عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رضي الله عنهم ، شَكَوَا الْقَمْلَ إلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ وَرَأَيْته عَلَيْهِمَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انھیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی اور میں نے انھیں ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
دینِ اسلام کی فراہم کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایسی علت کی بنا پر جس کی وجہ سے رخصت (چھوٹ) ضروری ہو جائے یہ حرام اشیاء کی بھی رخصت دے دیتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ریشم کے مردوں پر حرام ہونے کے باوجود زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی رخصت دی کیونکہ ریشم جوؤں کو دور کرتا ہے اس لیے کہ قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ایسے ہے کہ اس میں جوؤں کا توڑ اور خارش کا علاج ہے۔ یہ رخصت ہر اُس شخص کو شامل ہے، جس کی حالت ان صحابہ جیسی ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق، مكتبة الصحابة، الشارقة- الطبعة العاشرة، 1426هـ.
تأسيس الأحكام، للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com