نبی ﷺ اپنے صحابہ کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب ان میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اپنی دائیں کروٹ پر سوئے اور پھر یہ دعا کہے ”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ“ یعنی اے آسمانوں اور زمین کے رب، ان کو پیدا کرنے والے اور ان کے مالک اور اس میں رہنے والوں کو پالنے والے اور اے بہت بڑے عرش کے رب، اس کے خالق اور مالک، تمام لوگوں کے خالق، مالک اور ان کے پالنہار اور ہر چیز کے رب۔ ”فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی“ یعنی دانے اور گھٹلی کو پھاڑ کر ان سے کھیتی اور کھجور نکالنے والی ذات۔ دانے اور گھٹلی کو خصوصیت کے ساتھ یا تو ان کی فضیلت کی وجہ سے خاص کیا ہوگا یا عرب ممالک میں اس کے زیادہ پائے جانے کی وجہ سے کیا۔ ”وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ“ یعنی اے وہ ذات جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر، انجیل عیسیٰ علیہ السلام پر اور قرآنِ کریم محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ ”أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَيْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ“ یعنی مخلوقات میں سے ہر چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اس لیے کہ یہ سب تیری بادشاہت، قبضے اور تصرف میں ہے۔ ”اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَکَ شَيْئٌ“ آپ ﷺ نے ان چار اسماء کی تفسیر وضاحت کے ساتھ کی ہے۔ ”الأول“: یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز حادث اور عدم سے وجود میں آئی ہے، انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ہر طرح کی نعمت میں اپنے رب کے فضل کو تسلیم کرے، اس لیے کہ سبب اور مسبب دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ ”الآخر“: یہ اسم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ باقی اور اس کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ اور یہ کہ وہ بے نیاز ہے اس کی طرف تمام مخلوقات اپنی عبادت، رغبت، رہبت اور تمام مطالبات لے کر متوجہ ہوتی ہیں۔ ”الظاهر“: یہ اسم اللہ تعالیٰ کی صفات کی عظمت اور اس کی ذات و صفات کی عظمت کے سامنے ہر چیز کے ختم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح یہ نام تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حقیقی بلندی پر دلالت کرتی ہے۔ ”الباطن“: یہ اسم تمام رازوں، پوشیدہ و مخفی چیزوں اور اشیاء کی باریکیوں پر اللہ تعالیٰ کے مطّلع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کے قُرب اور نزدیکی پر بھی دلالت کرتا ہے، یہ ظاہر اور باطن کے منافی نہیں۔ اس لیے کہ تمام صفات میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں، وہ اپنے قُرب میں بلند اور اپنی بلندی میں قریب ہے۔ ”اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے قرض کی ادائیگی اور فقر سے بے نیازی کا سوال کیا۔
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة بن محمد بن هبيرة الذهلي الشيباني، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، الناشر: دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ. مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م. المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، لأحمد بن محمد بن علي الفيومي، الناشر: المكتبة العلمية – بيروت. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي لمحمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. تفسير أسماء الله الحسنى، لعبد الرحمن بن ناصر السعدي، المحقق: عبيد بن علي العبيد، الناشر: الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، الطبعة: العدد 112 - السنة 33 -1421هـ.