اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تین قسم کے لوگوں کے حق میں بد دعا فرمائی ہے کہ وہ اتنے ذلیل ہوں اور خسارے میں پڑیں کہ ان کی ناک خاک آلود ہو جائے: پہلی قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آئے اور وہ 'صلی اللہ علیہ و سلم' کہہ کر یا اس طرح کے دوسرے صیغے استعمال کر کے آپ پر درود نہ بھیجیں۔ دوسری قسم : ایسے لوگ جن کے سامنے رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور گزر بھی گیا، لیکن وہ نیکی کے کام کر کے اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے۔ تیسری قسم : ایسا شخص جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور ان کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے ان کو دخول جنت کا سبب نہ بنا سکا۔
- سندھی کہتے ہيں: خلاصہ کلام یہ کہ ان میں سے ہر شخص کو ایسے مواقع ہاتھ آئے کہ اگر کوتاہی سے کام نہ لیتا تو بڑی خیر حاصل کر سکتا تھا۔ ان میں سے ہر شخص کو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر، جب جب آپ کا نام آئے، درود بھیجنے کی ترغیب۔
- ماہ رمضان میں عبادت کے لیے کمر کس لینے اور خوب عبادت کرنے کی ترغیب۔
- والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کرنے کی ترغیب۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں۔
سنن الترمذي (5/ 513) (3545). مسند أحمد (12/ 421) (7451). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 411). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 963). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 744). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 485). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص767).