سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کی آمد تک خاموش رہنا جائز ہے۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: «لاَ يُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ، وَلاَ صُمَاتَ يوم إلى الليل».
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموش رہنا جائز ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

پہلی بات: جب کوئی شخص بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں شمار کیا جائے گا۔ دوسری بات: زمانہ جاہلیت میں لوگ خاموش رہ کر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آدمی سارا دن چپ رہتا اور کوئی بات نہ کرتا یہاں تک کی سورج غروب ہوجاتا۔ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا کیوں کہ اس سے تسبیح و تہلیل، تحمید، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور قرآن کی قراءت وغیرہ جیسے اعمال چھوٹ جاتے ہیں اور اس سے اس لئے بھی منع کیا گیا ہے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا ایک عمل ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبو داود السجستاني، دار الفكر، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية - 1405 – 1985. كنوز رياض الصالحين، تأليف حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، ط1-1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قسمیں اور نذریں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com