑائی کے بیان میں مبالغہ کے لیے ہے۔ پھر ’سُبحانَكَ‘ کہا یعنی میں تیری مطلق پاکی بیان کرتا ہوں۔ ’إنِّي ظَلَمتُ نَفسي‘ یعنی تیرے حق کی ادائیگی نہ کر کے یا اسے اہمیت نہ دے کر اور اس میں غور نہ کر کے (میں نے اپنی جان پر ظلم کیا) کیونکہ انہیں اس نعمت عظمیٰ کی شکر گزاری میں کوتاہی دکھائی دی چاہے وہ غفلت ہی کی وجہ سے ہو۔ ’فاغفِر لي‘ یعنی میرے گناہوں کو پوشیدہ رکھ بایں طور کہ ان پر سزا دے کر مواخذہ نہ کرنا۔ ’فإنَّهُ لا يغفِرُ الذُّنوبَ إلا أنتَ‘ ان الفاظ میں اپنی کوتاہی کا اور اس بات کا اعتراف ہے کہ اللہ کی کرم نوازیاں بہت زیادہ ہیں۔ ’ثُمَّ ضَحِكَ‘ یعنی ابن ربیعہ نے کہا۔ 'الشمائل' کے ایک تصحیح شدہ نسخے میں ہے کہ میں نے پوچھا ’اے امیر المومنین! آپ کس وجہ سے مسکرائے ہیں؟‘ چونکہ بظاہر کوئی ایسی باعثِ تعجب بات نہیں تھی جس پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے اس کا سبب دریافت کیا اور سوال پر ندا کو مقدم کیا جیسا کہ مخاطبت میں ادب کا تقاضا ہے۔ ’قَالَ: رَأَيْتُ‘ یعنی میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے بھی سوار ہوتے ہوئے ان جگہوں پر ذکر کیا تھا۔ پھر آپﷺ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے، ’اپنے بندے سے‘ یہ اضافت عزت و تکریم کے لیے ہے۔ ’میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے یعنی بغیرغفلت کے وہ پوری طرح جانتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
حوالہ
سنن أبي داود-المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد-الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
مسند الإمام أحمد بن حنبل-المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي-الناشر: مؤسسة الرسالة-الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
سنن الترمذي- تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5) - الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر - الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, تأليف: محمد علي بن محمد البكري الصديقي, عناية: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, ط 4 عام 1425.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14 عام 1407 - 1987.
تطريز رياض الصالحين, تأليف: فيصل مبارك, دار العاصمة, ط1423 – 2002.
صحيح وضعيف سنن أبي داود- محمد ناصر الدين الألباني - مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية - من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية، 2002.
حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔"
رواه الترمذي والنسائي في الكبرى وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کسی کے سامنے آپ کا نام، کنیت یا وصف آئے اور آپ پر درود نہ بھیجے۔ فرمایا : پورا کا پورا بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں :
1- اس نے ایک ایسی چيز خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی، جس میں ذرا بھی گھاٹا نہیں ہے۔ اس میں نہ مال خرچ ہوتا ہے اور نہ محنت لگتی ہے۔
2- اس نے خود کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت سے محروم رکھا۔ اس نے آپ پر درود بھیجنے سے باز رہ کر ایک ایسے حق کی ادائيگی میں کنجوسی دکھائی، جو اس سلسلے میں وارد حکم کی تعمیل اور اجر و ثواب کے حصول کے لیے اسے ادا کرنا تھا۔
3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا ہمارے اوپر عائد آپ کے حقوق کی ادائيگی کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ کیوں کہ آپ نے ہمیں تعلیم دی، ہماری رہ نمائی فرمائی، ہمیں اللہ کی جانب بلایا، ہمارے پاس وحی اور ایک عظیم شریعت لے کر آئے۔ لہذا آپ اللہ کے بعد ہماری ہدایت کے سبب ہیں۔ چنانچہ آپ پر درود نہ بھیجنے والا خود اپنے نفس کے حق میں کنجوسی کرنے والا اور اپنے نبی کے ایک چھوٹے سے حق کی ادائيگی میں کنجوسی کرنے والا ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود نہ بھیجنا کنجوسی کی علامت ہے۔
ویسے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا تمام اوقات میں ایک بہترین نیکی کا کام ہے، لیکن آپ کا ذکر آنے پر اس کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
نووی کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجتے وقت درود و سلام دونوں بھیجے۔ کسی ایک پر اکتفا نہ کرے۔ نہ صرف (صلى الله عليه) کہے اور نہ صرف (عليه السلام)۔
ابو العالیہ اللہ تعالی کے قول : (إن الله وملائكته يصلون على النبي) کے بارے میں کہتے ہیں : لفظ صلاۃ جب اللہ کی جانب سے نبی کے حق میں استعمال ہو، تو اس کے معنی تعریف کرنے کے ہیں اور فرشتوں اور انسانوں کی جانب سے استعمال ہو، تو اس کے معنی دعا کرنے کے ہیں۔
حلیمی کہتے ہیں : اس طرح "اللهم صلّ على محمد" کے معنی ہوئے : اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا میں عظمت عطا فرما، آپ کے ذکر کو بلند کر کے، آپ کے دین کو غلبہ عطا کر کے اور آپ کی شریعت کو بقا مرحمت فرما کر۔ آخرت میں بھی عظمت عطا فرما، امت کے بارے میں آپ کی سفارش قبول فرما کر، بڑا اجر و ثواب مرحمت کر کے، مقام محمود کے ذریعے پہلے اور بعد کے تمام لوگوں پر آپ کی فضیلت ظاہر کر کے اور موجود مقرب ہستیوں پر آپ کو فوقیت دے کر۔
حوالہ
السنن الكبرى للنسائي (7/ 291) (8046).
سنن الترمذي (5/ 513) (3546).
مسند أحمد (3/ 257) (1736).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 486).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (2/ 404).
مشكاة المصابيح، لمحمد التبريزي (1/ 294).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 965).
سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہيں، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہحسن
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کھانا کھانے والے کو اللہ کی تعریف کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی توفیق اور مدد کے بغیر انسان کے پاس نہ غذا حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ کھانے کی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دعا کا اہتمام کرنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ اللہ اس کے پچھلے صغیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔
فوائد
کھانے کے آخر میں اللہ کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کا بیان کہ اس نے بندوں کو روزی دی، روزی کے اسباب مہیا کیے اور اس میں گناہوں کی بخشش کا سامان بھی پیدا کر دیا۔
بندوں کے سارے امور کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی طاقت و قوت کے بل پر کچھ نہیں ہوتا۔ بندے کو اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 452) (3458).
سنن أبي داود (6/ 138) (4023).
سنن ابن ماجه (4/ 417) (3285).
مسند أحمد (24/ 394) (15632).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 602).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي (2/ 54).
تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي (28/ 366).
عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أخذ مَضْجَعَهُ نَفَثَ في يديه، وقرأ بالمُعَوِّذَاتِ، ومسح بهما جسده.
وفي رواية: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أَوَى إلى فِرَاشِهِ كل ليلة جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثم نَفَثَ فيهما فقرأ فيهما: «قل هو الله أحد، وقل أعوذ برب الفلق، وقل أعوذ برب الناس» ثم مسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه، وما أَقْبَلَ من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے اور معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیر لیتے۔
ایک دیگر روایت میں ہے کہ ہر رات نبی ﷺ جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے اور پھر دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ہو سکتا جسم پر پھیر لیتے۔ آپ ﷺ اپنے سر، چہرے اور جسم کے سامنے کے حصے سے (ہاتھ پھیرنے کی) ابتداء کرتے اور تین دفعہ ایسا کرتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
دنیا اور آخرت میں نبی ﷺ کی زوجہ اُم المومنین (عائشہ ) رضی اللہ عنہا ہمارے لیے اس نبوی سنت مبارکہ کو بیان کر رہی ہیں کہ ہر رات رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو باہم ملا کر ان میں بلا تھوک ہلکی سی پھونک مارتے اور ان میں ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ پڑھنے والا پہلے پھونک مار لے اور پھر پڑھے یا پھر پہلے پڑھ لے اور پھر پھونک مارے کیوں کہ حدیث (ان سورتوں کو) ترتیب کے ساتھ یا یکے بعد دیگرے پڑھنے پردلالت نہیں کرتی۔ پھر آپ ﷺ جہاں تک ہو سکتا اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر پھیر لیتے اور سر، چہرے اور سامنے کے حصے سے آغاز کرتے۔ آپ ﷺ تین دفعہ پڑھتے، تین دفعہ پھونکتے اور تین دفعہ (جسم پر ہاتھ) پھیرتے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com