سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

یہ آیت کریمہ : {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225] (اللہ تمھاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا) آدمی کے "نہیں، اللہ کی قسم" اور "ہاں، اللہ کی قسم" کہنے کے بارے میں اتری تھی۔

عن عائشة رضي الله عنها : "أُنْزِلَتْ هذه الآية: {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225] في قول الرجل: لا والله وبَلَى والله".
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "یہ آیت کریمہ : {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225] (اللہ تمھاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا) آدمی کے "نہیں، اللہ کی قسم" اور "ہاں، اللہ کی قسم" کہنے کے بارے میں اتری تھی"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ تعالی کے فرمان : {لَا يُؤَاخِذُكُمُ الله بِاللَّغْوِ في أَيْمَانِكُمْ} [المائدة: 89] (اللہ تمھاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا) میں مذکور لغو قسم کی تفسیر کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس سے مراد بات چیت کے وقت بلا قصد و ارادہ لوگوں کی زبان پر بار بار آنے والے قسمیہ الفاظ، جیسے نہیں اللہ کی قسم اور ہاں اللہ کی قسم وغیرہ ہیں۔ اسی طرح آیت میں مذکور لغو یمین کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کسی ایسی گزری ہوئی بات کے بارے میں قسم کھائے، جسے وہ ویسی ہی سمجھتا ہو، جیسی اس نے کہا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ معاملہ اس کے ظن و گمان کے برخلاف تھا۔ یہی حال اس قسم کا بھی ہے، جو آدمی یہ سمجھ کر کھائے کہ وہ سچا ہے، لیکن معاملہ اس کے برخلاف ظاہر ہو۔ اس طرح کی قسم بھی لغو اور غیر مؤثر ہے اور اس کا کفارہ بھی نہیں دینا ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {لَا يُؤَاخِذُكُمُ الله بِاللَّغْوِ في أَيْمَانِكُمْ} یعنی تمھیں ان کی سزا نہیں دے گا اور تمھیں ایسی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا بھی پابند نہيں بنائے گا، جو آدمی بلاقصد و ارادہ کھائے۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آدمی یہ سمجھ کر قسم کھائے کہ فلاں آدمی کوئی کام کرے گا، لیکن نہ کرے۔ مثال کے طور پر کوئی دوسرے کے بارے میں یہ قسم کھائے کہ وہ اس کی بات مان لے گا، لیکن وہ نہ مانے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر، لیکن اس آیت کے ضمن میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی تفسیر سب سے پہلے شامل ہوگی۔ کیونکہ انھوں نے نزول وحی کا مشاہدہ کیا ہے اور وہ عربی زبان سے بھی واقف ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري، المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام،محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة، الطبعة الأولى، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح الفوزان، اعتناء عبد السلام السلمان، الرياض، الطبعة الأولى، 1427. منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري، الناشر: دار الفلق، الرياض - الطبعة: السابعة، 1424 هـ. سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قسمیں اور نذریں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com