سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «دخلت أنا وخالد بن الوليد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت ميمونة، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إلَيْهِ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ، فقال بعض النِّسْوَةِ في بيت ميمونة: أخبروا رسول الله بما يريد أن يأكل، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده، فقلت: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قال خالد: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتادو، جسے آپ کھانا چاہتے ہیں۔ (لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! یہ گوہ ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام حفید بنت حارث ، جو ھزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ہیں، اپنی بہن میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ ہدایا وتحائف بھی تھے۔ ہدایا کے ضمن میں ایک گوہ بھی تھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجوں نے اسے دوپہر کے کہانے میں پیش کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن کے لڑکے تھے؛ اس طرح وہ ان کی خالہ تھیں۔ عبد اللہ بن عباس اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہ خالہ تھیں۔ جب دسترخوان بچھایا گیا، تو نبی ﷺ نے گوشت لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا؛ تاکہ گوشت تناول فرمائیں۔ اتنے میں گھر میں موجود کسی عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتا دو، جو آپ کھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ! یہ گوہ کا گوشت ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور نہیں کھایا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’نہیں! لیکن یہ میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا؛ اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے‘۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر، بدمشق الطبعة الأولى1381هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com