سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کےلیے سو نیکیاں ہیں۔ دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قتل وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فله كذا وكذا حسنة، ومن قتلها في الضَّرْبَةِ الثانية فله كذا وكذا حسنة دون الأولى، وإن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة». وفي رواية: «من قتل وَزَغًا في أول ضربة كتب له مائة حسنة، وفي الثانية دون ذلك، وفي الثالثة دون ذلك».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں؛ مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا, تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا, اس کےلیے سو نیکیاں ہیں، دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اس سے کچھ کم نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جس نے اسے تیسری ضرب میں مارا، اسے اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کے مارنے میں حکمت یہ ہے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی، اور یہ کہ یہ زہریلی اور نقصان پہنچانے والی ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى1430ه - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com