سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔

عن عَبْدُ الله بْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنه قال: «استَفْتَى سعد بن عُبَادَةَ رسول الله في نَذْرٍ كان على أمِّه، تُوُفِّيَتْ قبل أَنْ تقضيَهُ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فاقْضِهِ عنها».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

سعد رضی اللہ عنہ کی ماں وفات پا گئیں اور اپنے ذمہ واجب ایک نذر کو پورا نہ کر سکیں۔ ان کے بیٹے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اپنی والدہ کی طرف سے اس نذر کو پوری کرنے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ: اپنی والدہ کی طرف سے اسے پوری کرو۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قسمیں اور نذریں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com