عن عَبْدُ الله بْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنه قال: «استَفْتَى سعد بن عُبَادَةَ رسول الله في نَذْرٍ كان على أمِّه، تُوُفِّيَتْ قبل أَنْ تقضيَهُ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فاقْضِهِ عنها».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
سعد رضی اللہ عنہ کی ماں وفات پا گئیں اور اپنے ذمہ واجب ایک نذر کو پورا نہ کر سکیں۔ ان کے بیٹے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اپنی والدہ کی طرف سے اس نذر کو پوری کرنے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ: اپنی والدہ کی طرف سے اسے پوری کرو۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نذر ومنت ماننے سے منع فرمایا ہے۔ نذر ومنت ماننا یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر ایسی کوئی چيز واجب کرلے، جسے شارع نے اس پر واجب نہ کیا ہو۔ آپ نے آگے فرمایا کہ منت کسی چيز کو نہ آگے کرتی ہے، نہ پیچھے۔ اس کے ذریعے تو بس بخیل آدمی سے، جو بس وہی کام کرتا ہو، جو اس پر واجب ہو، خیر نکالی جاتی ہے۔ منت کوئی ایسی چيز نہيں لاتی، جو تقدیر میں نہ لکھی ہو۔
فوائد
منت ماننا مشروع نہيں ہے۔ لیکن جب کوئی شخص منت مان لے اور وہ گناہ پر مشتمل نہ ہو، تو اسے پورا کرنا واجب ہوگا۔
منت ماننے سے ممانعت کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ منت کوئی خیر نہيں لاتی۔ یعنی اللہ کے کسی فیصلے کو بدلتی نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ منت ماننے والا یہ نہ سمجھے کہ اس کی مراد منت کی وجہ سے ہی پوری ہوئی بلکہ اللہ تعالی اس سے بے نیاز ہے۔
قرطبی کہتے ہيں : اس ممانعت کا محل یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص کہے : اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی، تو میں اتنا صدقہ کروں گا۔ کراہت کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے مذکورہ عبادت کی انجام دہی کو مذکورہ غرض کے پورا ہونے پر موقوف قرار دے دیا، تو واضح ہو گیا کہ اس عبادت کی انجام دہی میں اللہ کی خالص رضا جوئی کارفرما نہيں ہوگی، بلکہ معاوضہ کی روش اپنائی جائے گی۔ یہ بات اس سے اور واضح ہو جاتی ہے کہ اگر اللہ نے اس کے مریض کو شفا نہيں دی، تو وہ شفا کے ساتھ معلق صدقہ نہيں کرے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہی حالت بخیل کی ہوا کرتی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنا مال کسی ایسی چیز کے عوض میں ہی نکالتا ہے، جو جلد حاصل ہو اوراکثر یہی ہوتا ہے کہ عوض نکالی ہوئی چيز سے زیادہ ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 124) (6608).
صحيح مسلم (3/ 1261) (1639).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص353).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص693).
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اشعری قبیلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ پہنچا۔ میں نے آپ سے سواری مانگی، تو آپ نے کہا : "اللہ کی قسم! میں تمھیں سواری نہيں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے، جو تمھیں دے سکوں۔" پھر ہم وہاں جتنی دیر اللہ نے چاہا، اتنی دیر رکے۔ اسی درمیان آپ کے پاس کچھ اونٹ آ گئے، تو آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چل پڑے، تو ہمارے بیچ کے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : اللہ ہمارے لیے برکت نہ دے۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آکر سواری مانگی اور آپ نے قسم کھاکر بتایا کہ ہمیں سواری نہيں دے سکیں گے اور پھر دے دی۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے کہا : "سواری میں نے تمھیں نہيں دی ہے۔ سواری تو تمھیں اللہ نے دی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھوں گا، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا، جو بہتر ہو۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انھیں سواری کے لیے کچھ اونٹ دیں، تاکہ وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھاکر بتا دیا کہ آپ انھیں سواری نہيں دے سکتے۔ آپ کے پاس انھیں دینے کے لیے سواری کا انتظام نہيں ہے۔ لہذا واپس ہو گئے۔ کچھ دیر رکے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تین اونٹ آئے، تو ان کے یہاں بھجوا دیے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے دیگر لوگوں سے کہا : اللہ ہمار لیے ان اونٹوں میں برکت نہ دے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ لہذا وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا، تو آپ نے کہا : تمھیں سواری تو دراصل اللہ نے دی ہے۔ کیوں کہ انتظام اسی نے کیا ہے اور توفیق اسی نے دی ہے۔ میں تو بس ایک سبب ہوں کہ یہ میرے ہاتھوں انجام پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم، جب بھی میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھاؤں گا اور بعد میں دیکھوں گا کہ میں نے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اس سے بہتر کام دوسرا ہے، تو قسم کھائے ہوئے کام کو چھوڑ کر دوسرا کام، جو اس سے بہتر ہے، اسے کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
فوائد
کسی خبر کی تاکید کے لیے، خواہ وہ مستقبل ہی سے جڑی ہوئی کیوں نہ ہو، قسم کے مطالبہ کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
قسم کے بعد "اگر اللہ نے چاہا" کہہ کر استثنا جائز ہے۔ استثنا کی نیت جب قسم کے ساتھ ہی کر لی جائے اور وہ قسم کے ساتھ جڑی ہوئی ہو، تو قسم توڑنے والے پر کفارہ واجب نہيں ہوگا۔
اس بات کی ترغیب کہ جب کوئی شخص کسی چيز کی قسم کھالے اور اس کے بعد دیکھے کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے، تو اپنی قسم توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 146) (6718).
صحيح مسلم (3/ 1268) (1649).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص345).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص682).
عن أبي هُريرة رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: "قال سليمان بن داود -عليهما السلام-: لَأَطُوفنَّ الليلةَ على سَبْعينَ امرأةً، تَلِدُ كلُّ امرأةٍ منهن غُلامًا يقاتلُ في سبيلِ الله، فقِيل له: قل: إن شاءَ الله، فلم يَقُلْ، فطافَ بهنَّ، فلم تَلِدْ منهن إلا امرأةٌ واحدةٌ نصفَ إنسانٍ". قال: فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "لو قالَ: إن شاء الله لم يَحْنَثْ، وكان دَرَكًا لحاجتهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیھما السلام نے کہا کہ :آج رات میں ستر (70) بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔، ان سے کہا گیا: آپ ”اِن شاء اللہ“ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اگر انہوں نے اِن شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے اپنے ہم نشیں سے کہا کہ وہ ایک رات اپنی ستر (70) بیویوں کے پاس جاکر ان کے ساتھ جماع کریں گے۔ خیال رہے کہ ان کی شریعت میں یا ان کی خصوصیات میں سے یہ بات تھی کہ اس قدر تعداد میں بیویوں سے نکاح جائز تھا۔ ان کی نیت یہ تھی کہ ان میں سے ہر بیوی کے بطن سے ایک ایک مجاہد پیدا ہو۔ چنانچہ ان کے ایک ہم نشیں ورفیق کار نے ان سے کہا کہ آپ ”اِن شاء اللہ“ کہہ لیں، تاہم وہ یہ کہنا بھول گئے اور اپنے عزم کے مطابق، اپنی بیویوں کے پاس چلے گئے، نتیجتا ان کی تمام بیویوں میں سے محض ایک بیوی نے ایک آدھے یعنی ادھوری اور نامکمل تخلیق کےحامل بچے کو جنم دیا۔ نبی ﷺ نے اس حدیث میں اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر سلیمان علیہ السلام ”ان شاء اللہ“ کہہے ہوتے، تو اپنی قسم توڑنے والے نہ ہوتے اور یہ کلمۂ استثنا کہنا، ان کی حاجت و ضرورت کو پالینے اور ان کی خواہش کو پایۂ ثبوت تک پہنچانے کا سبب بن جاتا۔
حوالہ
-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
-صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
-عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
-تأسيس الأحكام، للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه.
-تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
-الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط. دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى 1381هـ.
عن كَعْب بن مالك رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إن مِن تَوبتي أن أَنْخَلِعَ مِنْ مالي؛ صدقةً إلى الله وإلى رسولِه، فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "أمسِكْ عليك بعضَ مالِكَ؛ فهو خيرٌ لكَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے راستے میں دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو، تو تمھارے حق میں یہ بہتر ہوگا۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، ان تین صحابہ میں سے ایک تھے، جو غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے اور پیچھے رہ جانے کی وجہ کسی طرح کا نفاق یا عذر نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ کی اس غزوے سے واپسی ہوئی، تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ قطع تعلق فرمالیا اور اپنے صحابہ کو بھی ان سے قطع تعلق کرنے کی ہدایت فرمادی۔ یہ قطع تعلقی کا سلسلہ جاری رہا، تاآں کہ سورۂ توبہ نازل ہوئی اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی نصیب ہوئی اور رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام بھی ان سے راضی ہو گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور توبے کی قبولیت سے کعب رضی اللہ عنہ اس قدر فرحاں و شادماں ہوئے کہ اپنے سارے مال کو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی میں صدقہ کرنے کا عزم کرلیا، تاہم نبی ﷺ نے انھیں اس سے باز رہنے کی رہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے پاس کچھ مال رکھ لو۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جب یہ بات آگئی کہ وہ اپنی نیت میں بالکل راست باز اور ان کی توبہ خالص ہے، تو اس نے ان کے گناہ بخش دیے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔ ایسے میں وہ یہ صدقہ نہ بھی کرتے (تو کوئی فرق نہیں پڑتا)، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده کا مکلف نہیں بناتا۔ پھر انھوں نے اللہ کی رضا وخوش نودی سے خوش ہوکر اپنا کچھ مال صدقہ کردیا؛ تاکہ اپنے پروردگار کے پاس اجر و ثواب کے ذخائر کا ذخیرہ ہو اور کچھ مال اپنے پاس رکھ چھوڑا؛ تاکہ اپنے مصالح جیسے خود اپنے اور اپنے اہل و عیال کے واجب نفقات پر خرچ کر سکیں۔ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
حوالہ
-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
-صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
-عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
-تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه.
-تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
-الإلمام بشرح عمدة الأحكام, إسماعيل الأنصاري, الطبعة الثانية 1392هـ.
-الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1422- 1428هـ.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے قصہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کا اور ان ایک شخص سے ایک کنویں کو لے کر جھگڑا پیدا ہوگیا، تو وہ اس جھگڑے کے تصفیے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا!“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ ان کا مخالف قسم کھالے گا اور اسے اس کے گناہ کی چنداں پروا نہ ہوگی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس امکان کا اظہار بھی کردیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے...“۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت قسم کی وعید ہے، جو کسی شخص کا مال ناحق ہڑپ لیتے ہیں، وہ اپنے گناہ آمیز جھگڑے اور جھوٹی قسم کے ذریعے اس پر قبضہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، تو وہ ان پر سخت غضب ناک ہوگا اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگیا، اس کی ہلاکت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 121) (2416).
صحيح مسلم (1/ 123) (138).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 136).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص687).
فتاوى اللجنة الدائمة - اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (23/ 513).
عن ثابِت بْن الضَّحَاكِ رضي الله عنه أنه بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة، وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حلف على يمين بملة غير الإسلام، كاذبا مُتَعَمِّدًا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بشيء عُذِّبَ به يوم القيامة، وليس على رجل نَذْرٌ فيما لا يملك» وَفِي رِوَايَة: «ولَعْنُ المؤمنِ كَقَتْلِهِ». وفي رواية: «من ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بها لم يَزِدْهُ اللهُ -عزَّ وجل- إلا قِلَّةً».
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ، جو ان صحابۂ کرام میں سے ہیں، جنھوں نے صلح حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کے موقع پر درخت کے نیچے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین و مذہب کی قسم کھاتے ہوئے یوں کہے:اگر اس نے اس طرح اور ایسے کیا تو وہ یہودی، نصرانی یا مجوسی ہوجائے گا یا کافر ہوجائے گا یا اللہ اور اس کے رسول سے بری و بیزار ہوجائے گا، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے، تو وہ انھی کافر ملتوں میں شمار کیا جائے گا، جن کی جانب اس نے خود کو منسوب کیا۔
جس نے تلوار یا چاقو یا پستول کی گولی جیسے دیگر کسی قتل کے اوزار سے خود کو قتل کرلیا، اس کو اسی اوزار سے قیامت تک عذاب دیا جائے گا۔
جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، جیسے کوئی یہ نذر مانے کہ وہ فلاں غلام کو آزاد کردے گا یا فلاں کے مال میں سے اتنا صدقہ و خیرات کرے گا، تو اس کی نذر بے کار و کالعدم ہوگی؛ کیوں کہ وہ نذر ،صحیح موقع و محل میں وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔
جو شخص کسی مومن پر لعنت کرے، تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا؛ کیوں کہ لعنت کرنے والا اور قاتل دونوں، اللہ تعالیٰ کی قابل حرمت مخلوق کی پامالی کے مرتکب ہونے میں برابر کے شریک ہیں، اسی بنا پر دونوں کے حق میں ایک ہی طرح کا گناہ لکھا جائے گا اور دونوں ایک ہی طرح کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔
جو شخص اپنی بڑائی کے اظہار میں اور مال، علم، حسب و نسب،فضل و شرف، منصب و جاہ اوردیگر امور کی کثرت کے بارے میں ایسےجھوٹے دعوے کرے،جو حقیقت سے پرے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر چیز میں ذلت وخواری اور پستی کو زیادہ کردے گا؛ کیوں کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کو ایسے امور کے ذریعے اونچاو بلند کرنا چاہا، جن کا اس میں وجود ہی نہیں۔ لہٰذا اس کو اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی سزا دی جائے گی۔
حوالہ
1- صحيح البخاري، دار طوق النجاة ط 1422هـ.
2- صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي.
3- الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري.ط دار الفكر، بدمشق، الطبعة الأولى 1381هـ.
4- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، تحقيق: محمد صبحي بن حسن حلاق، نشر: الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426 هـ - 2006 م.
5- تأسيس الأحكام للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.
عن عبد الله بن مسعودٍ رضي الله عنه مرفوعًا: (من حلف على يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان)، ونزلت: (إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا) إلى آخر الآية".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کے مال پر ناحق قبضہ کرلے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ غضب ناک ہوگا“۔ اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً...﴾ ”کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی دولت خریدتے ہیں...“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جو کسی مسلمان کا مال ناحق ضبط ہتھیا لے۔ اس کے لیے وہ ناجائز جھگڑے اور جھوٹی و گناہ آمیز قسم کا سہارا لے۔
ایسا شخص جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس پر اللہ ناراض ہوگا۔ اور جس پر اللہ کا غصہ اترا، وہ تباہ ہو گیا۔ پھر رسو ل اللہ ﷺ نے اس سخت وعید کی قرآن کریم سے تصدیق کے لیے یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت کی ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً...﴾
حوالہ
- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com