سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

لباس اور زیب و زینت

11 احادیث

عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رضي الله عنهم ، شَكَوَا الْقَمْلَ إلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ وَرَأَيْته عَلَيْهِمَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انھیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی اور میں نے انھیں ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

دینِ اسلام کی فراہم کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایسی علت کی بنا پر جس کی وجہ سے رخصت (چھوٹ) ضروری ہو جائے یہ حرام اشیاء کی بھی رخصت دے دیتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ریشم کے مردوں پر حرام ہونے کے باوجود زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی رخصت دی کیونکہ ریشم جوؤں کو دور کرتا ہے اس لیے کہ قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ایسے ہے کہ اس میں جوؤں کا توڑ اور خارش کا علاج ہے۔ یہ رخصت ہر اُس شخص کو شامل ہے، جس کی حالت ان صحابہ جیسی ہو۔

حوالہ

صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق، مكتبة الصحابة، الشارقة- الطبعة العاشرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام، للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

(دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة". وفي رواية: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له». وفي رواية للبخاري: «مَنْ لا خَلَاقَ له في الآخرةِ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم کا لباس مت پہنو، جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ ایک روایت مین ہے: (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى، 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔

عَن عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ، وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ».
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بائيں ہاتھ میں ریشم اور دائيں ہاتھ میں سونا لیا، انھیں لے کو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا : "یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔"
رواه أبو داود والنسائي وابن ماجهدرجہصحيح
تشریح

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بائيں ہاتھ میں ریشم یا ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا اور دائيں ہاتھ میں سونا کا زیور وغیرہ لیا اور فرمایا : بلاشبہ ریشم اور سونا پہننا مردوں پر حرام ہے۔ البتہ عورتوں کے لیے حلال ہے۔

فوائد
  1. سندھی کہتے ہیں: (حرام ہے) کا مطلب یہ ہے کہ پہننے کے طور پر ان دونوں چيزوں کا استعمال کیا جائے۔ ورنہ ان کا لین دین کرنا، خرچ کرنا اور خریدنا اور بیچنا مرد اور عورت دونوں کے لیے حلال ہے۔ سونے کا برتن بناکر رکھنا اور اس کا استعمال کرنا مرد اور عورت دونوں کے لیے حرام ہے۔
  2. اسلامی شریعت نے عورتوں کے حق میں وسعت رکھی ہے کہ ان کو زینت وغیرہ کی حاجت رہتی ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (6/ 165) (4057). سنن النسائي (8/ 160) (5144). سنن ابن ماجه (4/ 594) (3595). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 613). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 99).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يَتَزَعْفَرَ الرجلُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد اپنے جسم یا کپڑوں پر زعفران ملے۔ یہ عورتوں کے لگانے کی خوشبو تھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی عورتوں سے مشابہت روکنے کے لیے اس سے منع فرما دیا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى، 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى سعيد الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى، 1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان الصديقي، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لِبْسَةَ المرأة، والمرأة تلبس لِبْسَةَ الرجل.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
رواه النسائي في الكبرى وابن ماجه بمعناه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مرد کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص لباسوں کو زیب تن کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ مشابہت چاہے کپڑے کی ہیئت میں ہو، رنگ میں ہو، کیفیت میں ہو یا پہننے اور زینت اختیار کرنے وغیرہ کے طریقے میں ہو۔ اسی طرح آپ نے ہر ایسی عورت کے حق میں اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے جو مردوں کے ساتھ خاص لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہ ہے۔

فوائد
  1. شوکانی کہتے ہيں: عورت کے لیے مرد کی اور مرد کے لیے عورت کی مشابہت حرام ہے۔ کیوں کہ لعنت کسی حرام کام پر ہی کی جاتی ہے۔
  2. ابن عثیمین کہتے ہيں: جو کپڑے مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہوں، جیسے وہ ٹی شرٹ جنھیں مرد اور عورت دونوں پہنتے ہيں، تو انھیں پہننے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ یعنی انھیں مرد اور عورت دونوں پہن سکتے ہيں۔ کیوں کہ یہ مشترک ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (6/ 195) (4098). السنن الكبرى للنسائي (8/ 297) (9209). سنن ابن ماجه (3/ 95) (1903). مسند أحمد (14/ 61) (8309). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1122). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 337). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 150). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 370).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيًّا قد حُلِق بعض شعر رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: «احلقوه كله، أو اتركوه كله».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ بنا مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. صحيح الجامع الصغير وزيادته، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا انقطع شِسْعُ نَعْل أحدكم، فلا يَمْشِ في الأخرى حتى يُصلِحها».
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے مسلمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ جب اُس کی جوتی کا ایک تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک وہ اس کو درست نہ کر لو اکیلی دوسری جوتی میں نہ چلے۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ ٹوٹے تسمے کو درست کرے یا پھر دوسری جوتی کو بھی اتار کر ننگے پاؤں چلے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي،دارابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، يحيى بن شرف النووي -دار إحياء التراث العربي – بيروت الطبعة: الثانية، 1392ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا۔

عن جابر رضي الله عنه قال: أُتِيَ بأبي قُحَافَة والد أبي بكر الصديق رضي الله عنهما ، يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كَالثَّغَامَةِ بياضًا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَيِّرُوا هذا واجْتَنِبوا السَّواد».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس (ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں) کی طرح سفید تھے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس کی طرح سفید ہوگیے تھے۔ ثغامہ ایک قسم کا سفید رنگ کا گھاس ہے۔ جب آپ ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا، تو فرمایا:”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ آپ ﷺ نے ان کے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کو کالا کرنے سے بچو، اس لیے کہ بالوں کو کالا کرنا انسان کو دوبارہ جوان بنانا ہے۔ یہ تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی فطرت اور اس کی سنت کے منافی ہے۔ جہاں تک باقی رنگوں کا تعلق ہے جیسے لال اور نیلا رنگ یا مہندی اور وسمہ ملے ہوئے رنگ، تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کالےکے علاوہ ایسا رنگ ہو جو کالے اور سُرخ کے درمیان ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ممانعت صرف خالص کالے رنگ کی ہے۔ صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور وسمہ لگایا کرتے تھے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ. فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
11 میں سے 8
11 احادیث
  1. عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی۔
  2. (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔
  3. یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔
  4. نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا۔
  5. اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
  6. یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو۔
  7. جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔
  8. اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا۔
  9. سفید بال نہ اکھاڑو کیوں کہ وہ قیامت کے دن مسلمان کا نور ہوں گے۔
  10. نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے
  11. ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com