سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔

عن زَهْدَم بن مُضَرِّبٍ الْجَرْمي قالَ: «كنا عند أبي موسى الأشعري، فدعا بمائدة وعليها لحم دجاج، فدخل رجل من بني تَيْمِ الله أَحْمَرُ، شَبِيهٌ بِالمَوَالِي، فقال له: هَلُمَّ، فَتَلَكَّأَ، فقال له: هَلُمَّ، فإني رأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل منه».
زہدم بن مضرب جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھےکہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ اس نے پس و پیش کا اظہار کیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر کہا کہ تم بھی شریک ہوجاؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

زھدم بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ہم راہ کچھ لوگ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انھوں نے کھانا منگوایا اور جب لوگوں کے روبرو کھانا رکھا گیا، تو دیکھا گیا کہ اس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں -یعنی عجمی لوگ- جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس کو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ کھانے پر آجاؤ۔ اس شخص نے پس وپیش کرتے ہوئے کھانے میں شریک ہونے سے انکار کردیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔

حوالہ

-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. -عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. -تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com