سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے, اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے رمضان آئے اور نکل جائے اور وہ اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے اور اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور دونوں اسے جنت میں داخل نہ کر سکیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلاَهُ الجَنَّةَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: : ”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے, اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے رمضان آئے اور نکل جائے اور وہ اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے اور اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور دونوں اسے جنت میں داخل نہ کر سکیں۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تین قسم کے لوگوں کے حق میں بد دعا فرمائی ہے کہ وہ اتنے ذلیل ہوں اور خسارے میں پڑیں کہ ان کی ناک خاک آلود ہو جائے: پہلی قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آئے اور وہ 'صلی اللہ علیہ و سلم' کہہ کر یا اس طرح کے دوسرے صیغے استعمال کر کے آپ پر درود نہ بھیجیں۔ دوسری قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور گزر بھی گیا، لیکن وہ نیکی کے کام کر کے اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔ تیسری قسم : ایسا شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے ان کو دخول جنت کا سبب نہ بنا سکا۔

فوائد
  1. سندھی کہتے ہيں: خلاصہ کلام یہ کہ ان میں سے ہر شخص کو ایسے مواقع ہاتھ آئے کہ اگر کوتاہی سے کام نہ لیتا تو بڑی خیر حاصل کر سکتا تھا۔ ان میں سے ہر شخص کو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
  2. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر، جب جب آپ کا نام آئے، درود بھیجنے کی ترغیب۔
  3. ماہ رمضان میں عبادت کے لیے کمر کس لینے اور خوب عبادت کرنے کی ترغیب۔
  4. والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کرنے کی ترغیب۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں۔
حوالہ

سنن الترمذي (5/ 513) (3545). مسند أحمد (12/ 421) (7451). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 411). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 963). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 744). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 485). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص767).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
پیش آمدہ مصائب کے اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com