نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: لعن النبي صلى الله عليه وسلم الوَاصِلَةَ والمُسْتَوْصِلَةَ، والوَاشِمَةَ والمُسْتَوشِمَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے بال کا جوڑنا حرام ہے ایسے ہی زینت و خوبصورتی کے لیے گودنا گدوانا حرام ہے اور یہ سارے اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں؛ کیوں کہ اس میں دھوکہ اور یہود کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، نیز گودنے میں اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ (یہودی) سب سے ہلے جوڑا لگانے والے ہیں۔ اسی بنا پر ان امور کے ارتکاب کرنے والے یعنی فاعل اور مفعول ( جوڑنے والی اور جوڑوانے والی) دونوں لعنت میں شامل ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 167) (5947).
صحيح مسلم (3/ 1677) (2124).
توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 373).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 157).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (7/ 354).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com