سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔

16 احادیث

ہم نے مر ظہران کے مقام پ رایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: «أَنْفَجْنَا أَرْنَباً بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، وَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ إلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ».
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مر ظہران کے مقام پر ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے ذبح کیا اور اس کے پٹھے اور رانوں کا گوشت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں تھے۔ شاید انھوں نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا، جو مر الظہران کے نام سے معروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ پر فتح مکہ کے سال پڑاؤ کیا تھا۔ انھوں نے ایک خرگوش کو بدکایا تو وہ بھاگ اٹھا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو تھک کر رک گئے، لیکن میں نے اسے جا لیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت عین جوانی میں تھے۔ اسے پکڑ کر اپنے سوتیلے والد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس میں سے کچھ گوشت یعنی رانیں اور پٹھے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ "ورک" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پٹھا، ٹانگ کے جوڑ سے ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور شاید اس میں سے تناول بھی فرمایا۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «دخلت أنا وخالد بن الوليد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت ميمونة، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إلَيْهِ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ، فقال بعض النِّسْوَةِ في بيت ميمونة: أخبروا رسول الله بما يريد أن يأكل، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده، فقلت: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قال خالد: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتادو، جسے آپ کھانا چاہتے ہیں۔ (لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! یہ گوہ ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام حفید بنت حارث ، جو ھزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ہیں، اپنی بہن میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ ہدایا وتحائف بھی تھے۔ ہدایا کے ضمن میں ایک گوہ بھی تھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجوں نے اسے دوپہر کے کہانے میں پیش کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن کے لڑکے تھے؛ اس طرح وہ ان کی خالہ تھیں۔ عبد اللہ بن عباس اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہ خالہ تھیں۔ جب دسترخوان بچھایا گیا، تو نبی ﷺ نے گوشت لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا؛ تاکہ گوشت تناول فرمائیں۔ اتنے میں گھر میں موجود کسی عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتا دو، جو آپ کھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ! یہ گوہ کا گوشت ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور نہیں کھایا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’نہیں! لیکن یہ میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا؛ اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے‘۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر، بدمشق الطبعة الأولى1381هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔

عن زَهْدَم بن مُضَرِّبٍ الْجَرْمي قالَ: «كنا عند أبي موسى الأشعري، فدعا بمائدة وعليها لحم دجاج، فدخل رجل من بني تَيْمِ الله أَحْمَرُ، شَبِيهٌ بِالمَوَالِي، فقال له: هَلُمَّ، فَتَلَكَّأَ، فقال له: هَلُمَّ، فإني رأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل منه».
زہدم بن مضرب جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھےکہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ اس نے پس و پیش کا اظہار کیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر کہا کہ تم بھی شریک ہوجاؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

زھدم بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ہم راہ کچھ لوگ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انھوں نے کھانا منگوایا اور جب لوگوں کے روبرو کھانا رکھا گیا، تو دیکھا گیا کہ اس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں -یعنی عجمی لوگ- جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس کو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ کھانے پر آجاؤ۔ اس شخص نے پس وپیش کرتے ہوئے کھانے میں شریک ہونے سے انکار کردیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔

حوالہ

-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. -عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. -تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔

عن عَبْد اللهِ بن أبي أوفى رضي الله عنهما قال: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، نَأْكُلُ الْجَرَادَ».
عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اصحاب رسول (ﷺ) کو سات غزوات میں کھانے کی کمی کی صورت میں ٹڈیوں کا رزق فراہم کیا جیسے ان کو عنبر فراہم کی جو کہ سمندر سے نکلی تھی جس کو انھوں نے دوسرے غزوات میں بھی کھایا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، دار طوق النجاة، ط 1422هـ. - صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي. - خلاصة الكلام، فيصل آل مبارك ط. الثانية 1412هـ. - الإفهام لابن باز، ط مؤسسة الجريسي تحقيق سعيد القحطاني. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، ط. دار الميمان، 1426هـ. - تأسيس الأحكام للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور کھایا۔

عن أَسْمَاء بِنْت أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قالت: «نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ». وَفِي رِوَايَةٍ «وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ».
اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور اُس کو کھایا“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”ہم اس وقت مدینہ میں تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بتا رہی ہیں کہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز ہے۔ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں انہیں گدھوں اور خچروں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اس لیے ان کا کھانا ممنوع ہے۔ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ) [ النحل :8]۔ ترجمہ:”گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا تاکہ تم ان کی سواری لو اور وه باعثِ زینت بھی ہیں۔ اور بھی وه ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں“۔

حوالہ

1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. 2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. 3- خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م. 4- الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. 5- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ. 6- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، دار الميمان، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. 7- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، الطبعة: 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع کر دیا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما : (أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لحوم الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وأَذِنَ في لحوم الخيل). ولمسلم وحده قال: (أكلنا زمن خيبر الخيل وحُمُرَ الوَحْشِ، ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الحمار الأَهْلِيِّ). عن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنه قال: (أصابتنا مجاعة ليالي خيبر، فلما كان يوم خيبر: وقعنا في الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فانْتَحَرْنَاهَا، فلما غَلَتِ بها القُدُورُ: نادى مُنَادِي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أَكْفِئُوا القُدُورَ، وربما قال: ولا تأكلوا من لحوم الحُمُرِ شيئا). عن أبي ثعلبة رضي الله عنه قال: (حَرَّمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم لحوم الحُمُر الأَهْلِيَّةِ).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع کر دیا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی۔ مسلم کی روایت کے مطابق :خیبر کے موقعے پر ہم نے گھوڑے اور جنگلی گدھے کا گوشت کھایا، جب کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کےشکار ہو گئے۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا، تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے، جب ہماری ہانڈیوں میں گوشت ابلنے لگا، تو اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ۔ ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کا گوشت حرام قرار دیا ہے
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما یہ بتا رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ جب کہ گھوڑے اور جنگلی گدھے کے گوشت کو حلال قرار دیتے ہوئے کھانے کی اجازت دی ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ غزوۂ خیبر کےموقع پر ان کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ جب فتح حاصل ہو گئی، تو انھوں نے حاصل ہونے والے گدھوں کو ذبح کیا اور ان کا گوشت لے کر پکایا۔ جب پکا چکے، تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں ہانڈیاں الٹ دینے اور کھانے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ

1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. 2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. 3- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426 هـ. 4- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے"۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَمْرِ، وَالمَيْتَةِ وَالخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ المَيْتَةِ، فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لاَ، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ اليَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو، فتح مکہ کے سال، جب کہ آپ ﷺ مکہ میں تھے، فرماتے ہوئے سنا : ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے"۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیوں کہ اس سے کشتیوں كو پینٹ کیا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "نہیں, یہ بھی حرام ہے"۔ پھر رسول ﷺ نے اس وقت فرمایا : "اللہ یہود کو تباہ کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو ان لوگوں نے اس کو پگھلا کر اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فتح مکہ کے سال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سرزمین مکہ میں فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا مردار کی چربیوں کو بیچنا حلال ہے؟ کیوں کہ اسے کشتیوں پر مَلا جاتا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: حلال نہيں ہے۔ مردار کی چربی کو بیچنا بھی حرام ہے۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ یہود کو تباہ اور ان پر لعنت کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو وہ لوگ اس کو پگھلا کر اس کا تیل بیچنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے۔

فوائد
  1. نووی کہتے ہيں : مردار، شراب اور سور، ان میں سے ہر ایک کی خرید و فروخت حرام ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
  2. قاضی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چيز کا کھانا اور اس سے استفادہ جائز نہيں ہے، اسے بیچنا اور اس کی قیمت کھانا بھی جائز نہيں ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں ذکر کئے گئے چربی کی مثال سے واضح ہے۔
  3. ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کا سیاق اکثر علما کی اس توضیح کو تقویت دیتا ہے کہ آپ کے قول "هو حرام" سے مراد خرید و فروخت ہے، انتفاع نہيں۔
  4. کسی حرام کو حلال کرنے کے لیے اپنایا گیا ہر حیلہ باطل ہے۔
  5. نووی کہتے ہیں: علما نے کہا ہے کہ مردار کو بیچنے کی حرمت کے عموم میں یہ داخل ہے کہ جب جنگ کے میدان میں کسی کافر کا قتل ہو جائے، لاش مسلمانوں کے قبضے میں ہو اور کفار اسے خریدنا یا اس کا کوئی عوض دینا چاہیں، تو اسے بیچنا یا اس کا عوض لینا حرام ہوگا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نوفل بن عبداللہ مخزومی کو جنگ خندق کے موقعے پر مسلمانوں نے قتل کر دیا اور کافروں نے اس کی لاش حاصل کرنے کے لیے دس ہزار درہم دینے کی پیش کش کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے رقم نہيں لی اور اس کے بغیر ہی لاش ان کے حوالے کر دی۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 84) (2236). صحيح مسلم (3/ 1207) (1581). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، (ص97). فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى- اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (22/ 506). الشرح الممتع على زاد المستقنع، لابن عثيمين (1/ 71). كشف اللثام شرح عمدة الأحكام، لمحمد السفاريني الحنبلي (4/ 557). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص479).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ! ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔

عن أبي عبد الله جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمَّر علينا أبا عبيدة رضي الله عنه نتلقى عِيرًا لقريش، وزودنا جِرَابًا من تمر لم يجد لنا غيره، فكان أبو عبيدة يعطينا تمرة تمرة، فقيل: كيف كنتم تصنعون بها؟ قال: نمَصها كما يمص الصبي ثم نشرب عليها من الماء، فتكفينا يومنا إلى الليل، وكنا نضرب بعصينا الْخَبَطَ ثم نبله بالماء فنأكله. قال: وانطلقنا على ساحل البحر، فرفع لنا على ساحل البحر كهيئة الكثيب الضخم، فأتيناه فإذا هي دابة تدعى الْعَنْبَرَ، فقال أبو عبيدة: ميتة، ثم قال: لا، بل نحن رسل رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله وقد اضطررتم فكلوا، فأقمنا عليه شهرًا، ونحن ثلاثمئة حتى سَمِنَّا، ولقد رأيتنا نغترف من وَقْبِ عينه بالْقِلاَلِ الدهن ونقطع منه الْفِدَرَ كالثور أو كقدر الثور، ولقد أخذ منا أبو عبيدة ثلاثة عشر رجلاً فأقعدهم في وقب عينه وأخذ ضلعًا من أضلاعه فأقامها ثم رحل أعظم بعير معنا فمر من تحتها وتزودنا من لحمه وَشَائِقَ، فلما قدمنا المدينة أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له، فقال: «هو رزق أخرجه الله لكم فهل معكم من لحمه شيء فتطعمونا؟» فأرسلنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منه فأكله.
ابو عبد الله جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ“ ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا۔ اس کا امیر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، تاکہ قریش کے اس قافلہ کو پکڑلیں جو اناج اور گیہوں لیے جارہا تھا، آپ ﷺ نے ان کو چمڑے کا ایک برتن دیا جس میں کھجوریں تھیں، ان کا امیر توشہ کم ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو ایک کھجور دیتا، وہ اسے چوستے تھے اور اس پر پانی پیتے تھے، وہ اپنی لاٹھیوں سے پتّے جھاڑتے جنہیں اونٹ کھاتے ہیں، پھر ان پتّوں کو پانی میں بھگوتے، جب ان کی سختی چلی جاتی تو کھاتے تھے، جب وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو انہوں نے ریت کے ٹیلے کے برابر کوئی چیز دیکھی، وہ بڑی مچھلی تھی، اسے عنبر کہتے تھے، ان کے امیر ابو عبیدہ نے ان کو وہ کھانے سے منع کیا، اس لیے کہ وہ مُردار ہے اور مُردار قرآن کی صراحت سے حرام ہے، پھر ان کا اجتہاد بدل گیا اور اس کو کھانے کی اجازت دی، اس لیے کہ ضرورت کے موقع پر مُردار کھانا بھی جائز ہے، خاص کر جب اللہ کی اطاعت والے سفر میں ہوں، انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ سمندری مُردار حلال ہے۔ پھر انہوں نے مجبوری کو دلیل بنا کر اسے کھایا اور اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ مدینے آئے اور آپ ﷺ کو خبر دیا، آپ ﷺ نے انہیں اپنے فعل پر قائم رکھا اور آپ ﷺ نے بھی اس سے کھایا۔

حوالہ

المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. رياض الصالحين، النووي، تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل -الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت-الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, تأليف: محمد علي بن محمد البكري الصديقي, عناية: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, ط 4 عام 1425ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
16 میں سے 8
16 احادیث
  1. ہم نے مر ظہران کے مقام پ رایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔
  2. اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔
  3. ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔
  4. ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔
  5. ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور کھایا۔
  6. رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع کر دیا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی۔
  7. ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے"۔
  8. وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ! ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
  9. تمہارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔
  10. زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے۔
  11. رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی۔
  12. جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کےلیے سو نیکیاں ہیں۔ دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔
  13. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اور ناخن (سے شکار کرنے والے) پرندے (کا گوشت کھانے) سے منع فرمایا ہے۔
  14. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جلالہ یعنی گندگی کھانے والے اونٹ پر سوار ہونے اور اس کا دودھ پینے سے منع کیا ہے
  15. عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر، گھی اور سانڈے ہدیے کے طور پر بھیجے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم- نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور سانڈہ کو کراہت کی وجہ سے چھوڑ دیا۔
  16. کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس پر اللہ کا نام لو اور کھاو"

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com